جب " اسفل السافلین " کے درجہ پر ہو تو کوئی پیمانہ ایسا نہیں جو کہ اس کے ظلم اور لاپرواہی کو ناپ سکے ۔۔ ویسے وہ " لاپرواہی " جو کہ " صفت بے نیازی " پر استوار ہو ۔ محبوب کا وزن رکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ظلم تو بہرحال ظلم ہے ۔ اور اللہ کے غضب کا حقدار ۔۔۔۔۔
شکریہ برادر۔ آج صبح میری کولیگ کا ٹیکسٹ آیا تھا کہ اس کی معذور ماں گر گئی ہے وہیل چیئر سے۔ اس کی مدد کرنے جا رہی ہے تو اسے دیر ہو جائے گی، اگر میں اس کی جگہ آفس سنبھال لوں۔ خیر میں تین گھنٹے اپنے وقت سے قبل چلا گیا تھا
جب وہ پہنچی تو بتایا کہ اس کی معذور ماں (شوگر کی وجہ سے دونوں ٹانگیں کاٹی دی گئی ہیں) اپنی وہیل چیئر سے بیڈ پر منتقل ہوتے وقت رات کو نو بجے گر گئی تھی۔ تین بجے اس نے اپنی بیٹی یعنی میری کولیگ کو فون کیا کہ یہ صورتحال ہے۔
میری کولیگ نے اپنی ماں کو بتایا کہ اس وقت تو مشکل ہے۔ صبح دیکھیں گے۔ رات نو بجے سے صبح آٹھ بجے تک معذور ماں اپنے کمرے کے فرش پر بیٹھی رہی، پھر جا کر اسے بستر نصیب ہوا۔ بیٹی کا گھر محض دو کلومیٹر دور تھا۔ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ سب سن کر میری کیا کیفیت ہوئی ہوگی
بظاہر صاف سھترا نظر آنے والا انسان جب گندگی پہ اترتا ہے تو ،
باہر کی کوئی غلاظت یا تعفن انسان کے ذہن کے اندر موجود غلاظت یا تعفن کا مقابلہ نہیں کر سکتا _
اور یہ بات صرف وہ ہی سمجھ سکتے ہیں جن کا ایسے انسانوں سے واسطہ پڑتا ہے ۔
ظلم تو بہرحال ظلم ہے ۔ اور اللہ کے غضب کا حقدار ۔۔۔۔۔