@نیرنگ خیال : اور کیا۔ میں بھی پہلے یہی سمجھ کر یہاں آئی تھی کہ کافی 'دلچسپ' قسم کے تبصرے ہوں گے لیکن احمد نے پہلے ہی اپنی بچت کر لی ایک عدد وضاحتی تبصرہ کر کے۔ D-:۔
اور یہ آپ کا میرا بھی ان چاروں پانچوں میں شمار کا کیا مطلب ہے؟ کرکٹ میں دلچسپی رکھنے والوں میں؟ ۔۔جی میں بالکل ان میں شامل ہوں۔ گھر میں ناظرین کو چائے پانی سپلائی کرنا اور پھر اوور تبدیل ہونے کے وقفے کا فائدہ اٹھا کر اپنی بات قسطوں میں پوری کرنے اور سامنے پڑے کھانے کو صبر سے دیکھتے ہوئے میچ کے ختم ہونے کے انتظار کرنے میں مہارت صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب آپ میچ کے پل پل کی خبر رکھیں۔ D-:۔
کاشفی بھائی ۔۔۔۔! قافیے ردیف تو بدلتے رہتے ہیں، مشق کی خاطر مصڑع بھی بدلنا پڑتا ہے۔ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان بھی بدل جاتا ہے۔ اُس کی سوچ، اُس کے خیالات، اُس کا برتاؤ سب چیزیں ہی عمر بھر تغیر پذیر رہتی ہیں۔ ہمیں تو دعا یہ کرنی چاہیے کہ جو بھی تبدیلی آئیے مثبت آئے۔
@فرحت کیانی ۔۔۔۔! احتیاط ضروری تھی ورنہ لینے کے دینے پڑ سکتے تھے۔ بقول شاعر : "میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ میری بات ۔۔۔ خوشبو کی طرح اُڑ کے ترے دل میں اُتر جائے" ۔۔۔ کیوں کہ ایسے معاملات میں کچھ کہنے سے خوفِ فسادِ خلق کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔
@نیرنگ خیال: کیوں بھئی ۔ یہ میرا فرض اور دوسروں کا حق ہے کہ میں اپنے قیمتی خیالات ان تک پہنچا سکوں اور ظاہر اس کے لئے مجھے بات تو کرنی ہی ہوں گی نا D-:۔ اور بالکل میں نہ صرف امجد اسلام امجد بلکہ شخصے نامی شاعر کے الفاظ 'ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں' کی بھی قائل ہوں۔D-: