ہمیں تو کوئی ایسی نصیحت نظر نہ آئی عاطف بھائی۔ کہیں بھوسے میں سوئی کی مانند تو نہیں چھپی ہوئی۔ خیر اب تو وقار بھیا خبر لینے والے اس کیفیت نامہ کے حوالے سے۔ دیکھئے ان کی پٹاری سے اب سانپ نکلے یا شیش ناگ۔ بس ہمیں ذرا دور ہی سے نظارہ کرنا ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ ہم نے مارے غصے کے غور کرنا ہی نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ کوشش کر بھی لی تو تنیجہ صفر ہی رہنا۔ اب اداسی میں بندہ منفی منفی ہی رہتا ہے۔
تیسرا یہ کہ
وہ تو اس شاعر نے خود کشی کر لی ورنہ ہمارے ہاتھوں میں کھجلی شروع ہو چکی ۔ اب بندہ پوچھے کہ اتنی مستند اطلاعات عالم بالا تک انھیں پہنچا کون رہا ہے بھلا
بھئی استانی جو سزائیں دے گی، بیجا بیجا ہو جائے گی۔
کان پکڑیں ۔
مرغا بنیں۔
محفل سے نکل جائیں۔
ہاتھ آگے کریں اور ڈنڈے کھائیں۔
کرسی پہ کھڑے ہو جائیں۔
اور جو سزا میں اصل میں دیتی ہوں اور بہت فائدے مند بھی رہتی ہے کہ "یہ سبق" پچاس بار، بیس مرتبہ، پندرہ مرتبہ لکھ ہے لائیں۔
ایویں بحث چھیڑنے والی کوسزائیں دینی ہیں۔ ہم وعدہ معاف گواہ ہیں جنھوں نے شاعروں کی بعد از مرگ شاعری سے پردہ اٹھانے کی ٹھانی ہے۔ کسی بھول میں مت رہئیے گا کہ آپ کی فائل نہ کھلے گی۔ علی وقار عرف بھلکڑ قاضی بھیا نے تو باقاعدہ عدالت میں ایک کھاتہ کھول لیا ہے۔