محمداحمد شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان سعودیہ نے ہفتے کی شام کیا۔ اس وقت چاند کی عمر صرف چند گھنٹے تھی اور اس کا نظر آنا ناممکن تھا۔ گھنٹوں بعد جب امریکا میں شام ہوئی تو یہاں چاند نظر نہ آیا۔ نتیجتاً سعودیہ، کچھ عرب ممالک اور یورپ و شمالی امریکا میں جو مساجد چاند کے معاملے میں سعودی عرب کی پیروی کرتے ہیں وہاں اتوار کو عید ہوئی جو کہ چاند حساب سے غلط تھی۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ یہ سعودیہ کا اکثر کا طرز عمل ہے۔ خیر وہ جو کر رہے ہیں وہ ان کی ذمہ داری لیکن دیگر ممالک میں جو مسلمان و علما ان کو جانتے بوجھتے فالو کر رہے ہیں اس کا کیا عذر ہے؟
سعودیہ کا رؤیت ہلال میں غلطیاں کرنا بہت پرانا مسئلہ ہے اوراسی قدر پرانی ان پر تنقید کی تاریخ بھی ہے۔ خاص طور پر مشہور عالم دین اور ماہر فلکیات مولا نا ثمیر الدین قاسمی نے اس جانب بار بار توجہ دلائی ہے اور بہت ہی معقول انداز میں اس پر مدلل بحث کی ہے۔میں نے ان کی تحریرات بہت پہلے زمانہ طالب علمی میں پڑھی تھیں۔ انٹرنیٹ پر ان کی تحریریں اور ویڈیوز بکھری پڑی ہیں۔
دراصل جیساکہ عثمان نے کہا سعودیہ کے حضرات حساب کو جس قدر اہمیت دیتے ہیں اتنی رؤیت کو نہیں دیتے۔ حسابی پیدائش کے مطابق ادنی سے ادنی شہادت بھی ان کے نزدیک کافی سمجھی جاتی ہے جو ظاہر ہے کہ بسا اوقات بالکل ناممکن ہوتی ہے۔
پاکستان میں سعودیہ کے اس طرز عمل کے ہم نواؤں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور انہوں نے ثمیر الدین قاسمی کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔
جو لوگ سعودیہ کی تائید کرتے ہیں ان کے پاس سوائے اس کے کوئی عذر نہیں کہ رؤیت ہلال کے صریح حکم کو پس پشت ڈال کر محض حسابی پیدائش پر اکتفا کیا جائے اور شاید وہ یہی کرتے ہیں۔