اِصلاح کی درخواست ہے۔
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
سربَسر آہُ فُغاں گِریہ و نالہ دِل کا
اب کہ جاتا ہی نہیں درد یہ پا لا دل کا
آرزو ہائے صنم شِکوہِ از رنج و الم
دیکھ حیرا ن ہوں یہ طور نِرالا دِل کا
عروض اور بحور سے نا آشنا ہوں لیکن بہت ہمت کر کہ یہ شعر اصلاح کے لیے پیش کر رہا ہوں.
کِھلتے سے تبسم میں اَدا کوئی اور ہے
اُس رشکِ بہاراں پہ فدا کوئی اور ہے