ز جانم نغمهٔ «الله هو» ریخت
چو گرد از رختِ هستی چار سو ریخت
بگیر از دستِ من سازی که تارش
ز سوزِ زخمه چون اشکم فرو ریخت
[میری روح کے ساز سے نغمۂ "الله ہو" نکلا کہ ہستی کا سارا سامان گرد ہو کر چار سو بکھر گیا۔ (اے میرے ہم نوا!) تُو بھی میرے ہاتھ سے وہ ساز پکڑ لے کہ جس کے تار مضراب کے سوز سے میرے...
نہ جانے پھر مِری جانِ حزیں رہے نہ رہے
یہ روح خانۂ تن میں مکیں رہے نہ رہے
یہ سر رہے نہ رہے، یہ جبیں رہے نہ رہے
ہے ختم سلسلۂ انتظار، آ جاؤ
تمھیں وفا کی قسم، ایک بار آ جاؤ!
براے نام بھی دل میں سُکوں کا نام نہیں
حیاتِ شوق کا پہلا سا وہ نظام نہیں
کہ صبح صبح نہیں، کوئی شام شام نہیں
نہیں ہے زیست کا...
میں اپنے دل کی سب سچّائیوں کے ساتھ
یہ اقرار کرتا ہوں
"میں تم سے پیار کرتا ہوں"
مگر جو کہہ رہا ہوں مَیں
بہت ممکن ہے پورے سچ کی آنچ اس سے نہ گزری ہو
مِرے ہونٹوں پہ جو لفظِ محبّت ہے
بہت ممکن ہے وہ میری ضرورت ہو
محبت اور ضرورت
اپنی اپنی سرحدوں میں قید ہیں
دونوں کی دنیائیں الگ ہیں۔۔
مَیں اک دنیا میں...
ذکر کر دیتے ہیں "بہانے" سے ایک شعر کا:
بہ یک دو شیوہ ستم دل نمی شود خرسند
بہانہ جوی مباش و ستیزہ کار بیا
ہم محفل سے تب اکتا سکتے، جب دماغ اکتا جاتا، اور وہ تو بفضل الٰہی ہمارے پاس ہے ہی نہیں۔
زار زار اپنا حال سناتے ہیں۔
دراصل ہم گھر سے باہر ہیں۔پہلے سفر کر کے ننھیال پہنچے اور آج یہاں سے اسلام آباد کو سفر کیا شادی میں شرکت کی غرض سے۔
اوپر سے ہمارے میڈیکل کالجز کے داخلے کھل چکے ہیں، اور نگوڑی سائٹ کئی دن ہوئے صحیح سے کام نہیں کر رہی۔ ابھی چاے پی تو کچھ ذہن کو سکون ملا۔
بنگر ز جهان چه طَرْف بربستم؟ هیچ
وز حاصلِ عمر چیست در دَستم؟ هیچ
شمعِ طَرَبم، ولی چو بنشستم، هیچ
من جامِ جَمَم، ولی چو بشکستم، هیچ
دیکھ کہ دنیا سے میں نے کیا فائدہ حاصل کر لیا؟ کچھ بھی نہیں!
اور میری عمر کے حاصل میں سے اب میرے ہاتھ میں کیا بچا ہے؟ کچھ بھی نہیں!
میں حالتِ نشاط میں جلنے والی شمع...
اپنی ملکۂ سخن سے
اے شمعِ جوشؔ و مشعلِ ایوانِ آرزو !
اے مہرِ ناز و ماہِ شبستانِ آرزو!
اے جانِ درد مندی و ایمانِ آرزو!
اے شمعِ طُور و یوسفِ کنعانِ آرزو!
ذرے کو آفتاب تو کانٹے کو پھول کر
اے روحِ شعر! سجدۂ شاعر قبول کر
دریا کا موڑ، نغمۂ شیریں کا زیر و بم
چادر شبِ نجوم کی، شبنم کا رختِ نم
تتلی...
ایک تدوین:
یہاں عربی لفظ رُہبان نہیں بلکہ رَہبان فارسی والا ہے یعنی رہنما۔
دوسرے مصرعے کا ترجمہ یوں ہو گا کہ:
اور تیرے رخ سے یہ رات میرے تمام رہبروں کے سامنے روشن ہو جائے۔