اُردو ادب اور کراچی

  1. کاشفی

    چلو فرار خودی کا کوئی صلہ تو ملا - ابھنندن پانڈے

    غزل (ابھنندن پانڈے) چلو فرار خودی کا کوئی صلہ تو ملا ہمیں ملے نہیں اس کو ہمیں خدا تو ملا نشاط قریۂ جاں سے جدا ہوئی خوشبو سفر کچھ ایسا ہے اب کے کوئی ملا تو ملا ہمارے بعد روایت چلی محبت کی نظام عالم ہستی کو فلسفہ تو ملا جو چھوڑ آئے تھے تسکین دل کے واسطے ہم تمہیں اے جان تمنا وہ نقش پا تو ملا...
  2. کاشفی

    تمہارے پاس آتے ہیں تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں - آلوک شریواستو

    غزل ( آلوک شریواستو) تمہارے پاس آتے ہیں تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں محبت اتنی ملتی ہے کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تبسم عطر جیسا ہے ہنسی برسات جیسی ہے وہ جب بھی بات کرتی ہے تو باتیں بھیگ جاتی ہیں تمہاری یاد سے دل میں اجالا ہونے لگتا ہے تمہیں جب گنگناتا ہوں تو راتیں بھیگ جاتی ہیں زمیں کی گود...
Top