سیانے کہتے ہیں کہ اگر آپ ذیل میں دیئے گئے اشعار میں سے کوئی دس سے بارہ اشعار مکمل کرلیتے ہیں تو آپ ادبی ذوق رکھتے ہیں۔
1. نازکی اس کی لب کی کیا کہیئے۔۔
2. یاد ماضی عذاب ہے یا رب۔۔
3. آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہونے تک۔۔
4. زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے۔۔
5 نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن۔۔
6 نہیں...
آنا تو خفا آنا، جانا تو رلا جانا
آنا ہے تو کیا آنا، جانا ہے تو کیا جانا
کیا طبع میں جودت ہے چٹ دل کی اڑا جانا
ہونٹوں کا یہاں ہلنا واں بات کا پا جانا
٭٭٭
شیخ ابراہیم ذوقؔ
کروں درد آشنا کیونکر دلِ احباب اپنا سا
بلا سے جیسا میں ہوں ڈھونڈ لوں بیتاب اپنا سا
مَلَک سجدہ کریں آدم کو کیا بندہ نوازی ہے
دیا بندے کو اپنے اس نے خود آداب اپنا سا
٭٭٭
شیخ ابراہیم ذوقؔ
غزل
محمد ابراہیم ذوقؔ
اُس نے مارا رُخِ روشن کی دِکھا تاب مجھے
چاہیے بہرِ کفن چادرِ مہتاب مجھے
کچھ نہیں چاہیے تجہیز کا اسباب مجھے
عِشق نے کُشتہ کِیا صُورتِ سِیماب مجھے
کل جہاں سے کہ اُٹھا لائے تھے احباب مجھے
لے چلا آج وہیں پِھر دِلِ بے تاب مجھے
چمنِ دہر میں جُوں سبزۂ شمشِیر ہُوں مَیں
آب کی...
"محبت ہو کہ رہتی ہے"
ہماری ایک آزاد نظم
محبت کی کہانی میں بدن
گر ہار بھی جائے
تمازت کم نہیں ہوتی
محبت روح کی مستی
محبت با صفاء جذبہ
محبت نور کا بندھن
محبت روح کا ایندھن
محبت نالہ آدم
محبت نوح کا ماتم
محبت طور پر روشن
محبت ہر صدی اور ہر زمانے میں
ہر اک ظالم سے ٹکرائی
کبھی طائف کی گلیوں میں...
اُردو
(اقبال اشہر)
اردو ہے مرا نام میں خسرو کی پہیلی
میں میر کی ہمراز ہوں غالب کی سہیلی
دکن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا
سودا کے قصیدوں نے میرا حُسن بڑھایا
ہے میر کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا
میں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی
اردو ہے مرا نام میں خسرو کی پہیلی
غالب نے بلندی کا سفر مجھ کو...
غزل
نگہ کا وار تھا دل پر، پھڑکنے جان لگی
چلی تھی برچھی کسی پر، کسی کے آن لگی
ترا زباں سے ملانا زباں جو یاد آیا
نہ ہائے ہائے میں تالو سے پھر زبان لگی
کسی کے دل کا سنو حال دل لگا کر تم
جو ہووے دل کو تمہارے بھی، مہربان لگی
تو وہ ہے ماہ جبیں مثلِ دیدۂ انجم
رہے ہے تیری طرف چشمِ یک جہان لگی
خدا...
غزلِ
شیخ محمد ابراہیم ذوق
برسوں ہو ہجر، وصل ہو گر ایک دَم نصِیب
کم ہوگا کوئی مجھ سا محبّت میں کم نصِیب
گر میری خاک کو ہوں تمھارے قدم نصِیب
کھایا کریں نصِیب کی میرے قسم نصِیب
ماہی ہو یا ہو ماہ، وہ ہو ایک یا ہزار!
بے داغ ہو نہ دستِ فلک سے درِم نصِیب
بہتر ہے لاکھ لُطف و کرم سے تِرے...
غزل
جب چلا وہ مجھ کو بِسمِل خوں میں غلطاں چھوڑ کر
کیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتِل کا داماں چھوڑ کر
میں وہ مجنوں ہُوں جو نِکلوں کُنجِ زِنداں چھوڑ کر
سیبِ جنّت تک نہ کھاؤں سنگِ طِفلاں چھوڑ کر
میں ہُوں وہ گمنام، جب دفتر میں نام آیا مِرا
رہ گیا بس مُنشیِ قُدرت جگہ واں چھوڑ کر
سایۂ سروِ چمن تجھ...
بلبل ہوں صحنِ باغ سے دور اور شکستہ پر
پروانہ ہوں چراغ سے دور اور شکستہ پر
کیا ڈھونڈے دشتِ گمشدگی میں مجھے کہ ہے
عنقا مرے سراغ سے دور اور شکستہ پر
اُس مرغِ ناتواں پہ ہے حسرت جو رہ گیا
مرغانِ کوہ و راغ سے دور اور شکستہ پر
ساقی بطِ شراب ہے تجھ بن پڑی ہوئی
خُم سے الگ ایاغ سے دور اور شکستہ پر
خود...
رندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تُو
تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تُو
ناخن نہ دے خدا تجھے اے پنجۂ جنوں
دے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تُو
اس صیدِ مضطرب کو تحمل سے ذبح کر
دامان و آستیں نہ لہو میں لتھیڑ تُو
چھٹتا ہے کون مر کے گرفتارِ دامِ زلف
تربت پہ اس کی جال کا پائے گا پیڑ تُو
اے زاہدِ دو رنگ...
ساقیا عید ہے، لا بادے سے مینا بھر کے
کہ مے آشام پیاسے ہیں مہینا بھر کے
آشناؤں سے اگر ایسے ہی بے زار ہو تُم
تو ڈبو دو انہیں دریا میں سفینا بھر کے
عقدِ پرویں ہے کہ اس حقۂ پرویں میں مَلَک
لاتے ہیں اُس رخِ روشن سے پسینا بھر کے
دل ہے، آئینہ صفا چاہیے رکھنا اِس کا
زنگ سے دیکھ نہ بھر اس میں تو کینا...
کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے
اُن کا بندہ ہوں جو بندے ہیں محبت والے
چاہیں گر چارہ، جراحت کا محبت والے
بیچیں الماس و نمک سنگِ جراحت والے
گئے جنت میں اگر سوزِ محبت والے
تو یہ جانو رہے دوزخ ہی میں جنت والے
صبحِ محشر کو بھی اٹھیں نہ ترے متوالے
ساقیا ہوں جو صبوحی کی نہ عادت والے
دخترِ رز...
کب حق پرست زاہدِ جنت پرست ہے
حوروں پہ مر رہا ہے، یہ شہوت پرست ہے
دل صاف ہو تو چاہیے معنی پرست ہو
آئینہ خاک صاف ہے، صورت پرست ہے
درویش ہے وہی جو ریاضت میں چست ہو
تارک نہیں فقیر بھی، راحت پرست ہے
جز زلف سوجھتا نہیں اے مرغِ دل تجھے
خفّاش٭ تو نہیں ہے کہ ظلمت پرست ہے
دولت کی رکھ نہ مارِ سرِ گنج...
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی
تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے
خالی اے چارہ گرو! ہوں گے بہت مرہم واں
پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے
پہنچیں گے رہِ گزرِ یار تلک کیوں کر ہم
پہلے جب تک نہ دو عالم سے...
آفس میں بیٹھا کام میں مصروف تھا کہ چپراسی ڈاک کا بنڈل ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا ۔سب سے پہلی نظر فرائڈے اسپیشل پر پڑی ،مشمولات دیکھنے کے بعد" حاصل مطالعہ "کالم کے تحت اس مضمون پر نگاہ ٹک گئی ،پڑھا تو بہت اچھا لگا اسی وقت سوچا محفل میں اسے شیر کروں گا اور احباب کو بھی بھیجوں گا ۔میں نے اسی وقت اسے...
دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا
سن لیجیو کہ عرش کا ایوان بہہ گیا
بل بے گدازِ عشق کہ خوں ہو کے دل کے ساتھ
سینے سے تیرے تیر کا پیکان بہہ گیا
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
ہے موجِ بحرِ عشق وہ طوفاں کہ الحفیظ
بے چارہ مشتِ خاک تھا انسان بہہ گیا
دریائے...
میرؔ کی عظمت کا اعتراف اساتذہ کی زبان سے:
سوداؔ:
مرزا سوداؔ جو میرؔ صاحب کے ہمعصر اور مدِّ مقابل تھے، کہتے ہیں
سوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی لکھ
ہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرح
ناسخ:
شیخ ناسخؔ جو اپنی تنک مزاجی اور بد دماغی کے لئے مشہور ہیں، کہتے ہیں
شبہ ناسخؔ نہیں کچھ میرؔ کی استادی...
عزیزو! اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو
یہ عمرِ رفتہ کی اپنی صدائے پا سمجھو
بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو
زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
نہ سمجھو دشتِ شفا خانۂ جنوں ہے یہ
جو خاک سی بھی پڑے پھانکنی، دوا سمجھو
سمجھ تو کور سوادوں کو ہو جو علم نہ ہو
اگر سمجھ بھی نہ ہو کورِ بے عصا سمجھو...