معراج نامہ

  1. الف نظامی

    حسنِ مستور ہوا جلوہ نما آج کی رات

    حسنِ مستور ہوا جلوہ نما آج کی رات چار سو پھیلے ہیں انوار و ضیا آج کی رات مستیء کیف میں ڈوبی ہے صبا آج کی رات سارے عالم پہ ہے اک رنگ نیا آج کی رات نور کے جلووں میں لپٹی ہے فضا آج کی رات سیر کو نکلا ہے اک ماہ لقا آج کی رات حور و غلماں کی زباں پر ہیں خوشی کے نغمے لبِ جبریل پہ ہے صلِ علی آج کی...
Top