جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے
تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے
دو دن میں ہم تو ریجھے اے وائے حال ان کا
گزرے ہیں جن کے دل کو یاں ماہ و سال باندھے
تارِ نگہ میں اس کے کیونکر پھنسے نہ یہ دل
آنکھوں نے جس کے لاکھوں وحشی غزال باندھے
جو کچھ ہے رنگ اس کا سو ہے نظر میں اپنی
گو...
بہار بے سپرِ جامِ یار گزرے ہے
نسیم تیر سی چھاتی کے پار گزرے ہے
شراب، حلق سے ہوتی نہیں فرو تجھ بِن
گلوئے خشک سے تیغ آبدار گزرے ہے
گزر مِرا تِرے کوچے میں گو نہیں تو نہ ہو
مِرے خیال میں تُو لاکھ بار گزرے ہے
سمجھ کے قطع کر اب پیرہن مِرا خیّاط
نظر سے چاک کے یاں تار تار گزرے ہے
ہزار حرف شکایت کا،...
غزل
زہے وہ معنیِ قرآں، کہے جو تُو واعظ
پھٹے دہن کے تئیں اپنے، کر رفو واعظ
مجھے یہ فکر ہے تُو اپنی ہرزہ گوئی کا
جواب دیوے گا کیا حق کے روبرو واعظ
خدا کے واسطے چپ رہ، اتر تُو منبر سے
حدیث و آیہ کو مت پڑھ توُ بے وضو واعظ
سنا کسی سے تُو نامِ بہشت، پر تجھ کو
گلِ بہشت کی پہنچی نہیں ہے بُو واعظ...
جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا
ہاتھ سے دل کے ترے اب میں نکل جاؤں گا
لطف اے اشک کہ جوں شمع گھُلا جاتا ہوں
رحم اے آہِ شرر بار! کہ جل جاؤں گا
چین دینے کا نہیں زیرِ زمیں بھی نالہ
سوتوں کی نیند میں کرنے کو خلل جاؤں گا
قطرہء اشک ہوں پیارے، مرے نظّارے سے
کیوں خفا ہوتے ہو، پل مارتے ڈھل جاؤں...
غزل
(مرزا محمد رفیع دہلوی متخلص بہ سوداؔ)
بولو نہ بول شیخ جی ہم سے کڑے کڑے
یہاں چٹ کیئے ہیں اس سے عمامہ بڑے بڑے
کیا میکدے میں آ کے چومے گا محتسب؟
پیوینگے اُس کی ضد سے تو اب ہم گھڑے گھڑے
قامت نے تیرے باغ میں جا خطِ بندگی
لکھوا لیا ہے سردِ چمن سے کھڑے کھڑے
ملجا گلے سے...
غزل
(مرزا محمد رفیع دہلوی متخلص بہ سوداؔ)
یہ میں بھی سمجھوں ہوں یارو، وہ یار یار نہیں
کروں میں کیا کہ مرا دل پہ اختیار نہیں
عبث تو سر کی مرے ہر گھڑی قسم مت کھا
قسم خدا کی ترے دل میں اب وہ پیار نہیں
میں ہوں وہ نخل کہ جس نخل کو قیامت تک
بہار کیسی ہی آوے تو برگ و...
غزل
بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا
ہم نے اُسے ہر خارِ بیابان میں دیکھا
روشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخا
جس نور کو تُو نے مہِ کنعان میں دیکھا
برہم کرے جمعیّتِ کونین جو پل میں
لٹکا وہ تری زلفِ پریشان میں دیکھا
واعظ تو سنی بولے ہے جس روز کی باتیں
اُس روز کو ہم نے شبِ ہجران میں دیکھا
اے...