سمجھیے جیسے مر گیا ہوں میں
خود سے خود ہی بچھڑ گیا ہوں میں
آپ کو کیا بتاؤں حال اپنا
اپنی قسمت سے لڑ گیا ہوں میں
جانتا تھا وفا نہیں ملنی
پھر بھی ان ہی پہ مر گیا ہوں میں
دیکھ کر خود کو آج آئینے میں
ایک بار پھر بکھر گیا ہوں میں
ان کا اب ذکر بھی نہیں کرتا
لگ رہا ہے بگڑ گیا ہوں میں
اب کسی سے...
جو تیری بات سنیں ان سے نبھا کیوں نہیں کرتے؟
جو تجھے چاہتے ہیں ان سے وفا کیوں نہیں کرتے؟
ہر کسی سے ہے تمہیں ذوق شناسائی مگر سن
تم کسی ایک ہی چہرے پہ ڈٹا کیوں نہیں کرتے؟
یہ تمہاری ہے ادا یا کہ جلانا ہمیں مقصود
تم رقیبوں سے مری جان بچا کیوں نہیں کرتے؟
ہجر کے دور کی تلخی ہے، بُجھے رہتے ہیں
تم مرے...
ہجر میں ہم نے صنم جتنے زخم جھیلے ہیں
پوچھیے مت! سبھی یہ آپ کے وسیلے ہیں
کبھی چاہو، تو آ جانا! ہمارے پاس کہ اب بھی
تمہارے بن، قسم تیری! بہت زیادہ اکیلے ہیں
بھلے ہی عشق سننے میں بہت بے کار لگتا ہے
سبھی گلشن کے رنگ و ڈھنگ اسی سے ہی سجیلے ہیں
ہمیں تو یاد ہے اب بھی تمہارا روٹھ کر کہنا
چلے جاؤ کہ...
نگاہ تم سے ملا کر ہم مئے خانہ بھول جاتے ہیں
تمہیں پا کر قسم تیری زمانہ بھول جاتے ہیں
تیرے رخسار کی شوخی اثر کرتی ہے بھنوروں پر
کہ ان کی مست رنگت سے وہ کلیاں بھول جاتے ہیں
ہمیں جب بھی کبھی آیا ہے غصہ اُس کی باتوں پر
وہ چہرہ پھول سا دیکھیں تو غصہ بھول جاتے ہیں
کِیا کیا کچھ نہیں ہم نے سبھی کچھ...
www.facebook.com/javed.chaudhry
ہماری فلائٹ اسلام آباد سے لاہور ’’ ڈائی ورٹ‘‘ ہو گئی‘ اسلام آباد میں بارش‘ آندھی اور طوفان تھا اور اسلام آباد دنیا کے ان چند دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے جن میں بارش کے دوران لینڈنگ نہیں ہو سکتی‘ آپ دنیا کے کسی کونے میں چلے جائیں آندھی ہو‘ طوفان ہو‘ بارش ہو یا...
اتنا دل گیر ہو کے جانا ہے
آنکھ سے نیر ہو کے جانا ہے
رنگ لمحوں کو کیسے تھامتے ہیں
آج تصویر ہو کے جانا ہے
آدمی کِتنا ٹوٹ جاتا ہے
میں نے تعمیر ہو کے جانا ہے
لفظ مضمون میں ڈھلا کیسے
خود پہ تحریر ہو کے جانا ہے
رُتبہ ِ دشت و آبلہ پائی
پاء بازنجیر ہو کے...
کوشش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
آؤ بھائی دیا جلائیں
اندھیاروں کی اس نگری میں
اندھیاروں کا جیا جلائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وصّیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
وقت جب آگ کہانی لِکھے
تو ہر انساں پر واجب ہے
اِک کاغذ پر پانی لِکھے
ایک سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
آباد زمیں کو
دیکھ کے سورج
کیوں جلتا ہے؟؟؟
دیکھا...
ہوا جو ہو گئے ہیں خواب سارے
اُنہیں میں باغ تھے شاداب سارے
جواں عزمِ مُسلسل اور یہ رستہ
سفر کو ہیں یہی اسباب سارے
مُجھے مصلوب کرنا چاہتے تھے
کہاں ہیں آج وہ احباب سارے
مری آنکھیں ذرا نم ہو گئی ہیں
نظارے ہو گئے غرقاب سارے
تری نظروں میں گر میں ہی زمیں ہوں
کہاں ہیں پھر بتا مہتاب سارے...
سُن لے اے مری جان تُجھے چاند مُبارک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل عید کا دن لائے گا خُوشیاں ترے گھر میں
تُو یاد ہمیں بھی گھڑی بھر کے لیے کرنا
ہم تجھ سے طلب اور تو کُچھ بھی نہیں کرتے
بس ایک دُعا ، ایک دُعا ، ایک دُعا بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ش زاد
قصہ و داستاں نہیں ہونا
مُجھ کو یوں رائیگاں نہیں ہونا
ہے نشانی خِزاں کے آنے کی
باغ میں باغباں نہیں ہونا
مُجھ کو رہنا ہے اپنے پاؤں تلے
بے سُتوں آسماں نہیں ہونا
یار ہونا یا پھِر عدو ہونا
دیکھنا درمیاں نہیں ہونا
خاطرِ ش زاد پر ہے گِراں
حلقہء دوستاں نہیں ہونا
ش زادء
بے رُخی پر تری ہم آج کُچھ ایسا روئے
جس طرح دُودھ کی خاطر کوئی بچہ روئے
اے سمندر ہے ترے واسطے غیرت کا مقام
تیرے ساحل پہ کوئی آن کے پیاسا روئے
سُننے والوں کے لیے تیری ہنسی نعمت ہے
توُ جو روئے تو تُجھے دیکھنے والا روئے
آبشاروں کی طرح ، ابرِ مُسلسل کی طرح
آپ کی یادمیں آخر کوئی کِتنا...