نور وجدان
لائبریرین
ہمیں کہنا چاہیے کہ اللہ ہمیں اپنا قرب عطا کرے..ایسا قرب جس میں دنیا نہ ہو. دنیا وہ خود دے دیتا ہے مگر پہلے اس کے لیے دنیا کون چھوڑتا ہے یہ امتحان وہ لیتا ہے...اللہ نے ہمیں یہاں اس لیے بھیجا ہے کہ ہم نعت کہیں......اللہ نے ہمیں یہاں اس لیے بھیجا ہے کہ ہم نعت کہیں..
:...ہمیں نعت کی توفیق کیسے ملے؟ اس کے لیے دل میں دیکھنا پڑے گا کہ دل میں اللہ ہے یا دنیا....بس درود شروع ہوجاتا ہے جب لا الہ الا اللہ ہوتا ہے....اللہ نے جب واضح کہہ دیا درود تو وہ بھیجتا ہے تو انسان نے یہ کیسے سمجھ لیا درود وہ بھیجتا ہے..انسان کو اللہ کی طرف پہلے رجوع کرنا ہوتا ہے توحید جب تک دل میں نہ ہو درود، بس زبان سے ادا ہوتا ہے...انسان کو اللہ کی طرف پہلے رجوع کرنا ہوتا ہے توحید جب تک دل میں نہ ہو درود، بس زبان سے ادا ہوتا ہے...زبان سے ادائیگی بھی اللہ کے کرم سے ہوتی...درود کی زبان سے عمل سے ہر طرح سے ادائگی محض اللہ کا کرم ہے...درود کی زبان سے عمل سے ہر طرح سے ادائگی محض اللہ کا کرم ہے...ضرور اس مومن کے دل میں صدا آتی ہے وہ صدا خیال بن جاتی ہے وہ صدا حضور ہوجاتی ہے.....یہ بھی اک درود ہے جب ہم بیٹھے اللہ کے پاس ہوں اللہ محبوب کا ذکر چھیڑ دے....آپ کو لگے مہک آرہی ہے. مہک اس لیے آتی ہے کہ اللہ نے یہ ذکر کیا ہے آپ کا دل پاک ہے آپ یہ ٹو وے کمینوکیشن کا ذریعہ بنے ہوئے ہو.....اب درود درد والی زبان سے ادا ہوا ہے اور درود گریہ بن کے ٹپک پڑا ہے....جب دل گریہ کی نہر ہوجائے تو آنکھ نظارہ ہوجاتی ہے طائر کو پرواز مل جاتی ہے وہ حضور یار میں رہنے والی آنکھ ہے یہ کرم ہے نا کہ جن کو نعت سننے کی سعادت ہے. یہ بھی تب ہوتا ہے دل میں اللہ موجود ہوتا ہے...جب دل میں اللہ موجود ہوتا ہے تو وہ اپنا ذکر سننا پسند کرتا ہے اس کا ذکر کیا ہے؟ درود...
وظیفہ ء دل ہے درود
صحیفہ ء دل ہے درود
قرأت سے مخمور دل
قرأت سے ہے طور دل
قندیلِ مصطفی ہے منور
صندل مہک سے مہجور
خوشبو کا جنگل ہے دل
خوشبو نے معطر کیا دل
چلو ہم صحیفہ داؤدی اٹھا کے دیکھ لیتے ہیں صحیفہ داؤدی کھلا ہے. اس سریانی لہجے میں تلاوت سے کھلا کہ یہ شیریں لہجہ تو مستعار لیا گیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا، اللہ اللہ
اب وادی ء طور میں چلو تو چل کے دیکھو موسویت کی چادر تو کہیں سے لی گئی ہے. محبوبیت کی غنائی شال بھی دی گئی ہے. یہ میرے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غنا. دے کے بے نیاز
عیسوی قندیل کی بات سنو. وہ بائبل میں رقم ہے کہ لحم مادر میں بولنے والا بچہ گویائی و سخن لے کے آیا تھا اور یہ تو دیا گیا تھا واہ واہ واہ یہ کمال مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم...
نواز کے خزانے لٹائے ہیں اور امتیوں کے لیے آئے تو ان کو نہ دیے ہوں گے؟...یہ تو سوچو کہ جس کا درود اللہ نے بھیجا تو واپسی میں بھی تو کچھ ملے گا؟واپس میں جو ملے گا وہ بھی خوب ہوگا. بس اللہ ہمیں یہ موقع دے کہ دل دو طرفہ ٹریفک بن جائے. جو نعت کہے دل وہی حمد کہتا ہے قران پاک میں دو باتیں ہیں. کہیں اللہ کی تعریف ہے تو کہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت...سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں مگر سمجھ کے سمجھے نہ جو اس کے لیے کیا ہے؟
عقل والوں کے لیے دل کی سماعت بند، گویائ بند، آنکھ بند! افسوس دل مقفل! مقفل دل نور کی دید کیسے کرے گا؟اللہ نے فرمایا ہے قران پاک میں، جس نے میری دید یہاں نہ کی وہ وہاں بھی نہ کرے گا
:...ہمیں نعت کی توفیق کیسے ملے؟ اس کے لیے دل میں دیکھنا پڑے گا کہ دل میں اللہ ہے یا دنیا....بس درود شروع ہوجاتا ہے جب لا الہ الا اللہ ہوتا ہے....اللہ نے جب واضح کہہ دیا درود تو وہ بھیجتا ہے تو انسان نے یہ کیسے سمجھ لیا درود وہ بھیجتا ہے..انسان کو اللہ کی طرف پہلے رجوع کرنا ہوتا ہے توحید جب تک دل میں نہ ہو درود، بس زبان سے ادا ہوتا ہے...انسان کو اللہ کی طرف پہلے رجوع کرنا ہوتا ہے توحید جب تک دل میں نہ ہو درود، بس زبان سے ادا ہوتا ہے...زبان سے ادائیگی بھی اللہ کے کرم سے ہوتی...درود کی زبان سے عمل سے ہر طرح سے ادائگی محض اللہ کا کرم ہے...درود کی زبان سے عمل سے ہر طرح سے ادائگی محض اللہ کا کرم ہے...ضرور اس مومن کے دل میں صدا آتی ہے وہ صدا خیال بن جاتی ہے وہ صدا حضور ہوجاتی ہے.....یہ بھی اک درود ہے جب ہم بیٹھے اللہ کے پاس ہوں اللہ محبوب کا ذکر چھیڑ دے....آپ کو لگے مہک آرہی ہے. مہک اس لیے آتی ہے کہ اللہ نے یہ ذکر کیا ہے آپ کا دل پاک ہے آپ یہ ٹو وے کمینوکیشن کا ذریعہ بنے ہوئے ہو.....اب درود درد والی زبان سے ادا ہوا ہے اور درود گریہ بن کے ٹپک پڑا ہے....جب دل گریہ کی نہر ہوجائے تو آنکھ نظارہ ہوجاتی ہے طائر کو پرواز مل جاتی ہے وہ حضور یار میں رہنے والی آنکھ ہے یہ کرم ہے نا کہ جن کو نعت سننے کی سعادت ہے. یہ بھی تب ہوتا ہے دل میں اللہ موجود ہوتا ہے...جب دل میں اللہ موجود ہوتا ہے تو وہ اپنا ذکر سننا پسند کرتا ہے اس کا ذکر کیا ہے؟ درود...
وظیفہ ء دل ہے درود
صحیفہ ء دل ہے درود
قرأت سے مخمور دل
قرأت سے ہے طور دل
قندیلِ مصطفی ہے منور
صندل مہک سے مہجور
خوشبو کا جنگل ہے دل
خوشبو نے معطر کیا دل
چلو ہم صحیفہ داؤدی اٹھا کے دیکھ لیتے ہیں صحیفہ داؤدی کھلا ہے. اس سریانی لہجے میں تلاوت سے کھلا کہ یہ شیریں لہجہ تو مستعار لیا گیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا، اللہ اللہ
اب وادی ء طور میں چلو تو چل کے دیکھو موسویت کی چادر تو کہیں سے لی گئی ہے. محبوبیت کی غنائی شال بھی دی گئی ہے. یہ میرے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غنا. دے کے بے نیاز
عیسوی قندیل کی بات سنو. وہ بائبل میں رقم ہے کہ لحم مادر میں بولنے والا بچہ گویائی و سخن لے کے آیا تھا اور یہ تو دیا گیا تھا واہ واہ واہ یہ کمال مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم...
نواز کے خزانے لٹائے ہیں اور امتیوں کے لیے آئے تو ان کو نہ دیے ہوں گے؟...یہ تو سوچو کہ جس کا درود اللہ نے بھیجا تو واپسی میں بھی تو کچھ ملے گا؟واپس میں جو ملے گا وہ بھی خوب ہوگا. بس اللہ ہمیں یہ موقع دے کہ دل دو طرفہ ٹریفک بن جائے. جو نعت کہے دل وہی حمد کہتا ہے قران پاک میں دو باتیں ہیں. کہیں اللہ کی تعریف ہے تو کہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت...سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں مگر سمجھ کے سمجھے نہ جو اس کے لیے کیا ہے؟
عقل والوں کے لیے دل کی سماعت بند، گویائ بند، آنکھ بند! افسوس دل مقفل! مقفل دل نور کی دید کیسے کرے گا؟اللہ نے فرمایا ہے قران پاک میں، جس نے میری دید یہاں نہ کی وہ وہاں بھی نہ کرے گا