علی وقار

محفلین
کیا عاجزی اور آسانی دینے میں بھی کوئی حد رکھنی چاہیے؟
حضرت علی کَرَّمَ اللَّہُ وَجْہَہ سے منسوب ایک معروف قول ہے، اتنے خشک نہ بنو کہ توڑ دیے جاؤ اور اتنے نرم نہ بنو کہ نچوڑ دیے جاؤ۔
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
ہم کافی کام پہلے ہی کر رہے ہیں۔ اپنے ادارے میں سوشل ورک سوسائٹی تو بہت چھوٹا سا کام ہے۔ ایک چھوٹا سا سینٹر ہے جہاں بہت ہی ضرورت مند بچے قرآن پاک کی اور عصری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہمارے پاس تین اوقات کا کھانا کھاتے ہیں۔ اور ان میں سے بھی ایک تعداد ہمارے پاس رات کو بھی رہتی ہے۔
ان بچوں کے کپڑے، علاج معالجہ، خوشی غمی میں ہم الحمد اللہ ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ابھی ہمارے دو بچوں کی ہم نے آمین کی تھی الحمد اللہ ۔
اس کے علاوہ چند طلبہ، چند مریض، کچھ غریب گھرانے ہیں کہ جن کی مدد کرتے ہیں۔ کاؤنسلنگ کی خدمات بھی کبھی دینی پڑتی ہیں۔
جب کچھ امداد زیادہ آ جاتی ہے تو قیدیوں کے لیے عید پہ کپڑے وغیرہ بنوا دیتے ہیں۔ یا چند مزید لوگوں کی مدد کر دیتے ہیں۔
علی وقار! ہماری ٹیم گو کہ چھوٹی سی ہے۔ اس میں جس خاتون نے ہمارا سینٹر سنبھالا ہوا ہے، میں نے آج تک ویسی خاتون نہیں دیکھی۔ اس قدر بے غرض اور ایثار والی۔ اس قدر خوددار! ماشاءاللہ۔ بے لوث۔ اللہ کے لیے کام کرنے والی۔ سینٹر بھی اسی کے گھر کی بیٹھک میں ہے۔ اللہ اس کے اور اس سے متعلقین کے سب مسائل حل کرے۔ ڈھیروں خوشیاں اور آسانیاں عطا فرمائے۔ ہمارے کاموں میں برکت ڈالے۔ قبول کرے۔ اور امانت صحیح حق داروں تک پہنچائے۔ کسی امانت میں خیانت نہ ہو ہم سے۔ کسی کا کچھ دینا نہ رہ جائے۔ اللہ پاک معاف کر کے، معاف کروا کے، امانتیں اور قرض ادا کروا کے اٹھائے۔ آسانی والی، عزت والی، کلمے والی خوبصورت موت عطا فرمائے۔ آمین!
ثم آمین!
آپ کس شھر سے تعلق رکھتی ہیں؟
یہ توفیق بھی عطا ہے
 

نور وجدان

لائبریرین
کیا عاجزی اور آسانی دینے میں بھی کوئی حد رکھنی چاہیے؟
یہ تو تھک ہار کے کہا جاتا ہے جب امید پوری نہ ہو اور بےسکونی سی ہونے لگے .... تب عاجزی کو روک دینا چاہیے کیونکہ آپ کی حد اتنی ہے.حد سے بڑھ جائے عاجزی تو زہر بن جاتی ہے
 

اربش علی

محفلین
اربش علی ! بول چال نہیں چھوڑ سکتی۔ لیکن خودداری کہتی ہے کہ اب اس گھر نہیں جانا۔
عزتِ نفس مجروح ہے۔ خود کو خود سے تعمیر کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔
بول چال نہ چھوڑیں،فاصلہ رہے مگر حقوق بدستور ادا ہوتے رہیں۔ آپ خود کو مضبوط اور ان کی باتوں سے بے پروا ظاہر کریں۔تعلق میں کچھ حدود قائم کر لیں، تاکہ آپ کو دوبارہ دکھ دینے کا موقع کسی کو نہ ملے۔
 
Top