دنیا چاہےجھوٹ ہی سمجھے
سچے خواب تو آسکتے ہیں
خود کو اونچا کہنے والے
زیرِ آب تو آسکتے ہیں
اس امید پہ بھیجے نامے
کبھی جواب تو آسکتے ہیں
سچائی کے جذبوں سے
انقلاب تو آسکتے ہیں
مشکل وقت میں میرے کام
کچھ احباب تو آسکتے ہیں
ہنسنے والی آنکھوں میں
غم سیلاب تو آسکتے ہیں
غم کے ساتھ خوشیاں بھی ہیں
کانٹوں میں گلاب تو آسکتے ہیں
شارؔق خوشی ملے شاید پر
غم دستیاب تو آسکتے ہیں
شارق بھائی ،آپ کی خواہش پر غزل چیک کر رہی ہوں جبکہ میں خود کو اس کی اہل نہیں سمجھتی ۔
معذرت کے ساتھ کہوں گی کہ جہاں تک میں سمجھ پائی ہوں پوری غزل میں اوزان کی کمی ہے ۔ پہلے ہی مصرعے میں " ہی " اضافی ہے ۔
بمشکل تین شعر درست کیئے ہیں اپنی سمجھ کے مطابق لیکن جہاں تک میں سمجھی ہوں وہاں میرے درست کیئے گئے دوسرے شعر کے دوسرے مصرعے میں " زیرِ آب بھی آ سکتے ہیں " ہونا چاہیئے لیکن آپ کے ردیف کی بدولت یہ ممکن نہیں ۔۔
میں نے جن اشعار کو درست کرنے کی ادنیٰ سی کوشش کی ہے وہ یہ ہیں ۔۔
دنیا چاہے جھوٹ کہے
سچے خواب تو آسکتے ہیں
قد آور جو بنے وہ کبھی
زیرِ آب بھی آسکتے ہیں
اس امید پہ بھیجے ہیں خط
واپس نامے تو آسکتے ہیں