رمان غنی
محفلین
’’یہاں‘‘ اس موضوع پر کافی کچھ اعتراضات کیے گئے ہیں۔ لیکن تشفی بخش جواب اب تک کسی کے طرف سے بھی ارسال نہیں کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے دینا چاہا بھی تو ان کو نظر انداز کردیا گیا کیونکہ معترضین کا مقصد ہی صرف بحث کرنا تھا۔ لیکن میرے اس موضوع پر روشنی ڈالنے کا ہرگز مقصد یہ نہیں ہے کہ میں معترضین کو قائل کرلوں۔ کیونکہ مرے مخاطب صرف وہ لوگ ہیں جن کے ذہن میں سابقہ دھاگے کو پڑھ کر اس موضوع کے تعلق سے غلط فکر پیدا ہوگئی ہے۔ وہ اسلام میں مرتد کی سزا کو غلط سمجھنے لگے ہیں یا اس قانون کو سرے سے اسلامی قانون ہی ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ اس دھاگے کو پڑھ کر آپ اس اسلامی قانون کو صحیح طریقے سے سمجھ سکیں گے۔
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ
ترجمہ: پھر اگر وہ کفر سے توبہ کرلیں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ہم اپنے احکام ان لوگوں کے لیے واضح طور پر بیان کر رہے ہیں جو جاننے والے ہیں لیکن اگر وہ عہد(یعنی قبول اسلام کا عہد)کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین پر زبان طعن دراز کریں تو پھر کفر کے لیڈروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کو وہ اس طرح باز آجائیں۔ (سورۃ التوبہ : 11-12)
ممکن ہے شیطان آپ کے دل میں یہ وسوسہ ڈالے کہ اس آیت میں ّعہدّ سے مراد سیاسی عہد و پیمان ہے ناکہ دین اسلام سے نکلنا۔ تو میری آپ سے درخواست ہوگی کہ براہ کرم اس آیت کا زمانہ نزول معلوم کرلیں پھر ذرہ پچھلی آیت کو غور سے پڑھ کر واقاموا الصّلوةکے لفظ پر تھوڑا سا غور کرلیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ علم دینیہ کی ذرہ بھی سمجھ رکھنے والے کو اس وسوسہ کا خاتمہ کرتے دیر لگے گی۔ لیکن ہوسکتا ہے ویکی پیڈیا کے ذریعہ اسلام سمجھنے والے اس میں کچھ پریشانی محسوس کریں تو میں ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح حدیث پیش کردیتا ہوں۔
من بدل دينه فاقتلوه
جو شخص(یعنی مسلمان) اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 284 اور1852۔سنن ابوداود:حدیث نمبر 957۔سنن نسائی: حدیث نمبر 363،364،365،366،367،368،369۔ جامع ترمذی: حدیث نمبر 1500۔ سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 693۔ مسند احمد: حدیث نمبر 35 اور 680)
اس کے علاوہ متعدد واضح احادیث، خلفائے راشدین کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ مرتد کی سزا اسلام میں قتل ہے اور دین کا صحیح طریقے سے مطالعہ کرنے والوں سے یہ امر پوشیدہ بھی نہیں ہے۔ اب اگر آپ چاہیں تو آیت قرانی اورمتعدد احادیث کا انکار کرکے شیطان کے وسوسہ کو قبول کر سکتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ قرآن وحدیث کو دل سے ماننے والوں کو اب اس بات سے کوئی اختلاف نہیں رہ گیا ہوگا کہ مرتد کی سزا اسلام میں قتل ہے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلام میں واقعی مرتد کی سزا قتل ہے تو اس کی ہمارے پاس عقلی دلیل کیا ہے۔ میں ان حق کے طالبوں کے لیے جن کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہے اس موضوع پر ایک عالم کی مفصل بحث ارسال کیے دیتا ہوں۔ مجھے امید ہی نہیں یقین ہے کہ اس بحث کو پڑھ کر آپ کا دل پکار اٹھے گا کہ اسلام میں مرتد کی سزا کسی بھی طور پر آزادی رائے یا عقل کے خلاف نہیں ہے۔