میں مسلمان، باقی سب کافر

یوسف-2

محفلین
1713.gif
 
میرا اپنی ذاتی رائے میں انصار عباسی کو اس چیز کا حل لکھنا چاہیئے تھا اور چونکہ وہ عالم نہیں ہے اس لیئے اس کو ایسی حقیقتیں جن کا ادراک کماحقہ نہیں ہے اس پر قلم اٹھانا کمال کم عقلی ہے ۔ دیکھنا یہ چاہیئے کہ یہ تقسیم کیوں ہوئی اور اس کی وجہ کیا ہے۔ سب سے پہلی تقسیم شیعہ کی ہوئی اور پھر بعد میں امت مسلمہ مزید منقسم ہوتی چلی گئی ہے لیکن میرے فاضل دوست یہ بھول رہے ہیں کہ ان میں سوائے شیعہ کے اور وہابیوں کے الحمدللہ سب امت مسلمہ ایک ہے اور باقی سب مسالک ہے فرقے نہیں ہے۔
 

نایاب

لائبریرین
عجب مشکل ہے ۔ ایسی تمام صدائے حق پر لبیک کہنے سے مفر نہیں ہوتا
مگر " بہتر تہتر فرقوں والی حدیث " ایسی تما م " اتحاد بین الامہ المسلم " کی کوششوں پر " ناقد " ٹھہرا دی جاتی ہے ۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی صدا درست
مگر تفرقے کو پاسبان مل جاتے ہیں اسی حرم کے نگرانوں سے ۔۔۔۔۔
اللہ ہم مسلمانوں کو سچا مومن بننے کی توفیق سے نوازے آمین
امن پھیلائیں ہم اور ٹھہریں سلامتی کے سفیر جملہ انسانیت کے لیئے ۔۔۔۔۔
 
میری اوپر والی پوسٹ پر کچھ دوستوں نے فیس بک میں میسج کیئے ہیں کہ یار یہ آپ نے کیا لکھ دیا ہے وہ شیعہ تھے ۔ ان کی سمجھ میں میری بات آنہ سکی۔
دوستوں ایسا ہے کہ شیعہ گروپ کوئی فرقہ نہ تھا بلکہ یہ ایک سیاسی جدوجہد تھی جو کہ بنوامیہ کے خلاف تھی اس جدوجہد کے سالار حضرت حجر بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے یہ تحریک کافی چلی اور پھر امیوں کے بعد عباسیوں کے خلاف بھی چلی تو اس دوران یہ سیاسی جدوجہد سے مذہبی رنگ میں رنگی گئی اور یوں شیعان علی جو کہ صرف ایک سیاسی جدوجہد کا نام تھا مکمل طور پر ایک نئے فرقے کے طور پر سامنے آئی جس کا فقہ اور ضروری مسائل تک الگ ہیں جس میں کہ زکواۃ کا مسئلہ بہت الگ سے ہے۔ اور یہ سب کچھ خبیث قسم کے کچھ بادشاہوں کی وجہ سے ممکن ہوا جس کا بیان بہت طویل ہے۔
دوسرا سیاسی فرقہ مکمل طور پر عصبیت کا رنگ لیئے ہوئے تھا جس میں محمد بن عبدالوہاب اس گروہ کا سرخیل تھا اس کمینے و بدباطن شخص کو اتحادیوں نے اپنے نابغہ روزگار ایجنٹ جو اپنے فن میں یگانہ تھا جی ہاں کرنل ہمفرے کے ذریعے شکار کیا اور اس نے عربوں کی عظمت رفتہ کا نعرہ لگا کر عربوں کو ترکوں کے خلاف کھڑا کردیا (اس کے بارے میں دیوبندیوں گروپ کے ایک بہت بڑے عالم یعنی صدر المدرسین مکتبہ دیوبند حسین احمد مدنی نے اپنی کتاب الشہاب ثاقب میں ان الفاظ سے یاد کیا ہے کہ یہ شخص عقائد باطلہ اور خیالات فاسدہ رکھتا تھا)
پھر جب خلافت ّعثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تو کیا کھیل کھیلا گیا وہ ایک بہت طویل ہے کہ کیسے سرزمین حجاز کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹا گیا تاکہ یہ لوگ ایک قوم نہ بن سکیں جیسے کہ شمالی نجد کے بدووں نے سعودی عرب کے نام سے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنادی اور اسی طرح اردون کے شیعوں پر سنی حکمران بٹھا دیئے گئے تاکہ ظلم کرسکیں اور علاقہ افراتفری کا شکار رہے اسی طرح شام میں شیعہ حکمران بنادیئے گئے جس کا نتیجہ دنیا نے نابلہ کی تباہی کی صورت دیکھا کہ حافظ الاسد نے کیسے دس ہزار کی آبادی کو کچھ ہی گھنٹوں میں راکھ بنادیا۔اسی طرح بحرین میں کثیر شیعہ آبادی پر وہابی حکمران بنادیئے۔ سنی علاقوں پر شمالی نجد کے بدووں کو بٹھا دیا گیا جو کہ اپنے ملک میں سنیت کا نام و نشان مٹانے کے بعد پاکستان میں بھی کمپنی کی خوب مشہوری کررہے ہیں اور دھڑا دھڑ سرمایہ کاری کررہے ہیں کہیں رمضان میں پرتکلف افطاریاں ہورہے ہیں تو کہیں الدعویٰ کے نام سے ٹرسٹ قائم کیئے جارہے ہیں انداز یا طریقہ واردات بالکل عیسائی مشنریوں جیسا ہے ۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ وہی عرب ہیں جن کہ آباؤ اجداد جن کے بارے میں اقبال نے کہا کہ
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
بے چارہ عام عرب جس نے محمد بن عبدالوہاب کے اس گھناؤنے منصوبے پر بے خیالی میں عمل کیا اس کو کیا پتہ تھا کہ وہ تاریک راہوں میں مارا جارہا ہے کیونکہ جس عظیم عرب ریاست کا خواب عام عرب کو دیکھا گیا وہ سبز باغ تھا۔ تباہی و بربادی کی داستان بہت طویل ہوشربا و سبق آموز و خونچکاں ہے لیکن سب کو قلم بند کرنا میرے لیئے ممکن نہیں ہے۔
 
درست فرمایا آپ نے۔۔۔صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے :
[ARABIC]
بدأ الإسلام غريباً وسيعود غريباً كما بدأ، فطوبى للغرباء
[/ARABIC]
اسلام کی ابتداء ایک اجنبی اور پردیسی کی حیثیت سے ہوئی اور عنقریب یہ پھر ایک اجنبی پردیسی (غریب الدیّار) ہی بن جائے گا۔ پس غرباء کو مژدہ ہو
 

باباجی

محفلین
میری اوپر والی پوسٹ پر کچھ دوستوں نے فیس بک میں میسج کیئے ہیں کہ یار یہ آپ نے کیا لکھ دیا ہے وہ شیعہ تھے ۔ ان کی سمجھ میں میری بات آنہ سکی۔
دوستوں ایسا ہے کہ شیعہ گروپ کوئی فرقہ نہ تھا بلکہ یہ ایک سیاسی جدوجہد تھی جو کہ بنوامیہ کے خلاف تھی اس جدوجہد کے سالار حضرت حجر بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے یہ تحریک کافی چلی اور پھر امیوں کے بعد عباسیوں کے خلاف بھی چلی تو اس دوران یہ سیاسی جدوجہد سے مذہبی رنگ میں رنگی گئی اور یوں شیعان علی جو کہ صرف ایک سیاسی جدوجہد کا نام تھا مکمل طور پر ایک نئے فرقے کے طور پر سامنے آئی جس کا فقہ اور ضروری مسائل تک الگ ہیں جس میں کہ زکواۃ کا مسئلہ بہت الگ سے ہے۔ اور یہ سب کچھ خبیث قسم کے کچھ بادشاہوں کی وجہ سے ممکن ہوا جس کا بیان بہت طویل ہے۔
دوسرا سیاسی فرقہ مکمل طور پر عصبیت کا رنگ لیئے ہوئے تھا جس میں محمد بن عبدالوہاب اس گروہ کا سرخیل تھا اس کمینے و بدباطن شخص کو اتحادیوں نے اپنے نابغہ روزگار ایجنٹ جو اپنے فن میں یگانہ تھا جی ہاں کرنل ہمفرے کے ذریعے شکار کیا اور اس نے عربوں کی عظمت رفتہ کا نعرہ لگا کر عربوں کو ترکوں کے خلاف کھڑا کردیا (اس کے بارے میں دیوبندیوں گروپ کے ایک بہت بڑے عالم یعنی صدر المدرسین مکتبہ دیوبند حسین احمد مدنی نے اپنی کتاب الشہاب ثاقب میں ان الفاظ سے یاد کیا ہے کہ یہ شخص عقائد باطلہ اور خیالات فاسدہ رکھتا تھا)
پھر جب خلافت ّعثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تو کیا کھیل کھیلا گیا وہ ایک بہت طویل ہے کہ کیسے سرزمین حجاز کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹا گیا تاکہ یہ لوگ ایک قوم نہ بن سکیں جیسے کہ شمالی نجد کے بدووں نے سعودی عرب کے نام سے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنادی اور اسی طرح اردون کے شیعوں پر سنی حکمران بٹھا دیئے گئے تاکہ ظلم کرسکیں اور علاقہ افراتفری کا شکار رہے اسی طرح شام میں شیعہ حکمران بنادیئے گئے جس کا نتیجہ دنیا نے نابلہ کی تباہی کی صورت دیکھا کہ حافظ الاسد نے کیسے دس ہزار کی آبادی کو کچھ ہی گھنٹوں میں راکھ بنادیا۔اسی طرح بحرین میں کثیر شیعہ آبادی پر وہابی حکمران بنادیئے۔ سنی علاقوں پر شمالی نجد کے بدووں کو بٹھا دیا گیا جو کہ اپنے ملک میں سنیت کا نام و نشان مٹانے کے بعد پاکستان میں بھی کمپنی کی خوب مشہوری کررہے ہیں اور دھڑا دھڑ سرمایہ کاری کررہے ہیں کہیں رمضان میں پرتکلف افطاریاں ہورہے ہیں تو کہیں الدعویٰ کے نام سے ٹرسٹ قائم کیئے جارہے ہیں انداز یا طریقہ واردات بالکل عیسائی مشنریوں جیسا ہے ۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ وہی عرب ہیں جن کہ آباؤ اجداد جن کے بارے میں اقبال نے کہا کہ
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
بے چارہ عام عرب جس نے محمد بن عبدالوہاب کے اس گھناؤنے منصوبے پر بے خیالی میں عمل کیا اس کو کیا پتہ تھا کہ وہ تاریک راہوں میں مارا جارہا ہے کیونکہ جس عظیم عرب ریاست کا خواب عام عرب کو دیکھا گیا وہ سبز باغ تھا۔ تباہی و بربادی کی داستان بہت طویل ہوشربا و سبق آموز و خونچکاں ہے لیکن سب کو قلم بند کرنا میرے لیئے ممکن نہیں ہے۔
لفظ شیعہ کا مطلب کیا ہے ؟؟؟؟؟
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
اللہ پاک کو ایک ماننے والے اور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے والے مسلم ہیں ۔۔۔ کم از کم اس حد تک تو ہم سب ہی متفق ہیں ۔۔۔ ہاں اختلافات ضرور ہو سکتے ہیں آپس میں ۔۔۔ لیکن مکتبہء فکر کی بنیاد پر الگ سے فرقہ بنا لینے کی روش مستحسن نہیں ۔۔۔
 

یوسف-2

محفلین
سُوۡرَةُ آل عِمرَان:وَٱعۡتَصِمُواْ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِيعً۬ا وَلَا تَفَرَّقُواْ‌ۚ (١٠٣)
اور سب مل کر اللہ کی ہدایت کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ بازی میں نہ پڑو۔
 

حسان خان

لائبریرین
فرقوں کے خاتمے کی نیت قابلِ ستائش ہے، اور اُن لوگوں کو بھی میں تحسین کی نگاہوں سے دیکھتا ہوں جو ملک میں پھیلے فرقہ پرستی کے ناسور کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ لیکن یہاں چند باتیں عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں، فرقہ پرستی کی لعنت کا حل ایسی باتوں سے ممکن نہیں، نہ ہی خدا یا قرآن کی کسی رسی کو پکڑنے سے پاکستانی مسلمان متحد ہو جائیں گے۔ یہ تو بالکل ناقابلِ عمل بات ہے۔ مارکسی نظریے کے گام بردار جب اپنے نظریاتی اختلافات کو بھلا کر ایک نظریے پر متفق نہیں ہو سکے اور نہ ہو سکتے ہیں، تو کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ متناقص ابدی حقائق کا دعویٰ کرنے والے اسلامی فرقے افعال و عقائد کے کسی ایک مجموعے پر متفق ہو سکتے ہیں؟ پھر موجودہ فرقہ ہائے اسلامی صرف چند عقائد کے مجموعوں کا نام نہیں رہ گئے ہیں، بلکہ اُن کی اپنی اپنی الگ تاریخ، ثقافت، شناخت اور مربوط برادریاں وجود میں آ چکی ہیں۔ ایسے میں فرقوں کی تحلیل کے امکان ناپذیر خواب دیکھنے سےزیادہ قابلِ عمل بات یہ ہے ہم اختلافِ رائے کا احترام کرتے ہوئے اس ملک میں ہر فرقے یا مذہبی گروہ کو اپنے عقیدے پر آزادانہ عمل پیرا ہونے دیں، اور اُن کے کفر و ایمان کا ٹھیکہ لینا چھوڑ دیں۔ اس رواداری، وسیع القلبی اور پاکستانی مسلمانوں کے باہمی مذہبی تنوع کے احترام سے ہی فرقہ پرستی کی لعنت کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔
 

فلک شیر

محفلین
حیران ہوں کہ لوگ گالی دیتے ہیں اور ننگی گالی...........لیکن خود کو صاحب علم بھی سمجھتے ہیں.........سید ولد آدم صلی اللہ علیہ و سلم فداہ روحی وابی وامی کے فرمان مبارک کا مفہوم ہے، کہ بدترین ہے وہ شخص جس کی ترش روئی اور بد گوئی کی وجہ سے لوگ ڈر کر اُس کی عزت کریں.............اللہ پاک ہم سب پہ رحم کریں......آمین
 

سید ذیشان

محفلین
میری اوپر والی پوسٹ پر کچھ دوستوں نے فیس بک میں میسج کیئے ہیں کہ یار یہ آپ نے کیا لکھ دیا ہے وہ شیعہ تھے ۔ ان کی سمجھ میں میری بات آنہ سکی۔
دوستوں ایسا ہے کہ شیعہ گروپ کوئی فرقہ نہ تھا بلکہ یہ ایک سیاسی جدوجہد تھی جو کہ بنوامیہ کے خلاف تھی اس جدوجہد کے سالار حضرت حجر بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے یہ تحریک کافی چلی اور پھر امیوں کے بعد عباسیوں کے خلاف بھی چلی تو اس دوران یہ سیاسی جدوجہد سے مذہبی رنگ میں رنگی گئی اور یوں شیعان علی جو کہ صرف ایک سیاسی جدوجہد کا نام تھا مکمل طور پر ایک نئے فرقے کے طور پر سامنے آئی جس کا فقہ اور ضروری مسائل تک الگ ہیں جس میں کہ زکواۃ کا مسئلہ بہت الگ سے ہے۔ اور یہ سب کچھ خبیث قسم کے کچھ بادشاہوں کی وجہ سے ممکن ہوا جس کا بیان بہت طویل ہے۔
دوسرا سیاسی فرقہ مکمل طور پر عصبیت کا رنگ لیئے ہوئے تھا جس میں محمد بن عبدالوہاب اس گروہ کا سرخیل تھا اس کمینے و بدباطن شخص کو اتحادیوں نے اپنے نابغہ روزگار ایجنٹ جو اپنے فن میں یگانہ تھا جی ہاں کرنل ہمفرے کے ذریعے شکار کیا اور اس نے عربوں کی عظمت رفتہ کا نعرہ لگا کر عربوں کو ترکوں کے خلاف کھڑا کردیا (اس کے بارے میں دیوبندیوں گروپ کے ایک بہت بڑے عالم یعنی صدر المدرسین مکتبہ دیوبند حسین احمد مدنی نے اپنی کتاب الشہاب ثاقب میں ان الفاظ سے یاد کیا ہے کہ یہ شخص عقائد باطلہ اور خیالات فاسدہ رکھتا تھا)
پھر جب خلافت ّعثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تو کیا کھیل کھیلا گیا وہ ایک بہت طویل ہے کہ کیسے سرزمین حجاز کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹا گیا تاکہ یہ لوگ ایک قوم نہ بن سکیں جیسے کہ شمالی نجد کے بدووں نے سعودی عرب کے نام سے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنادی اور اسی طرح اردون کے شیعوں پر سنی حکمران بٹھا دیئے گئے تاکہ ظلم کرسکیں اور علاقہ افراتفری کا شکار رہے اسی طرح شام میں شیعہ حکمران بنادیئے گئے جس کا نتیجہ دنیا نے نابلہ کی تباہی کی صورت دیکھا کہ حافظ الاسد نے کیسے دس ہزار کی آبادی کو کچھ ہی گھنٹوں میں راکھ بنادیا۔اسی طرح بحرین میں کثیر شیعہ آبادی پر وہابی حکمران بنادیئے۔ سنی علاقوں پر شمالی نجد کے بدووں کو بٹھا دیا گیا جو کہ اپنے ملک میں سنیت کا نام و نشان مٹانے کے بعد پاکستان میں بھی کمپنی کی خوب مشہوری کررہے ہیں اور دھڑا دھڑ سرمایہ کاری کررہے ہیں کہیں رمضان میں پرتکلف افطاریاں ہورہے ہیں تو کہیں الدعویٰ کے نام سے ٹرسٹ قائم کیئے جارہے ہیں انداز یا طریقہ واردات بالکل عیسائی مشنریوں جیسا ہے ۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ وہی عرب ہیں جن کہ آباؤ اجداد جن کے بارے میں اقبال نے کہا کہ
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
بے چارہ عام عرب جس نے محمد بن عبدالوہاب کے اس گھناؤنے منصوبے پر بے خیالی میں عمل کیا اس کو کیا پتہ تھا کہ وہ تاریک راہوں میں مارا جارہا ہے کیونکہ جس عظیم عرب ریاست کا خواب عام عرب کو دیکھا گیا وہ سبز باغ تھا۔ تباہی و بربادی کی داستان بہت طویل ہوشربا و سبق آموز و خونچکاں ہے لیکن سب کو قلم بند کرنا میرے لیئے ممکن نہیں ہے۔

اگر کوئی شیعہ تاریخ اور عقائد معلوم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو اس کتاب (مشہور شیعہ عالم محمد حسین طباطبائی کی کتاب "شیعہ در اسلام" کا ترجمہ) کا مطالعہ کر سکتا ہے۔ (نوٹ: یہ انگریزی کتاب ہے)
 
Top