لفظ شیعہ کا مطلب کیا ہے ؟؟؟؟؟میری اوپر والی پوسٹ پر کچھ دوستوں نے فیس بک میں میسج کیئے ہیں کہ یار یہ آپ نے کیا لکھ دیا ہے وہ شیعہ تھے ۔ ان کی سمجھ میں میری بات آنہ سکی۔
دوستوں ایسا ہے کہ شیعہ گروپ کوئی فرقہ نہ تھا بلکہ یہ ایک سیاسی جدوجہد تھی جو کہ بنوامیہ کے خلاف تھی اس جدوجہد کے سالار حضرت حجر بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے یہ تحریک کافی چلی اور پھر امیوں کے بعد عباسیوں کے خلاف بھی چلی تو اس دوران یہ سیاسی جدوجہد سے مذہبی رنگ میں رنگی گئی اور یوں شیعان علی جو کہ صرف ایک سیاسی جدوجہد کا نام تھا مکمل طور پر ایک نئے فرقے کے طور پر سامنے آئی جس کا فقہ اور ضروری مسائل تک الگ ہیں جس میں کہ زکواۃ کا مسئلہ بہت الگ سے ہے۔ اور یہ سب کچھ خبیث قسم کے کچھ بادشاہوں کی وجہ سے ممکن ہوا جس کا بیان بہت طویل ہے۔
دوسرا سیاسی فرقہ مکمل طور پر عصبیت کا رنگ لیئے ہوئے تھا جس میں محمد بن عبدالوہاب اس گروہ کا سرخیل تھا اس کمینے و بدباطن شخص کو اتحادیوں نے اپنے نابغہ روزگار ایجنٹ جو اپنے فن میں یگانہ تھا جی ہاں کرنل ہمفرے کے ذریعے شکار کیا اور اس نے عربوں کی عظمت رفتہ کا نعرہ لگا کر عربوں کو ترکوں کے خلاف کھڑا کردیا (اس کے بارے میں دیوبندیوں گروپ کے ایک بہت بڑے عالم یعنی صدر المدرسین مکتبہ دیوبند حسین احمد مدنی نے اپنی کتاب الشہاب ثاقب میں ان الفاظ سے یاد کیا ہے کہ یہ شخص عقائد باطلہ اور خیالات فاسدہ رکھتا تھا)
پھر جب خلافت ّعثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تو کیا کھیل کھیلا گیا وہ ایک بہت طویل ہے کہ کیسے سرزمین حجاز کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹا گیا تاکہ یہ لوگ ایک قوم نہ بن سکیں جیسے کہ شمالی نجد کے بدووں نے سعودی عرب کے نام سے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنادی اور اسی طرح اردون کے شیعوں پر سنی حکمران بٹھا دیئے گئے تاکہ ظلم کرسکیں اور علاقہ افراتفری کا شکار رہے اسی طرح شام میں شیعہ حکمران بنادیئے گئے جس کا نتیجہ دنیا نے نابلہ کی تباہی کی صورت دیکھا کہ حافظ الاسد نے کیسے دس ہزار کی آبادی کو کچھ ہی گھنٹوں میں راکھ بنادیا۔اسی طرح بحرین میں کثیر شیعہ آبادی پر وہابی حکمران بنادیئے۔ سنی علاقوں پر شمالی نجد کے بدووں کو بٹھا دیا گیا جو کہ اپنے ملک میں سنیت کا نام و نشان مٹانے کے بعد پاکستان میں بھی کمپنی کی خوب مشہوری کررہے ہیں اور دھڑا دھڑ سرمایہ کاری کررہے ہیں کہیں رمضان میں پرتکلف افطاریاں ہورہے ہیں تو کہیں الدعویٰ کے نام سے ٹرسٹ قائم کیئے جارہے ہیں انداز یا طریقہ واردات بالکل عیسائی مشنریوں جیسا ہے ۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ وہی عرب ہیں جن کہ آباؤ اجداد جن کے بارے میں اقبال نے کہا کہ
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
بے چارہ عام عرب جس نے محمد بن عبدالوہاب کے اس گھناؤنے منصوبے پر بے خیالی میں عمل کیا اس کو کیا پتہ تھا کہ وہ تاریک راہوں میں مارا جارہا ہے کیونکہ جس عظیم عرب ریاست کا خواب عام عرب کو دیکھا گیا وہ سبز باغ تھا۔ تباہی و بربادی کی داستان بہت طویل ہوشربا و سبق آموز و خونچکاں ہے لیکن سب کو قلم بند کرنا میرے لیئے ممکن نہیں ہے۔
میری اوپر والی پوسٹ پر کچھ دوستوں نے فیس بک میں میسج کیئے ہیں کہ یار یہ آپ نے کیا لکھ دیا ہے وہ شیعہ تھے ۔ ان کی سمجھ میں میری بات آنہ سکی۔
دوستوں ایسا ہے کہ شیعہ گروپ کوئی فرقہ نہ تھا بلکہ یہ ایک سیاسی جدوجہد تھی جو کہ بنوامیہ کے خلاف تھی اس جدوجہد کے سالار حضرت حجر بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے یہ تحریک کافی چلی اور پھر امیوں کے بعد عباسیوں کے خلاف بھی چلی تو اس دوران یہ سیاسی جدوجہد سے مذہبی رنگ میں رنگی گئی اور یوں شیعان علی جو کہ صرف ایک سیاسی جدوجہد کا نام تھا مکمل طور پر ایک نئے فرقے کے طور پر سامنے آئی جس کا فقہ اور ضروری مسائل تک الگ ہیں جس میں کہ زکواۃ کا مسئلہ بہت الگ سے ہے۔ اور یہ سب کچھ خبیث قسم کے کچھ بادشاہوں کی وجہ سے ممکن ہوا جس کا بیان بہت طویل ہے۔
دوسرا سیاسی فرقہ مکمل طور پر عصبیت کا رنگ لیئے ہوئے تھا جس میں محمد بن عبدالوہاب اس گروہ کا سرخیل تھا اس کمینے و بدباطن شخص کو اتحادیوں نے اپنے نابغہ روزگار ایجنٹ جو اپنے فن میں یگانہ تھا جی ہاں کرنل ہمفرے کے ذریعے شکار کیا اور اس نے عربوں کی عظمت رفتہ کا نعرہ لگا کر عربوں کو ترکوں کے خلاف کھڑا کردیا (اس کے بارے میں دیوبندیوں گروپ کے ایک بہت بڑے عالم یعنی صدر المدرسین مکتبہ دیوبند حسین احمد مدنی نے اپنی کتاب الشہاب ثاقب میں ان الفاظ سے یاد کیا ہے کہ یہ شخص عقائد باطلہ اور خیالات فاسدہ رکھتا تھا)
پھر جب خلافت ّعثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تو کیا کھیل کھیلا گیا وہ ایک بہت طویل ہے کہ کیسے سرزمین حجاز کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹا گیا تاکہ یہ لوگ ایک قوم نہ بن سکیں جیسے کہ شمالی نجد کے بدووں نے سعودی عرب کے نام سے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنادی اور اسی طرح اردون کے شیعوں پر سنی حکمران بٹھا دیئے گئے تاکہ ظلم کرسکیں اور علاقہ افراتفری کا شکار رہے اسی طرح شام میں شیعہ حکمران بنادیئے گئے جس کا نتیجہ دنیا نے نابلہ کی تباہی کی صورت دیکھا کہ حافظ الاسد نے کیسے دس ہزار کی آبادی کو کچھ ہی گھنٹوں میں راکھ بنادیا۔اسی طرح بحرین میں کثیر شیعہ آبادی پر وہابی حکمران بنادیئے۔ سنی علاقوں پر شمالی نجد کے بدووں کو بٹھا دیا گیا جو کہ اپنے ملک میں سنیت کا نام و نشان مٹانے کے بعد پاکستان میں بھی کمپنی کی خوب مشہوری کررہے ہیں اور دھڑا دھڑ سرمایہ کاری کررہے ہیں کہیں رمضان میں پرتکلف افطاریاں ہورہے ہیں تو کہیں الدعویٰ کے نام سے ٹرسٹ قائم کیئے جارہے ہیں انداز یا طریقہ واردات بالکل عیسائی مشنریوں جیسا ہے ۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ وہی عرب ہیں جن کہ آباؤ اجداد جن کے بارے میں اقبال نے کہا کہ
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
بے چارہ عام عرب جس نے محمد بن عبدالوہاب کے اس گھناؤنے منصوبے پر بے خیالی میں عمل کیا اس کو کیا پتہ تھا کہ وہ تاریک راہوں میں مارا جارہا ہے کیونکہ جس عظیم عرب ریاست کا خواب عام عرب کو دیکھا گیا وہ سبز باغ تھا۔ تباہی و بربادی کی داستان بہت طویل ہوشربا و سبق آموز و خونچکاں ہے لیکن سب کو قلم بند کرنا میرے لیئے ممکن نہیں ہے۔