نواز شریف اور جہانگیر ترین تاحیات نااہل

شاہد شاہ

محفلین
نواز شریف اور جہانگیر ترین تاحیات نااہل

ویب ڈیسک
APRIL 13, 2018

478112_40122_updates.jpg

سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، تحریک انصاف کے سابق رہنما جہانگیر ترین اور دیگر نااہل افراد کو تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت یہ نااہلی تاحیات رہے گی۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے جس میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں ،کیس کا فیصلہ 14 فروری 2018ء کو محفوظ کیا تھا۔

آج جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا، فیصلے کے وقت لارجر بنچ میں شامل 4 ججز عدالت کے کمرہ نمبر 1میں تھے جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد میں نہ ہونے کے باعث شرکت نہیں کرسکے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جو صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے،جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے نااہلی رہے گی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ تحریر کیا جبکہ جسٹس عظمت سعید نے اضافی نوٹ تحریر کیا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے اسی 5رکنی لارجربنچ نے 14فروری کو مختلف اپیلوں پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

پانچ رکنی لارجر بنچ نے رواں سال جنوری میں 15مختلف درخواستیں یکجا کر کے سماعت کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اس حوالے سے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

نوازشریف کی طرف سے داخل جواب میں کہا گیا کہ انہوں نےکوئی درخواست داخل نہیں کی۔

نواز شریف نے جواب میں کہا کہ نااہلی صرف اس مدت کے لیے ہوگی جس مدت کے لیے امیدوار منتخب ہو۔

جہانگیر ترین کے وکیل اور نااہل ہونے والے دیگر اپیل کنندگان نے تاحیات نااہلی کے خلاف دلائل دیے تھے۔

پاناما کیس میں نوازشریف کو 62ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے والے بنچ میں جسٹس عظمت سعید شامل تھے۔

پاناما کیس میں نوازشریف کو 62ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے والے بنچ میں جسٹس اعجازالحسن شامل تھے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس عمر عطا بندیال نے جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے نوازشریف اورجہانگیر ترین کے خلاف فیصلوں میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا تھا۔

سپریم کورٹ عبدالغفور لہڑی کیس میں 62ون ایف کے تحت نا اہلی کو تاحیات قراردے چکی ہے۔
 
سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ سنادیا ۔
دستور پاکستان 1973ء میں آرٹیکل 62 کے مطابق ایسے عوامی نمائندےجو صحیح معنوں میں ان آرٹیکلز میں طے کردہ معیار پر پورے اترتے ہوں، وہی ہی الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

آرٹیکل 62 کے تحت
(1 ) کوئی شخص اہل نہیں ہو گا، رکن منتخب ہونے یا چنے جانے کا،بطور ممبر مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ کے،ماسوائے یہ کہ وہ پاکستان کا شہری ہو۔
(ب) وہ قومی اسمبلی کی صورت میں پچیس سال سے کم عمر کانہ ہو اور بطور ووٹر اس کے نام کا اندراج کسی بھی انتخابی فہرست میں موجود ہو جو پاکستان کے کسی حصے میں جنرل سیٹ یا غیر مسلم سیٹ کے لئے ہو، اور صوبے کے کسی حصے میں اگر عور ت کی مخصوص سیٹ ہو تو اس کے لئے۔
(ج) وہ سینیٹ کی صورت میں تیس سال سے کم عمر کا نہ ہو اور صوبے کے کسی ایریا میں اس کا نام بطور ووٹر درج ہو، یا جیسی بھی صورت ہو، فیڈرل کیپیٹل یا فاٹا میں جہاں سے وہ ممبر شپ حاصل کر رہا ہو۔
(د) وہ اچھے کردار کا حامل ہو اور عام طور پر احکام اسلامی سے انحراف میں مشہور نہ ہو۔
(ہ) وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو ، اور اسلام کے منشور کردہ فرائض کا پابند ہو ، نیز کبیرہ گناہ سے اجتناب کرتا ہو۔
(و) وہ سمجھدار ہو ، پارسا ہو،ایماندار اور امین ہو،اور کسی عدالت کا فیصلہ اس کے برعکس نہ ہو۔
(ز) اس نے پاکستان بننے کے بعد ملک کی سالمیت کے خلاف کام نہ کیا ہو اور نظریہ پاکستان کی مخالفت نہ کی ہو۔
(2) نا اہلیت مندرجہ پیرا گراف (د) اور (ہ) کا کسی ایسے شخص پر اطلاق نہ ہو گا، جو غیرمسلم ہو لیکن ایسا شخص اچھی شہرت کا حامل ہو۔
 

یاز

محفلین
مریم نواز کافی خوش ہو گی ویسے۔
سیاسی کیریئر ترکے میں ملنے کا بھرپور امکان ہے۔
 

یاز

محفلین
ویسے نواز شریف کے پاس پھر سے اہل یا صادق و امین بننے کا ایک طریقہ موجود تو ہے، لیکن وہ اس پہ یقیناً عمل نہیں کرے گا۔
 

فرقان احمد

محفلین
یہ عدالتی فیصلے سیاست دانوں کے گلے پڑیں گے، جلد یا بدیر! میاں نواز شریف مکافاتِ عمل کا شکار ہیں تاہم ان کے بعد کئی دیگر سیاست دانوں اور بااثر شخصیات کے نمبر بھی آیا چاہتے ہیں۔
 

یاز

محفلین
یہ عدالتی فیصلے سیاست دانوں کے گلے پڑیں گے، جلد یا بدیر! میاں نواز شریف مکافاتِ عمل کا شکار ہیں تاہم ان کے بعد کئی دیگر سیاست دانوں اور بااثر شخصیات کے نمبر بھی آیا چاہتے ہیں۔
میرا نہیں خیال کہ زیادہ سیاستدانوں کے نمبر آئیں گے۔ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ شاید پورا ہو گیا ہے۔
 
میرا نہیں خیال کہ زیادہ سیاستدانوں کے نمبر آئیں گے۔ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ شاید پورا ہو گیا ہے۔
متفق۔
باقی سیاستدانوں کو ساتھ رکھنے کی ضرورت ہے، اس لئے جب تک کوئی زیادہ مضبوط نہیں ہوتا، اسے نہیں چھیڑا جائے گا۔
 

شاہد شاہ

محفلین
متفق۔
باقی سیاستدانوں کو ساتھ رکھنے کی ضرورت ہے، اس لئے جب تک کوئی زیادہ مضبوط نہیں ہوتا، اسے نہیں چھیڑا جائے گا۔
ویسے اسوقت گیند اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ عدلیہ کی کورٹ میں ہے۔ بابا رحمتے نے نواز شریف اور جہانگیر ترین کیساتھ تین چار بڑے وزرا پھڑکا دینے ہیں۔ پھر پنجاب میں نیب نے بیروکریسی کے ذریعہ کئی وزرا کی پکڑ دکڑ شروع کر دی ہے۔ احتساب اب بہت سخت اور کڑا ہونا ہے۔
 
Top