نوید رزاق بٹ
محفلین
پھر معصوموں کا خون بہا، پھر آگ لگی ہے گلشن میں
پھر پیار نے بازی ہاری ہے، پھر خون کے پیاسے جیت گئے
پھر پیار نے بازی ہاری ہے، پھر خون کے پیاسے جیت گئے
کچھ روز چلی الفت کی ہوا، پھر اشکوں کی برسات ہوئی
اِس پیار کا قصہ کیا لکھنا، دو موسم تھے جو بِیت گئے
اِس پیار کا قصہ کیا لکھنا، دو موسم تھے جو بِیت گئے
وہ گیت جو بُلّھا گاتا تھا، جو پیار ہمیں سکھلاتا تھا
کچھ یاد تو ہے پر یاد نہیں، کب بھول ہمیں وہ گیت گئے
(نوید رزاق بٹ)
کچھ یاد تو ہے پر یاد نہیں، کب بھول ہمیں وہ گیت گئے
(نوید رزاق بٹ)