عبدالقیوم چوہدری
محفلین
یقین خاک بہ سر ہے گمان مٹی ہے
جہاں کی بات نہ کر یہ جہان مٹی ہے
اے خاک ذاد تیری بات کا اثر کیا ہو
تیرا بیان ہوا ہے ، زبان مٹی ہے
کھنکتی مٹی سے کوزے بنا رہا ہے کوئی
خیال ہے کہ پسِ آسمان مٹی ہے
خبر یہ سنگ کو کب ہو سکی کہ شیشے کا
گھرانہ ریت ہے اور خاندان مٹی ہے
کوئی دنوں میں یہاں خاک اُڑنے والی ہے
کوئی دنوں میں یہ سب آن بان مٹی ہے
نظر اٹھا کے دیکھ ذرا آتشِ خود سر
گواہ تیرے میرے درمیان مٹی ہے
اس ایک بات سے حیران ہوں میں نورعلی
پئے شعاع ازل ترجمان مٹی ہے
جہاں کی بات نہ کر یہ جہان مٹی ہے
اے خاک ذاد تیری بات کا اثر کیا ہو
تیرا بیان ہوا ہے ، زبان مٹی ہے
کھنکتی مٹی سے کوزے بنا رہا ہے کوئی
خیال ہے کہ پسِ آسمان مٹی ہے
خبر یہ سنگ کو کب ہو سکی کہ شیشے کا
گھرانہ ریت ہے اور خاندان مٹی ہے
کوئی دنوں میں یہاں خاک اُڑنے والی ہے
کوئی دنوں میں یہ سب آن بان مٹی ہے
نظر اٹھا کے دیکھ ذرا آتشِ خود سر
گواہ تیرے میرے درمیان مٹی ہے
اس ایک بات سے حیران ہوں میں نورعلی
پئے شعاع ازل ترجمان مٹی ہے