احمد وصال
محفلین
یہ میرے قوم کے سردار ، جھوٹ بولتے ہیں
یہاں پہ سارے ہی غم خوار ، جھوٹ بولتے ہیں
نہ ہے وہ مے، نہ وہ پیالہ ، نہ ہیں وہ میخانے
یہ رند جھوٹا ہے مے خوار جھوٹ بولتے ہیں
وہ ذائقہ تو پھلوں سے کسی نے چھینا ہے
پھلوں کے شکل میں اشجار جھوٹ بولتے ہیں
یہ اب سکوں جو نہیں ہے گھروں میں اس جیسا
تو یہ مکیں یا کہ معمار جھوٹ بولتے ہیں
نہ دل میں پیار کسی کا، نہ ہے حسین کوئی
ہیں پیار جھوٹے تو دلدار جھوٹ بولتے ہیں
یہ میرے شہر کے حاکم بہت ہی جھوٹے ہیں
بڑے ہنر سے یہ ہر بار جھوٹ بولتے ہیں
مجھے خبر ھے یہ فتوی لگے گا مجھ پہ وصال
میں جھوٹا ہوں مرے اشعار جھوٹ بولتے ہیں
یہاں پہ سارے ہی غم خوار ، جھوٹ بولتے ہیں
نہ ہے وہ مے، نہ وہ پیالہ ، نہ ہیں وہ میخانے
یہ رند جھوٹا ہے مے خوار جھوٹ بولتے ہیں
وہ ذائقہ تو پھلوں سے کسی نے چھینا ہے
پھلوں کے شکل میں اشجار جھوٹ بولتے ہیں
یہ اب سکوں جو نہیں ہے گھروں میں اس جیسا
تو یہ مکیں یا کہ معمار جھوٹ بولتے ہیں
نہ دل میں پیار کسی کا، نہ ہے حسین کوئی
ہیں پیار جھوٹے تو دلدار جھوٹ بولتے ہیں
یہ میرے شہر کے حاکم بہت ہی جھوٹے ہیں
بڑے ہنر سے یہ ہر بار جھوٹ بولتے ہیں
مجھے خبر ھے یہ فتوی لگے گا مجھ پہ وصال
میں جھوٹا ہوں مرے اشعار جھوٹ بولتے ہیں