بابا ویلنٹائن کی غیر مستند تاریخ- قسط نمبر: 15 دنگل
پچھلی اقساط کے لئے یہاں کلک کریں
جن کے حسد کی تلاش پر نکلنے کے بعد!!
"یار ویلنٹائن توں جیلر دے نال وٹا سٹہ کیوں نئی کر لیندا؟"
مولا جٹ نے اچھوتی تجویز دے ڈالی!
"کیا مطلب؟ اور وہ کیسے" ؟ ویلنٹائن مولا جٹ کا حیرت سے منہ تکنے لگا۔
"توں جیلر دی کڑی نوں پسند کرنا ویں اوہندے نال وہیا کر لے تے جن نوں کڑی بنا کے توں جیلر دے کار کلہیا وے، ایسے کڑی نال جیلر دے منڈے دا رشتہ طے کر دے۔"
مولا جٹ نے اپنی تجویز کی وضاحت کی۔
"میں کس خوشی میں جیلر کے لڑکے کو ایسا اچھا رشتہ دے دوں، اس نے جس بے دردری سے میری پٹائی کی تھی، ابھی تو اس کی ٹیسیں بھی ختم نہیں ہوئیں" ویلنٹائن رشتہ طے ہونے سے پہلے ہی جیلر کے لڑکے کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔
"اؤئے بھولے بادشاہ! چنگا رشتہ کاہدا، جیلر دا منڈا تے جن نال وہیا کر کے سہاگ رات نوں ای سڑ کے سوا ہو جاوے گا ، فیر توں ہوویں گا تے جیلر دی کڑی، موجاں ای موجاں"
مولا جٹ منصوبے کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا۔
"ایسے تو جیلر کا لڑکا قتل ہو جائے گا" ویلنٹائن خود کلامی کے انداز میں بولا
"ہییییں" سپاہی چلاتا ہوا، وہاں سے بے اختیار بھاگ نکلا
"اوئے اینہوں کی ہویا "
مولا جٹ نے حیرت سے ویلنٹائن سے پوچھا
"پتہ نہیں" ویلنٹائن بولا
"یار جیلر کے بیٹے کے قتل پر میرا دل نہیں مان رہا، اچھی بات نہیں ہے"
"تے اوہنے جیہڑا تینوں کٹیا سی تے تینہوں جیل اچ پا کے رکھیا، اوہندا کیہ"
مولا جٹ بولا
"یار پٹائی اور قید کا بدلہ قتل تو نہیں ہو سکتا نا" ویلنٹائن نے انصاف پسندی سے کام لیا
"اوس دن تے توں سپاہی نوں ذبح کرن لئی تیار سیں"
مولا جٹ نے یاد دلا
"یار اس دن میں بدحواس ہوگیا تھا" ویلنٹائن کے لہجے میں شرمندگی تھی۔
"تے جے او کڑی فیر سامنے آگئی تے فیر کی کرینگا، فیر سپاہی نوں لمیا پا لیں گا" یا کسے ہور یار نوں؟ میری تون ول نا ویکھ ، میں بندا مار سکنا واں آپ نئیں جان دے سکدا"
مولا جٹ نے ویلنٹائن کی ماضی کی بے وقوفی کو زہن میں رکھ کر پہلے ہی انتباہ کر دینا مناسب سمجھا
"یار اب میں اتنا بھی گیا گزرا نہیں ہوں کہ دوستوں کو مرواتا پھروں" ویلنٹائن ایک دفعہ پھر وضاحت دینے لگا۔
"ٹھیک اے سوہنیا"
مولا جٹ مسکرایا
"تو تم دونوں جیلر کے بیٹے کو مروانے کا منصوبہ بنا رہے ہو، پاگل تونہیں ہوگئے کیا" حوالدار اچانک آدھمکنے کے بعد چلایا
"آرام نال او آرام نال"
مولا جٹ لاپرواہی سے بولا۔
"تم ہی ہو وہی وحشی اجنبی ؟ کہاں سے آئے ہو تم" حوالدار کو مولاجٹ کا انداز پسند نہیں آیا
"توں کتھوں آیا ویں کن کھجوریا"
مولا جٹ کو بھی حوالدار کا تیز لہجہ پسند نہیں آیا
"تمہاری یہ جرات" ؟ حوالدار مارنے کے لئے مولا جٹ کی طرف بڑھا
مولا جٹ نے آگے بڑھ کر حوالدار کا ہاتھ پکڑ لیا جسے حوالدار کوشش کے باوجود چھڑا نہیں سکا۔
"تم قانون کی طاقت سے واقف نہیں ہو" حولدار نے ایک مرتبہ رعب ڈالنے کی ناکام کوشش کی
"تم قانون کونہیں ہرا سکتے"
"اوئے قانون تے اوہدوں ای ہار گیا سی جدوں تہاڈے ورگیاں جوٹھاں نوں پولس اچ پرتی کیتا سی"
مولا جٹ کے لہجے میں طنز تھا
"اچھا اک گل توں میں تیرے تو ہار من لاں گا، جے توں میرے کولوں اپنا کن چھڑا لیں"
مولا جٹ نے پیش کش کی۔
"یہ کونسا مشکل کام ہے" ؟ حوالدار جو دل ہی دل میں مولا جٹ کی جسمانی طاقت سے مرعوب ہوچکا تھا نے مولا جٹ کی پیش کش کو غنیمت جانا۔
حوالدار نے آگے بڑھ کر اپنا کان مولا جٹ کے ہاتھ میں دے دیا اور مولا جٹ نے حوالدار کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ حوالادار زور آزمائی کرنے لگا
ویلنٹائن اور سپاہی اس عجیب و غریب دنگل کو دیکھنے لگے ۔
کافی زور آزمانے کے بعد حوالدار کامیاب ہو ہی گیا۔
"دیکھا چھڑا لیا نا اپنا کان، چلو اب قانون کے آگے سر جھکاتے ہوئے یہاں سے رفو چکر ہو جاؤ" حوالدار فاتحانہ انداز میں اعلان کرکے اپنے کمرے کی طرف چلنے لگا۔
"او گل سن ! اپنا کن تے نال لے جا"
مولا جٹ نے پیچھے سے حوالدار کو آواز دی
پچھلی اقساط کے لئے یہاں کلک کریں
جن کے حسد کی تلاش پر نکلنے کے بعد!!
"یار ویلنٹائن توں جیلر دے نال وٹا سٹہ کیوں نئی کر لیندا؟"
یار ویلنٹآئن تم جیلر کے ساتھ وٹہ سٹہ کیوں نہیں کر لیتے ؟
"کیا مطلب؟ اور وہ کیسے" ؟ ویلنٹائن مولا جٹ کا حیرت سے منہ تکنے لگا۔
"توں جیلر دی کڑی نوں پسند کرنا ویں اوہندے نال وہیا کر لے تے جن نوں کڑی بنا کے توں جیلر دے کار کلہیا وے، ایسے کڑی نال جیلر دے منڈے دا رشتہ طے کر دے۔"
تم جیلر کی لڑکی کو پسند کرتے ہو، اس کے ساتھ شادی کر لو اور جن کو تم نے جو لڑکی بنا کر جیلر کے گھر بھیجا ہے اس کے ساتھ جیلر کے بیٹے کا رشتہ طے کر دو
"میں کس خوشی میں جیلر کے لڑکے کو ایسا اچھا رشتہ دے دوں، اس نے جس بے دردری سے میری پٹائی کی تھی، ابھی تو اس کی ٹیسیں بھی ختم نہیں ہوئیں" ویلنٹائن رشتہ طے ہونے سے پہلے ہی جیلر کے لڑکے کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔
"اؤئے بھولے بادشاہ! چنگا رشتہ کاہدا، جیلر دا منڈا تے جن نال وہیا کر کے سہاگ رات نوں ای سڑ کے سوا ہو جاوے گا ، فیر توں ہوویں گا تے جیلر دی کڑی، موجاں ای موجاں"
اؤے بھولے بادشاہ، اچھا رشتہ کیسا ، جیلر کا لڑکا تو شادی کی رات ہی جل کر راکھ ہو جائے گا، پھر تم ہو گے اور جیلر کی لڑکی موجیں کرنا
"ایسے تو جیلر کا لڑکا قتل ہو جائے گا" ویلنٹائن خود کلامی کے انداز میں بولا
"ہییییں" سپاہی چلاتا ہوا، وہاں سے بے اختیار بھاگ نکلا
"اوئے اینہوں کی ہویا "
اسے کیا ہوا
"پتہ نہیں" ویلنٹائن بولا
"یار جیلر کے بیٹے کے قتل پر میرا دل نہیں مان رہا، اچھی بات نہیں ہے"
"تے اوہنے جیہڑا تینوں کٹیا سی تے تینہوں جیل اچ پا کے رکھیا، اوہندا کیہ"
اور اس نے جو تم کو پیٹا تھا اور تمہیں جیل میں ڈالے رکھا اس کا کیا؟
"یار پٹائی اور قید کا بدلہ قتل تو نہیں ہو سکتا نا" ویلنٹائن نے انصاف پسندی سے کام لیا
"اوس دن تے توں سپاہی نوں ذبح کرن لئی تیار سیں"
اس دن تو تم سپاہی کو ذبح کرنے کے لئے تیار تھے؟؟
"یار اس دن میں بدحواس ہوگیا تھا" ویلنٹائن کے لہجے میں شرمندگی تھی۔
"تے جے او کڑی فیر سامنے آگئی تے فیر کی کرینگا، فیر سپاہی نوں لمیا پا لیں گا" یا کسے ہور یار نوں؟ میری تون ول نا ویکھ ، میں بندا مار سکنا واں آپ نئیں جان دے سکدا"
اگر وہ لڑکی پھر سامنے آگئی تو پھر کیا کرو گے؟ پھر اس سپاہی کو لٹا دو گے؟ یا کسی اور دوست کو قربان کر دو گے؟ میری گردن کی طرف نہ دیکھو میں کسی اور کو مار سکتا ہوں مگر خود اپنی جان نہیں دے سکتا
"یار اب میں اتنا بھی گیا گزرا نہیں ہوں کہ دوستوں کو مرواتا پھروں" ویلنٹائن ایک دفعہ پھر وضاحت دینے لگا۔
"ٹھیک اے سوہنیا"
ٹھیک ہے سوہنے
"تو تم دونوں جیلر کے بیٹے کو مروانے کا منصوبہ بنا رہے ہو، پاگل تونہیں ہوگئے کیا" حوالدار اچانک آدھمکنے کے بعد چلایا
"آرام نال او آرام نال"
آرام سے آرام سے
"تم ہی ہو وہی وحشی اجنبی ؟ کہاں سے آئے ہو تم" حوالدار کو مولاجٹ کا انداز پسند نہیں آیا
"توں کتھوں آیا ویں کن کھجوریا"
تو کہاں سے آٹپکے اؤے بچھو؟؟
"تمہاری یہ جرات" ؟ حوالدار مارنے کے لئے مولا جٹ کی طرف بڑھا
مولا جٹ نے آگے بڑھ کر حوالدار کا ہاتھ پکڑ لیا جسے حوالدار کوشش کے باوجود چھڑا نہیں سکا۔
"تم قانون کی طاقت سے واقف نہیں ہو" حولدار نے ایک مرتبہ رعب ڈالنے کی ناکام کوشش کی
"تم قانون کونہیں ہرا سکتے"
"اوئے قانون تے اوہدوں ای ہار گیا سی جدوں تہاڈے ورگیاں جوٹھاں نوں پولس اچ پرتی کیتا سی"
اؤے قانون تو تب ہی ہار گیا تھا جب تم جیسوں کوپولیس میں بھرتی کیا گیا تھا!!
"اچھا اک گل توں میں تیرے تو ہار من لاں گا، جے توں میرے کولوں اپنا کن چھڑا لیں"
اچھا اگر تم نے مجھ سے اپنا کان چھڑا لیا تو میں تم سے ہار مان لوں گا
"یہ کونسا مشکل کام ہے" ؟ حوالدار جو دل ہی دل میں مولا جٹ کی جسمانی طاقت سے مرعوب ہوچکا تھا نے مولا جٹ کی پیش کش کو غنیمت جانا۔
حوالدار نے آگے بڑھ کر اپنا کان مولا جٹ کے ہاتھ میں دے دیا اور مولا جٹ نے حوالدار کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ حوالادار زور آزمائی کرنے لگا
ویلنٹائن اور سپاہی اس عجیب و غریب دنگل کو دیکھنے لگے ۔
کافی زور آزمانے کے بعد حوالدار کامیاب ہو ہی گیا۔
"دیکھا چھڑا لیا نا اپنا کان، چلو اب قانون کے آگے سر جھکاتے ہوئے یہاں سے رفو چکر ہو جاؤ" حوالدار فاتحانہ انداز میں اعلان کرکے اپنے کمرے کی طرف چلنے لگا۔
"او گل سن ! اپنا کن تے نال لے جا"
او بات سن اپنا کان تو ساتھ لے جا
آخری تدوین: