اس کا مطلب ہے طلبا نے مشال کو اس کی گستاخی پر ہی ماراہے۔ لہذا اب یہ پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے کہ وہ گستاخ نہیں بے گناہ تھا۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ قتل جائز نہیں تو اس سے پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ گستاخی اور اختلاف میں زمین و آسمان کا فرق ہوتاہے۔
ہم خود تو مذہبی شدت پسندی کا راگ الاپتے ہیں لیکن ایسے گستاخوں کے معاملے میں دوغلا پن اختیار کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ کسی کا گستاخی کرنے کا مطلب یہی ہوتاہے کہ وہ ببانگِ دُہل کہہ رہاہوتاہے کہ آؤ مجھے قتل کرو۔۔۔ کیوں کہ میں اختلاف نہیں مانتا۔
لہذا ایسے بے وقوف پر آہ وزاری کرنا اس سے بھی زیادہ بے وقوفی ہے۔ مشال کے رویے اور فرشتہ صفت شخصیت کے متعلق اس کے دوست فرحان کا بیان سب کچھ واضح کردیتاہے۔
آصف اثر اگر اس وقت آپ مشال کا حشر دیکھتے تو آپ کو بھی رحم آجاتا اس کی حالت پر. اگر وہ گستاخ رسول تھا. تو لوگوں کا کام صرف اتنا تھا کہ اسے پولیس کے حوالے کرتے.
دوغلہ پن کیسا؟ گستاخی رسول کا قانون موجود ہے۔ جس نے گستاخی کا الزام لگایا ہے وہ عدالت میں جاکر ثابت کرے پھر عدالت کاروائی کرے۔ یہ کیا کہ بس ادھر الزام لگا اور ادھر بندہ مار مار کر دنیا سے فارغ کر دیا گیا۔ اسلامی بند دماغوں کو یہ بات کب سمجھ آئی گی قانون کے دائرہ سے باہر کسی کو بھی قتل کرنا کتنا بڑا جرم ہے۔ آصف اثر
عارف اسے الزام پر نہیں جرم پر مارا گیا۔میڈیا کے یک طرفہ منفی کردار ا نے مجھے ازخود تحقیق کرنے پر مجبور کیا۔ اس کی گستاخی کے گواہ اس کے ذاتی اور مستند ٹوئٹر اور فیس اکاؤنٹس ہیں جن سے میں نے خود قتل کے ایک دن بعد گستاخانہ مواد حاصل کیاتھا۔ کیوں کہ مجھے بھی شک تھا۔ اس کے علاوہ جامعہ کے دیگر طلبا اس کے عینی شاہد ہیں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ مشال فرشتہ صفت تھا. میں خود بھی فرشتہ صفت نہیں ایک گنہگار بندہ ہوں. مجھ سے نماز قضا ہوجاتی ہے. بہت سی برائیاں مجھ سے ہر روز ہوتی ہے. لیکن میری نظر میں مشال کو اس طرح مارنا سراسر غلط تھا.
آصف اثر اسکے بہیمانہ قتل کے بعد جس انداز سے مومنین نے اسکے سوشل اکاؤنٹس پر توہین آمیز مواد کی سپیمنگ کی ہے اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے بڑا گستاخ رسول اور کوئی نہیں تھا۔ بہرحال صحیح طریقہ قانونی کاروائی ہے نہ کہ مشتعل ہجوم کا وحشی پن
اے خان میں نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ طلبا نےاس کا جو حشر کیا تھا وہ درست ہے۔ میں ہمیشہ اصول اور قانون کی پاسداری کا قائل رہاہوں کیوں کہ ہماری شریعتِ مطہرہ ہی ہمیں قوانین کا اعلیٰ نمونہ پیش کرکے اس پر عمل پیرا ہونے پر زوردیتاہے۔ لہذا کسی مسلمان کے لیے قانون سے روگردانی روا نہیں۔میں صرف میڈیا میں بیٹھے ان متعصب اذہان کی بات کررہاہوں جو ہمیشہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔
میڈیا ٹرائل کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہ عدالتوں کا کام ہے۔ میڈیا کو تنقید مشتعل ہجوم کے وحشی پن پر کرنی چاہئے۔ آیا واقعی توہین ہوئی یا نہیں ہوئی، وہ تفتیش پولیس کر لے گی