مسلمانوں کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے اسلام بدنام ہوا ہے۔ مشعال نے گستاخی کی، برا کیا، اوپر سے مومنین نے اسپر دھاوا بول کر جان لے لی، مزید برا کر دیا۔ بد سے بدحال برا۔ پھر کہتے ہیں اسلام میں کوئی مسئلہ نہیں مسلمانوں میں ہے۔
اے خان جن ممالک میں مذہبی انتہا پسندی عام ہو، وہاں مذہب پر بات کرنا بھی زندگی موت کاسوال بن جاتا ہے۔ پتا نہیں کتنے مشال شہید ہوں گے تو لوگوں میں برداشت پیدا ہوگی۔ فی الحال مزید قربانیوں کی ضرورت ہے
دعا گو ہیں کہ دوبارہ ایسا نہ ہو. افسوس اس بات کا کہ یہ واقعہ ایسی جگہ پیش آیا جہاں کے لوگوں کو لوگ تعلیم یافتہ اور باشعور سمجھتے ہیں. لیکن یہ سچ ہے کہ ڈگری لینے سے کوئی باشعور نہیں بن جاتا.
لوگ باشعور کیسے ہوں گے جب انکو بچپن سے ایک خاص مذہبی رو میں ’’اسلامائز‘‘ کیا گیا ہوگا۔ اسلامی بند دماغ انہی لوگوں کیلئے اصطلاح ہے جو کئی دہائیاں ہائی ایجوکیشن کے باوجود اپنے دماغوں کو کھولنے میں ناکام رہتے ہیں
زیک گستاخی پہلے ہوتی ہے قتل بعد میں۔ لہذا پہلے گستاخی پر آپ اتنی ہی سخت تنقید کریں جتنی کہ گستاخ کی سزا پر۔
جب تک آپ گستاخی کا جڑ سے خاتمہ نہیں کریں گے تب تک گستاخ کی سزا پر یاوہ گوئی کرنامنافقت کا انتائی درجہ ہے۔
عارف عجیب بات ہے یونیورسٹی کے طلباء اور اس کے اکاؤنٹس کی گستاخانہ پوسٹس اس کی گستاخی پر گواہ ہیں۔ پھر بھی آپ کا باربار یہ دہرانہ کہ اسے الزام پر قتل کیا گیا سمجھ سے بالاتر ہے!