انکا خیال تھا گستاخ رسول کو مار کر مشتعل ہجوم میں غائب ہو جائیں گے۔ مگر انکی قسمت خراب تھی کہ اب وہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور پولیس میں سیاسی مداخلت برائے نام ہے۔ اب یہ قاتل گستاخ رسول علما دین کے ذریعہ بچ کردکھائیں
مذہبی گستاخی کے بارے میں مینکین کا یہ قول سمجھیں:
We must respect the other fellow's religion, but only in the sense and to the extent that we respect his theory that his wife is beautiful and his children smart.
علما کو درمیان میں لانے کی کیا تُک ہے؟
کسی بھی عالم نے اس کو اس طرح قتل کرنے کی حمایت نہیں کی ہے۔ یہ بات کسی کو نظر نہیں آتی اگر آبھی جاتی ہے تو چشم پوشی اختیار کرلیتے ہیں۔
میں پھر کہوں گا کا گستاخی کو ختم کرلو یہ واقعات خو دبخود ختم ہوجائیں گے!
اے خان معذرت میں نے یہاں تبصرے کے بعد پی.سی بند کر دیا تھا
اگر یہ لوگ نعرہ سے جمع ہوئے تھے تو تحریک انصاف کا کونسلر وہاں کیا کر رہا تھا؟یونیورسٹی میں کسی کو کسی بھی طرح کا نعرہ لگانے کی اجازت ہے؟
انتظامیہ سیکورٹی کہاں پائی جاتی ہے؟ ہماری یونیورسٹی میں تو اے.پی، جمیعت کی برکت سے سالہاسال سے سے پولیس رینجرز، یونیورسٹی کی اپنی سیکورٹی سب موجود ہوتی ہے
عمران کے پاس یونیورسٹی میں پستول کیا کر رہا تھا؟ ہماری یونیورسٹی میں تو کوئی ١٠-١٢ سال پہلے سے سافٹ ڈرنکس بھی پیپر گلاسز میں ملتی ہیں کہ شیشے کی بوتل ایک دوسرے کے سر پر توڑنے کے کام نہ آئیں
کسی کوریڈور میں ٤-٥ لوگ بلا وجہ کھڑے ہوں راستہ میں تو یونیورسٹی ملازمین انہیں راستہ دکھا دیتے ہیں، یہاں ہزاروں لوگ اکٹھے ہونے کیسے دیے گئے، اور ہاسٹل کی سیکورٹی تو پہلے سے ہی زیادہ ہونی چاہیے تھی
یونیورسٹی کی اپنی سیکورٹی بہت ہے. لیکن طلباء کو روکنا ان کے لئیے مشکل ہے. کیونکہ جو یونیورسٹی سیاست کے بھینٹ چڑھ جاتی ہے. وہاں پر جنگل کا قانون ہوتا ہے. انتظامیہ برائے نام ہی موجود ہے. اور پھر طلباء تنظیمیں رہی سہی کسر پوری کرلیتی ہے.
اور مشال کا واقعہ پولیس کے سامنے ہی ہوا ہے. کچھ طلباء تھے جو پولیس کو کہہ رہے تھے کہ آپ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کچھ کریں لیکن پولیس صرف تماشا کررہی تھی. پولیس نے منافقت کا مظاہرہ کیا. جیسے ہی مشال کا قتل ہقا اس کے بعد پولیس حرکت میں آئی.
یونیورسٹی انتظامیہ کا کردار شروع سے مشکوک لگ رہا ہے اور غیر متعلقہ افراد کی موجودگی بھی سمجھ سے بالا تر ہے، وہ کونسلر باقاعدہ حلف لے رہا ہے، اگر مشعال گستاخ بھی تھا تو اس کو کیسے خبر ہوئی؟
جو سیکورٹی طلباء کو نہیں روک سکتی تو پھر وہ کس کو سیکیور کر سکتی ہے؟
غیر متعلقہ افراد کا آنا طلباء کے پاا پستول کا ہونا انتظامیہ کی نااہلی ہے. اور انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سیاسی تنظیمیں ہیں. اور پولیس کی نا اہلی ہے کہ وہ طلباء کو منتشر کیوں نہ کرسکے.
سیاسی تنظیموں کی وجہ سے ہی یہاں کراچی کی یونیورسٹیز میں رینجرز موجود ہیں اور اب سے نہیں سالوں سے ہیں۔ ہمارے پچھلے مرحوم وی.سی صاحب نے ماحول بہت حد تک بہتر بنایا ہے اور اسی لیے میری عقل میں یہ بات نہیں آ رہی کہ اتنا بڑا اجتماع یونیورسٹی میں جمع کیسے ہو سکتا ہے مگر وہاں تو وی.سی تک موجود نہیں تھا اور پی.ٹی۔آئی کے ممدوحین پھر بھی اس پر غور کرنے کو تیار نہیں