نتائج تلاش

  1. امان زرگر

    رائے درکار ہے

    رد یا مطلع قرار پا سکتا ہے؟ . بزم نوحہ گری رسم تیرہ شبی ماورا فہم سے عالم دلبری
  2. امان زرگر

    اصلاح کی درخواست

    جب کبھی آنکھوں سے آ کر وہ ملائیں آنکھیں بن کے درمان نیا زخم لگائیں آنکھیں ہوں خفا اتنا میں آج ان سے نہ مانوں ہرگز ایک صورت ہے مجھے آ کے منائیں آنکھیں جائیں مقتل کو بصد شوق زمانے والے ایسے پلکوں کے اشارے سے بلائیں آنکھیں دل کے تڑپانے کو کافی ہیں یہ غم دنیا کے بزم ہستی میں ستانے کو نہ آئیں آنکھیں...
  3. امان زرگر

    اصلاح درکار ہے

    جادہ پیما ہے کاروانِ بہار غمزۂ گل جنوں سے ہے دوچار باندھ ڈالا ہے دل نے رختِ سفر غمِ جاناں سے ہو گیا بیزار مشقِ تازہ ہے اک رواں دل میں دھڑکنیں خوں زدہ لکھیں اشعار عشقِ سوزاں کی پھر بحث کیجو کچھ سنوارو اگر لبِ گفتار داغِ لالہ کو کب روا مرہم دلِ عاشق ہے کب بھلا بیمار . یا پھر داغِ لالہ کو کب روا...
  4. امان زرگر

    بغرضِ اصلاح پیشِ خدمت ہے

    دھڑکنوں کو ملے کبھی جو زباں قصۂ درد ہو سکے گا بیاں خو روانی کی کچھ ہو گر پیدا لفظ قرطاس پر ہوں رقص کناں خود شناسی کہ جرم ٹھہرا ہے پھر ہمیں کیوں ملے ہمارا نشاں کی تغافل کی بات تو بولے ہم پہ لازم کہاں تھا ہر پیماں بوئے گل سے ہیں خندہ رو دونوں دست گلچین و بلبل بستاں
  5. امان زرگر

    برائے اصلاح

    رونق ضو چرخ گل میں چاند اترا صحن دل میں غم زدوں نے چارہ سازی ڈھونڈ لی عارض کے تل میں . ہم قافیہ الفاظ عطا کریں یا بصورت قطعہ اصلاح کے لئے قبول فرما لیں. اگرچہ دل غزل کی طرف ہے سر الف عین سر محمد ریحان قریشی
  6. امان زرگر

    غزل بغرض اصلاح

    سر محمد ریحان قریشی سر الف عین محترمہ La Alma سر راحیل فاروق حرف بنتے گئے مرا عنواں میری مشکل نہ پھر ہوئی آساں سرو و سیمول خوشنما خوش قد تیری خوش قامتی پہ ہوں قرباں قرب جاناں طلب کریں کیونکر لطف ساماں ہے موسم ہجراں پند و ناصح بھی رشکِ ساماں سے نوکِ مژگاں کے روبرو حیراں جہد خاماں عبث تری تدبیر...
  7. امان زرگر

    ایک شعر اصلاح کے لئے

    سرو و سیمول خوشنما خوش قد تیری خوش قامتی پہ جاں واریں
  8. امان زرگر

    غزل اصلاح کی خاطر پیشِ خدمت ہے

    سر الف عین سر محمد ریحان قریشی محترمہ La Alma سر راحیل فاروق فاعلاتن مفاعلن فعلن ۔ قصہ درد بھی کبھی لکھنا اپنی عادت رہی خوشی لکھنا چارہ سازوں سے بس روا نہ ہوا اک تسلی کا حرف ہی لکھنا یہ جو حالت خراب ہے اپنی تم سبب اس کا دلبری لکھنا موسمِ گل خزاں بداماں سے حالِ گلچیں کی خستگی لکھنا بزمِ رنداں،...
  9. امان زرگر

    نوا جرس گل

    فعولن فعولن فعولن فعل . . نوا جرس گل بانکپن صبح نو سنا نغمہ شیریں سخن صبح نو سکھا خوئے تازہ زمانے کو یوں بدل ڈالے طرز کہن صبح نو کبھی چھوڑے فطرت جو مشاطگی! کریں کچھ تو ہم بھی جتن صبح نو رکھیں رشتہ قائم جو برگ و سمن تبھی گل ہو رشک چمن صبح نو یہ انداز و اطوار بدلو ابھی یہ بادہ یہ خم انجمن صبح نو
  10. امان زرگر

    آؤ پتھر کو پھول سے بدلیں

    آؤ پتھر کو پھول سے بدلیں اپنی ضد کو اصول سے بدلیں نور بخشے جو سرمہ آنکھوں کو ان کے پاؤں کی دھول سے بدلیں لوح قسمت میں جو لکھا ہے ملے لالہ و گل ببول سے بدلیں شوق طاعت ہوس سے برتر ہے لفظ منکر قبول سے بدلیں آج گردوں خزاں نصیب لگے موسم گل ملول سے بدلیں
  11. امان زرگر

    تولو جو ترازو میں ستم اپنے وفا میری

    تولو جو ترازو میں ستم اپنے وفا میری. آ جائے نظر تم کو کرم اپنا سزا میری. برباد اگر ہوں گے تو ہاتھوں سے جنوں کے ہی . اغیار سے نسبت ہو نہیں طرز ادا میری. یوں بھٹکے ہے جاں اپنی منزل کا نشاں پا کر. کچھ تیرا تغافل ہے کچھ اس میں خطا میری. احساس زیاں غم کا کرے کچھ تو مداوا بھی. دکھلائے طلاطم سا پھر موج...
  12. امان زرگر

    دیا بجھانے کی ضد میں ہیں وہ

    دیا بجھانے کی ضد ہے ان کو. اندھیرا لانے کی ضد ہے ان کو. اجاڑ کر میرے دل کی بستی. نئے ٹھکانے کی ضد ہے ان کو. نگاہ و دل جن کے منتظر تھے. نظر چرانے کی ضد ہے ان کو. نیا ہے منظر نئے زمانے. کہاں پرانے کی ضد ہے ان کو. بدل کے چرخ کہن کو نو سے. ستم اٹھانے کی ضد ہے ان کو. بھلا سا دنیائے آب و گل میں. نگر...
  13. امان زرگر

    عشق مجنوں بنائے دیتا ہے

    عشق مجنوں بنائے دیتا ہے. بات یونہی بڑھائے دیتا ہے. دھار لیتا ہے چاند روپ ان سا. آہ کیا ظلم ڈھائے دیتا ہے. پھرتا رہتا ہے ان کی گلیوں میں. سارے جھگڑے بھلائے دیتا ہے. روئے دیرینہ، کارگاہ سحر. عزم نو کو دکھائے دیتا ہے. لاد لیتے ہیں عجز کاندھے پر. ان کے در پر جھکائے دیتا ہے.
  14. امان زرگر

    اشک گردوں سے روانی سیکھیں

    اشک گردوں سے روانی سیکھیں. غم کی روداد سنانی سیکھیں. درد پرکیف رہے سوزاں بھی. رونی صورت جو بنانی سیکھیں. باد نو خیز چلے غنچے کھلیں. آنکھ گلچیں جو بچھانی سیکھیں. اک تغیر ہے بپا عالم میں. اب روش کہنہ بھلانی سیکھیں. ہم کہ مجبور سے انساں ٹھہرے. کس طرح برق فشانی سیکھیں.
  15. امان زرگر

    کیا یہ مطلع ہو سکتا ہے؟(مفتعلن فاعلن مفتعلن)

    دل پہ اثر آہ پرسوز کرے. چشم زدن اشک آموز کرے.
  16. امان زرگر

    برائے اصلاح (اک حقیقت یا فسانہ زندگی)

    اک حقیقت یا فسانہ زندگی. راز ہستی کا بہانہ زندگی. ارتباط آب و گل اور رنگ و بو. حسن فطرت کا نشانہ زندگی. آشیاں سے اس پرے منظر کئی. اک تلاش آب و دانہ زندگی. اس کی وسعت میں نہاں ارض و سما. ایک رمز صوفیانہ زندگی. اتفاقی ہے تجرد ذات کا. مجھ میں پنہاں صد زمانہ زندگی.
  17. امان زرگر

    اصلاح درکار.. دل پہ اک حالت تھی طاری چھوڑ دی

    عشق مجنوں بنائے دیتا ہے. بات یونہی بڑھائے دیتا ہے. دھار لیتا ہے چاند روپ ان سا. آہ کیا ظلم ڈھائے دیتا ہے. پھرتا رہتا ہے ان کی گلیوں میں. سارے جھگڑے بھلائے دیتا ہے. روئے دیرینہ، کارگاہ سحر. عزم نو کو دکھائے دیتا ہے. لاد لیتے ہیں عجز کاندھے پر. ان کے در پر جھکائے دیتا ہے.
  18. امان زرگر

    ان کے جیسا جہاں میں ۔۔۔ امان اللہ

    ان کے جیسا کوئی دو جہاں میں نہیں۔ جانِ عالم ہیں وہ اور سب سے حسیں۔ چھو کے دامانِ رحمت چلی جب ہوا۔ فصلِ گل چھا گئی غنچئہِ گل کھلا۔ پھر خزاں ہو گئی جا کے خلوت گزیں۔ حسنِ انوار سے پھر منور ہوا۔ خلد سے برتری کا تصور ہوا۔ دشت تھا تیرگی کے جو پہنچا قریں۔ ذات اقدس نے بخشا ہے پائے شرف۔ معجزے رونما ان...
  19. امان زرگر

    غزل اصلاح کے واسطے۔۔ (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)

    ہم نے عجز و انکساری چھوڑ دی۔ خواہشوں کی پیروکاری چھوڑ دی۔ اوڑھ کر تن پر لبادہ ذات کا۔ بے خودی، بے اختیاری چھوڑ دی۔ گر تڑپنا ہی مقدر ہے تو پھر۔ کوئے زنداں آہ و زاری چھوڑ دی۔ دل ہوا جب خوگرِ رنج و الم۔ سو وہ رسمِ غمگساری چھوڑ دی۔ ظلمتِ شب کا مداوا کس طرح۔ روشنی نے لالہ کاری چھوڑ دی۔
  20. امان زرگر

    نعت اصلاح کی خاطر پیشِ خدمت ہے( فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)

    ان کے جیسا کوئی دو جہاں میں نہیں۔ جانِ عالم ہیں وہ اور سب سے حسیں۔ چھو کے دامانِ رحمت چلی جب ہوا۔ فصلِ گل چھا گئی غنچئہِ گل کھلا۔ پھر خزاں ہو گئی جا کے خلوت گزیں۔ حسنِ انوار سے پھر منور ہوا۔ خلد سے برتری کا تصور ہوا۔ دشت تھا تیرگی کے جو پہنچا قریں۔ ذات اقدس نے بخشا ہے پائے شرف۔ معجزے رونما ان...
Top