نتائج تلاش

  1. سحر کائنات

    اتباف ابرک

    اک مسلسل سے امتحان میں ہوں جب سے رب میں ترے جہان میں ہوں صرف اتنا سا ہے قصور مرا میں نہیں وہ ہوں جس گمان میں ہوں کون پہنچا ہے آسمانوں تک ایک ضدی سی بس اڑان میں ہوں جس خطا نے زمین پر پٹخا ڈھیٹ ایسا، اسی دھیان میں ہوں اپنے قصے میں بھی یوں لگتا ہے می‍ں کسی اور داستان میں ہوں در و دیوار بھی...
  2. سحر کائنات

    آج کا عنوان

    آج ٹی وی چینلز بدلتے ہوئے اچانک بول ٹی وی چینل پر ایک شو کی جھلک دیکھنے کو ملی۔تجسس اور اشتیاق میں کچھ دیر دیکھا کہ یہ آخر کیا ہے؟ شو کا نام تھا "ٹک ٹاک شو (گھر سے کروڑ پتی)" جس میں مختلف ٹک ٹاک ویڈیوز دکھائی جا رہی تھیں اور اینکر پرسن یہ اعلان کر رہا تھا کہ سب سے اچھی ویڈیو کو لاکھوں روپے...
  3. سحر کائنات

    اتباف ابرک

    کیسے ٹکڑوں میں کوئی شخص سنبھالا جائے جس نے جانا ہے کہو سارے کا سارا جائے جب ہے برسات کسی اور کے آنگن کے لئے اس کا کیچڑ بھی مرے گھر نہ اتارا جائے ہے بری بات یہ سرگوشیاں محفل کو بتا سرِ بازار مرا قصہ اچھالا جائے زندگی میری ہے تو مجھ کو عطا کی جائے ہے مرا حق تو مجھے اور نہ ٹالا جائے شور اٹھتا...
  4. سحر کائنات

    اردو ہے جس کا نام

    #اردو_ریختی_نہیں_ایک_اعزاز_ہے۔ اُردُو کا دامَن تنگ کہنے والوں پر ہنسی آتی ہے ۔ حالانکہ ذرا دھیان دیں تو بُہُت سی مِثالیں ایسی مِل جائیں گی جو ایسی بات کہنے والوں کی نفی کرتی ہیں ۔ مثلاً : 1 - رِشتوں کیلِئے اُردُو میں الفاظ کی جو نیرنگی پائی جاتی ہے وُہ انگریزی بی بی میں عنقا ہے جیسے...
  5. سحر کائنات

    اعتبار ساجد غزل

    چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیں چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیں در بدر خود کو جو دن رات لیے پھرتے ہیں اپنی مجروح اناؤں کو دلاسے دے کر ہاتھ میں کاسۂ خیرات لیے پھرتے ہیں شہر میں ہم نے سنا ہے کہ ترے شعلہ نوا کچھ سلگتے ہوئے نغمات لیے پھرتے ہیں مختلف اپنی کہانی ہے زمانے بھر سے...
  6. سحر کائنات

    شعر

    کوئی فلسفہ نہیں اور عشق کا جہاں دل جھکے وہیں سر جھکا, ہر سجدے میں كر فقط اك دعا نہ خيال آئے خیال یار كے سوا...!
  7. سحر کائنات

    امجد اسلام امجد غزل

    امجد اسلام امجد کی سگنیچر غزل ، ایک سے ایک شعر لاجواب اور بے مثال۔ آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا وہ شخص ، ایک شام میں کتنا بدل گیا کُچھ دن تو میرا عکس رھا ، آئینے پہ نقش پھر یوں ھُوا ، کہ خُود میرا چہرا بدل گیا جب اپنے اپنے حال پہ ، ھم تم نہ رہ سکے تو کیا ھُوا ، جو ھم سے زمانہ بدل گیا...
  8. سحر کائنات

    عباس تابش غزل

    تیرے گمنام اگر نام کمانے لگ جائیں شرف و شیوہ و تسلیم ٹھکانے لگ جائیں جس طرح نور سے پیدا ہے جہانِ اشیاء اک نظر ڈال کے ہم بھی نظر آنے لگ جائیں یہ بھی ممکن ہے کوئی روکنے والا ہی نہ ہو یہ بھی ممکن ہے یہاں مجھ کو زمانے لگ جائیں دیکھ اے حسنِ فراواں یہ بہت ممکن ہے میرا دل تک نہ لگے تیرے خزانے لگ...
  9. سحر کائنات

    شعر

    ‏شاعری منع، زباں بند، محبت سے گریز اس نے تشخیص سے پہلے مرے پرہیز لکھے
  10. سحر کائنات

    شعر

    مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا اس کو چھٹی نہ ملی جس کو سبق یاد ہوا
  11. سحر کائنات

    سلیم کوثر کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ : غزل

    کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ چشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ کب سے راہوں میں تری گرد بنے بیٹھے ہیں تجھ سے ملنے کے لیے وقت کو ٹالے ہوئے لوگ کہیں آنکھوں سے چھلکنے نہیں دیتے تجھ کو کیسے پھرتے ہیں ترے خواب سنبھالے ہوئے لوگ دامن صبح میں گرتے ہوئے تاروں کی طرح جل رہے ہیں تری...
  12. سحر کائنات

    شعر

    کبھی تو شہر ستم گراں میں کوئی محبت شناس آئے وہ جس کی آنکھوں سے نور چھلکے لبوں سے چاہت کی باس آئے ہماری جانب سے شہر والوں میں یہ منادی کراؤ شاہد جسے طلب ہو متاع غم کی, وہ ہم فقیروں کے پاس آئے
  13. سحر کائنات

    شعر

    ہم تو تیرے بغیر جینے کی............. پہلی کوشش میں مارے جائیں گے
  14. سحر کائنات

    سلیم کوثر ابھی جو گردشِ ایام سے ملا ہوں میں ::غزل

    ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میں سمجھ رہی تھی کسی کام سے ملا ہوں میں شکست شب تری تقریب سے ذرا پہلے دیے جلاتی ہوئی شام سے ملا ہوں میں اجل سے پہلے بھی ملتا رہا ہوں پر اب کے بڑے سکوں بڑے آرام سے ملا ہوں میں تری قبا کی مہک ہر طرف نمایاں تھی ہوائے وادئ گل فام سے ملا ہوں میں میں جانتا ہوں...
  15. سحر کائنات

    شعر

    تیری قُربت بھی قیامت تِری دُوری بھی عذاب دِل کو تسکین کی صُورت__ کِسی پہلُو نہ مِلی
  16. سحر کائنات

    شعر

    میں نے خود کو خود میں کھو کر تیری زات میں خود کو کھوجا ہے۔۔۔۔
  17. سحر کائنات

    شعر

    کہاں کہاں سے مِہرباں رَفُو گَری کرتے سَ۔۔طُورِ زِیست پر ہر لَفظ آَرِی جیسا تھا
  18. سحر کائنات

    شعر

    محبت بھی مقدس ہے صحیفوں کی طرح شاید بہت کم نے اسے سمجھا__بہت نے طاق پر رکھا
  19. سحر کائنات

    غزل

    کناروں سے جدا ہوتا نہیں طغیانیوں کا دکھ نئی موجوں میں رہتا ہے پرانے پانیوں کا دکھ کہیں مدت ہوئی اس کو گنوایا تھا مگر اب تک مری آنکھوں میں ہے ان بے سر و سامانیوں کا دکھ تو کیا تو بھی مری اجڑی ہوئی بستی سے گزرا ہے تو کیا تو نے بھی دیکھا ہے مری ویرانیوں کا دکھ شکست غم کے لمحوں میں جو غم...
  20. سحر کائنات

    غزل

    مجھے پہلے پہل لگتا تھا ، ذاتی مسئلہ ہے میں پھر سمجھا ، محبت کائناتی مسئلہ ہے پرندے قید ہیں، تم چہچہاہٹ چاہتے ہو تمہیں تو اچھا خاصا نفسیاتی مسئلہ ہے بڑی مشکل ہے بنتے سلسلوں میں یہ توقف ہمارے رابطوں کی بے ثباتی مسئلہ ہے وہ کہتے ہیں کہ جو ہوگا وہ آگے جا کے ہو گا تو یہ دنیا بھی کوئی تجرباتی مسئلہ...
Top