احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
ایک پرانی غزل پیش کر رہا ہوں . حسب معمول آپ کی رائے کا انتظار رہےگا .
حصارِ ذات سے گر ہَم نکل نہیں سکتے
دیے ہمارے تَفَکُّر كے جل نہیں سکتے
ہے انقلا بِ زمانہ کا خواب بے معنی
ہَم اپنے آپ کو جب تک بَدَل نہیں سکتے
کُھلی فضا کی ضرورت جنہیں ہو وہ پودے
گھنے درخت كے سائے...