ایک اور غزل سی غزل آپکی اصلاح و آراء کے لیئے حاضر ہے۔
کب تلک یہ ستم اٹھائے دل
درد ہو اور مسکرائے دل
کسنے لوٹا ہے چین سب اسکا
نام کس کا بھلا بتائے دل
کل تلک جو عزیز از جاں تھا
آج کیسے اسے بھلائے دل
خون بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے
کس کو اپنا بھلا بنائے دل
عشق کا روگ مار دیتا ہے
کب...