غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
اقدار کا کسی کو یہاں پاس بھی نہیں
اور پاس کی تو چھوڑیے، احساس بھی نہیں
احساس بار بار کے حملوں سے مر گیا
کیا آس کی ہو صبح، شبِ یاس بھی نہیں
اس بزمِ بے نیاز کی کیا قدر دل میں ہو
میرے وجود کا جسے احساس بھی نہیں
دریا بھی آس پاس ہے اور بحر بھی قریب
افسوس یہ کسی کو یہاں...
غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
پیارسے دیکھو تو بادل میں چھپا جاتا ہے
آج احساس ہوا چاند بھی شرماتا ہے
منتظر بیٹھا ہو جس کا کوئی محبوب رفیق
شام ڈھلتی ہے تو وہ لوٹ کے گھر آتا ہے
جاگتی آنکھوں کو رکھتا ہے جھلک سے محروم
کون ہے یہ جو مجھے خواب میں بہلاتا ہے
میرا محبوب بھی لوٹے گا نئی شان کے ساتھ
بعد اماوس...
غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
ہمیشہ بات بڑھانے کی بات کرتے ہیں
ہیں کیسے اپنے، ستانے کی بات کرتے ہیں
وہ اپنی بات کہیں اور ہماری بات سنیں
نہ جانے کیوں وہ زمانے کی بات کرتے ہیں
مرے رقیب کی میرے ہی سامنے تعریف
وہ دل میں آگ لگانے کی بات کرتے ہیں
ہمیں نے زیست تمام انکے نام کرڈالی
ہمیں سے پیچھا...
غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
نہیں ہے اپنا مگر غیربھی نہیں لگتا
وہ اجنبی ہے تو کیوں اجنبی نہیں لگتا
ہے مجھ سے پیار اسے؟ "ہاں'،"نہیں ہے"،"شاید ہے"
کبھی تو لگتا ہے "بالکل"، کبھی نہیں لگتا
تمہارے ہونٹوں پہ آیا ہی کیسے غیر کا نام
تمہارا پیار مجھے دائمی نہیں لگتا
ہر ایک سمت ہے اک قبر کی سی تنہائی
ترے...
غزل
از: ڈاکٹر جاوید جمیل
خوابوں کے جزیرے پر رہتا ہوں خوشی سے میں
چھپ کر کے حقیقت سے ملتا ہوں کسی سے میں
خود سے ہی تغافل میں اک عمر گزاری ہے
پہچان لے اب خود کو کہتا ہوں خودی سے میں
محبوب بتا تو ہی کیا یہ نہیں پاگل پن
اک شخص کی چاہت میں لڑتا ہوں سبھی سے میں
آوارہ صفت ہوں میں دنیا کو پتہ ہے یہ...
غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
اشارہ ہو تو خدا کی قسم چلے جائیں
تری نظر سے کہیں دور ہم چلے جائیں
ہمیں یہ ڈر ہے کہ بے نام ہو نہ جائیں کہیں
اکیلا چھوڑ کے اہلِ کرم چلے جائیں
کہیں قریب ہی سودوم کا علاقہ ہے
یہاں سے تیز بڑھا کے قدم چلے جائیں
نہ جانے آئینگے مہدی نکل کے کس جگ میں
جہاں سے جلد یہ ظلم و ستم...
غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
اتنا آساں کہاں سامانِ بقا ہو جانا
دل میں احساسِ فنا کا بھی فنا ہو جانا
عشق دراصل ہے بے لوث وفا ہو جانا
عشق کی راہ میں خود سے بھی جدا ہو جانا
انکے ماتھے پہ لکیریں نہیں آنے پائیں
انکے ہاتھوں کی لکیروں کی حنا ہو جانا
ہونٹ ناراض تھے، آنکھیں تھیں مجسم الفت
انکے بس میں...
غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
زیست نعمت نہ سہی، وقت کی گردش ہی سہی
ابرِ رحمت نہ سہی، آتشِ شورش ہی سہی
دل مرا آپکا ہے، جان مری آپکی ہے
آپکو مجھ سے سدا کے لیے رنجش ہی سہی
زیست میں آکے مری مجھ کو پرکھ لے اک بار
حکم تو چلتا نہیں تجھ پہ، گزارش ہی سہی
اس کے دامن میں مجھے بسنا ہے ہر حالت میں
سیدھے سیدھے...
غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
ہمدرد مرا یوں تو بظاہر ہے بڑا وہ
رستہ نہیں دیتا ہے کہ شاطر ہے بڑا وہ
انگ انگ مرا اسکا پرستار ہوا ہے
محکوم بنا ڈالا ہے، ساحر ہے بڑا وہ
برجستہ ہراک بات پہ دل کہتا ہے واہ واہ
سامع ہوں میں گویا، کوئی شاعر ہے بڑا وہ
اک بت ہے کراتا ہے مگر مجھ سے پرستش
کافر ہوں، مگر مجھ سے...
غزل
(ڈاکٹر جاوید جمیل)
قصّہ دردِ دل سناتےکیا
خوش تھی محفل بہت، رُلاتےکیا
ایک طوفان سا تھا یادوں کا
چاہتےبھی تو روک پاتے کیا؟
آرزو کی ہے خو گلے پڑنا
آرزو کو گلے لگاتے کیا
انکا ہر جلوہ جان لیوا ہے
ملتے رہتےتو جاں سے جاتے کیا؟
آخرِشب تھی شمع چپ چپ تھی
اب اسے اور ہم جلاتے کیا
کر دیا ہم نےخم...
غزل
(ڈاکٹر جاوید جمیل)
عیاں تڑپ میں کوئی زورِ آرزو ہی نہیں
ملے گا کیسے اگر شوقِ جستجو ہی نہیں
بھنویں چڑھائیں، نظر پھیری، فخر سے بولے
ہمارے چاہنے والے بہت ہیں، تو ہی نہیں
میں روح بن کے ہر اک دل ٹٹول آیا ہوں
ہو جس میں گرمیِ جذبات، وہ لہو ہی نہیں
بیاں کمال کو یوں کر کہ معجزہ ہو جائے
یہ کیسی...
غزل
ڈاکٹر جاوید جمیل
الفت میں بھول جائیں وہ لیل و نہار کاش
طاری اسی طرح رہے ان پر خمار کاش
محبوب کی شرارتیں محبوب ہیں مگر
معصومیت کا جز بھی رہے برقرار کاش
آتا ہے جیسے پیار مجھے ان پہ بار بار
ایسے ہی مجھ پہ آنے لگے انکو پیار کاش
آؤں کبھی میں پہلے، کبھی پہلے آئیں وہ
دونوں پہ گزرے کیفیتِ...
غزل
(ڈاکٹر جاوید جمیل)
کیا ہوگا کوسنے سے نصیبوں کو بار بار
کوشش بھی کرنی ہوگی غریبوں کو بار بار
اب عشق میں چلے گا جنوں سے نہ کام صرف
دینی شکست ہوگی رقیبوں کو بار بار
اے دشمنانِ حق، کبهی مرتے نہیں مسیح
بیشک سجاتے رہنا صلیبوں کو بار بار
خطروں سے ہوشیار رہیں ساکنانِ شہر
اعلان کرنا ہوگا نقیبوں کو...