فارسی زبان کا قاعدہ
وقت جو موجود ہے وہ حال ہے
گزرا ماضی ، آتا استقبال ہے
فعل اپنا نام وہ پا جائے گا
اس کے اندر جو زمانہ آئے گا
جمع جس میں حال و استقبال ہو
وہ مضارع ہوتا ہے اے نیک خو
امر کیا ہے؟ چاہنا اک کام کا
منع کرنا نہی ہے اے باصفا
جو کرے اک کام فاعل اس کو جان
فعل واقع جس پہ ہو مفعول مان
کلمہ سے کلمہ جو پیدا تم کرو
اشتقاق اُس کا ہے نام اے نیک خو
صیغے نکلیں جس سے مصدر اس کو جان
اس کے آخر دَن ہو یا تَن اے جوان
نون کو جب دور مصدر سے کیا
ماضی مطلق کا صیغہ بن گیا
ماضی مطلق پہ جب آتا ہے است
بنی ہے ماضی قریب اے حق پرست
بود جب ماضی پہ آیا اے سعید
یاد رکھ وہ بن گئی ماضی بعید
آئے جب ماضی پہ باشد اے ہمام
احتمالی اور شکیہ ہو نام
مل کے مے اول ہو ماضی ناتمام
جو ہے استمراری نزد خاص و عام
ماضی کے آخر میں ے آئے اگر
ہو تمنائی بلا خوف و خطر
یاد رکھ ان دونوں ماضی کا اثر
ہوویں مستعمل بجائے یک دگر
ہے یہ مستقبل بنانے کا طریق
ماضی پہ خواہد لگا دے اے رفیق
پر مضارع کا نہیں اے باوفا
کوئی مستحکم قیاسی قاعدہ
ہاں پتہ آخر کا ہے یہ یاد کر
دال ساکن اُس کے اول ہو زبر
گر بنانا حال چاہے اے اخی
مے مضارع پر لگا دے یاہمی
امر حاضر کا سنو اب قاعدہ
حرف آخر دو مضارع سے گرا
ب بھی آ جاتی ہے زائد مر پر
بر ببر ، بشکن شکن ، بگذر گذر
بے کے بدلے امر پر گر میم آئے
نہی بن جتی ہے سن اے نیک رائے
اسم فاعل کا بنانا ہو اگر
امر پر لفظ ندہ ایزاد کر
ہوئے ہوز ماضی مطلق پہ لا
اسم مفعول اس طرح بن جائے گا
ان ضروری قاعدوں کو یاد کر
اور خدا کی یاد سے دل شاد کر
(’’فارسی زبان کا آسان قاعدہ‘‘ سے ماخوذ) تالیف مولانا مشتاق احمد چرتھاولی