انیس جان
محفلین
برائے اصلاح
الف عین
حسب نسب کے نہیں, ہے یہ سلسلے تنہا
جنون وعشق کے ہوتے ہیں راستے تنہا
پھر اس کے بعد ہوا کیا ہمارے ساتھ وہاں
نہ پوچھ, آگئےجب ,چھوڑکر مجھے تنہا
ذرا سی بھی نہیں وحشت کہ ہم کو عادت ہے
کرے گی قبر میں اے موت! تو کسے تنہا
جو خوش ہوئے تو کہیں بیٹھ کر ہنسی کر لی
غموں نے گھیر لیا جب تو رو دیے تنہا
اے آسمان! درندوں کا رزق بن جاؤں
کسی پہاڑ کی چوٹی پہ مار دے تنہا
تمام شہر میں اک بھی ملا نہ دل کا دوست
انیس خوش ہوں بیاباں میں اس لیے تنہا
الف عین
حسب نسب کے نہیں, ہے یہ سلسلے تنہا
جنون وعشق کے ہوتے ہیں راستے تنہا
پھر اس کے بعد ہوا کیا ہمارے ساتھ وہاں
نہ پوچھ, آگئےجب ,چھوڑکر مجھے تنہا
ذرا سی بھی نہیں وحشت کہ ہم کو عادت ہے
کرے گی قبر میں اے موت! تو کسے تنہا
جو خوش ہوئے تو کہیں بیٹھ کر ہنسی کر لی
غموں نے گھیر لیا جب تو رو دیے تنہا
اے آسمان! درندوں کا رزق بن جاؤں
کسی پہاڑ کی چوٹی پہ مار دے تنہا
تمام شہر میں اک بھی ملا نہ دل کا دوست
انیس خوش ہوں بیاباں میں اس لیے تنہا