ہماری پکار بہ مقابلہ قرآن کی پکار
ہم : بھر دو جھولی میری یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:
قرآن: اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کہہ دیں کہ میں تمہارے نفع و نقصان کے بارے میں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا(الجن، 21)
ہم : یہ سب تمہارا کرم ہے آقا:
قرآن: یہ سب میرے رب کا فضل ہے۔ (النمل، 40)
ہم : کچھ بھی مانگنا ہے در مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگو:
قرآن: اور فرمایا تمہارے رب نے! مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔ (المومن، 60)
ہم : شہباز کرے پروازتے جانے حال دلاں دے:
قرآن: اور اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔(آل عمران، 154)
ہم : رکھ لاج میری لج پاک بچالے مینوں غم تو قلندر لال:
قرآن: اور اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جیسے چاہے ذلت دیتا ہے۔ (آل عمران، 26)
ہم : نورانی نور ہے ہر بلا دور ہے:
قرآن: اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گھٹلی کے ریشے جتنا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ (فاطر، 13)
ہم : سارے نبی تیرے در کے سوالی شاہ مدینہ:
قرآن: اے لوگو! تم سب اللہ کے در کے فقیر ہو اور اللہ وہ بے نیاز اور تعریف کے لائق ہے۔ (فاطر، 15)
ہم : جھولے لال خوشیاں دے غم ٹال:
قرآن: اور اللہ اگر تمہیں مصیبت میں ڈال دے تو کون ہے جو تمہیں اس مصیبت سے نکال دے اور اگر وہ تمہیں خیر سے نوازنا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (الانعام، 17)
ہم : اے مولٰی علی اے شیر خدا میری کشتی پار لگا دینا:
قرآن: جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو خالص کر کے صرف اللہ کو پکارتے ہیں لیکن جب وہ نجات دے کرخشکی پر اتار دیتا ہے تو وہ یکایک شرک کرنے لگے ہیں۔(العنکبوت، 65)
ہم : بابا شاہ جمال پتر دے دے رتا لال:
قرآن: زمین اور آسمان کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہے بیٹے عطا کرتا ہے اور جسے چاہے دونوں (لڑکے، لڑکیاں) عطا کرتا ہے اور جسے چاہے بے اولاد رکھتا ہے، بے شک وہ جانے والا اور قدرت والا ہے۔ (شوری، 49 : 50)
سُوۡرَةُ صٓ
قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِى وَهَبۡ لِى مُلۡكً۬ا لَّا يَنۢبَغِى لِأَحَدٍ۬ مِّنۢ بَعۡدِىٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ (٣٥) کہا اے میرے رب! مجھے معاف کر اور مجھے ایسی حکومت عنایت فرما کہ کسی کو میرے بعد شایاں نہ ہو بے شک تو ہی دینے والا ہے (۳۵)
”داتا“ کے لغوی معنی ہیں ”دینے والا“ اور ”گنج بخش“ کے معنی ہیں ”سخی“۔ لوگ اپنی منتیں مرادیں مانگنے کے لئے حضرت علی ہجویری رحمتہ الله علیہ کے مزار پر یہی سوچ کر جاتے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ ”داتا“ ہیں۔ یہ ”عذر لنگ“ غلط ہے کہ لوگ وہاں جاکر صرف اللہ سے مانگتے ہیں۔ اگر کسی کو صرف اللہ سے مانگنا ہو تو وہ اللہ کے گھر(مسجد) جا کر مانگے گا نہ کہ حضرت علی کے ”ابدی گھر“ جاکر۔ اللہ کہتا ہے کہ بے شک دینے والا تو میں ہوں۔ لیکن ہم اللہ کو چھوڑ کر یا اللہ کے ساتھ ساتھ حضرت علی ہجویری رحمتہ الله علیہ کو بھی ”دینے والا“ (داتا گنج بخش) کہتے اور مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھا راستہ دکھائے اور سیدھا راستہ یہ ہے کہ:
سُوۡرَةُ الفَاتِحَة:إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ (٥) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں (۵)
واللہ اعلم بالصواب
قران پاک کی آیات کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیئے استعمال کرنے والے ہی قران پاک میں بیان شدہ اس حقیقت کے عکاس ٹھہرتے ہیں ۔
""""
اللہ اس چیز سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے اور وہ گمراہ نہیں کرتا مگر انھی لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔
""""
بلا شک وہ اللہ ہے سچا مالک و خالق ہے جو اپنے مومن بندوں پر اپنا کرم فرماتے اپنا مقرب بناتا ہے ۔انہیں عزت و بزرگی سے نوازتا ہے ۔۔
عجیب بات ہے میرے محترم بھائی کہ قران پاک میں اک جلیل القدر اللہ کے نبی اپنے دربار میں موجود اک کتاب کے علم کو جاننے والے کے عجیب عمل پر بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔
قَالَ یٰٓاَ یُّھَا الْمَلَؤُا اَیُّکُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِھَا قَبْلَ اَنْ یَّأْ تُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ
کوئی تم میں سے ایسا ہے ، جو اس تخت کو ملکہ کے آنے سے قبل لیکر آئے؟
(یہ تو اللہ کے نبی ہی علم رکھتے ہیں کہ انہوں نے کس نیت سے اللہ کی جگہ اپنے درباریوں سے اپنی حاجت بیان کی ۔؟)
براہ راست اللہ کے حضور اپنی حاجت بیان کرتے تو کیا مکمل نہ ہوتی ۔؟
قال الذی عندہ علم من الکتاب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما رآہ مستقرا عندہ قال ھذا من فضل ربی۔
ترجمہ: وہ جس کے پاس کتاب آسمانی کا علم تھا، کہا: میں آپ کے پلک چھپکنے سے پہلے اسے (ملکہ سبا کے تخت کو) آپ کے پاس لا سکتا یہوں اور جب حضرت سلیمان نے اسے اپنے سامنے مستقر دیکھا تو کہا: یہ میرے اللہ کے فضل (ارادہ ) فضل سے ہے۔ (2)
اور اک انسان کے ہاتھوں وقع پذیر ہوئے عمل کو دیکھ کر بے اختیار اسے " ھذا من فضل ربی " قرار دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔