عرفان قادر
محفلین
شعر مت کہہ صنم دسمبر میں
ناک میں کر نہ دم دسمبر میں
یاد سُکڑی ہے اُس کی، سردی سے
تب ہی آتی ہے کم دسمبر میں
جن کو اہلِ قلم سمجھتا تھا
نکلے "اہلِ شکم" دسمبر میں
سال بھر کی کرپشنیں لیڈر
کر گئے سب ہضم دسمبر میں
شاعری چھوڑ، مشورہ یہ مان
بیچ انڈے گرم دسمبر میں
تازگی بخشتے ہیں آنکھوں کو
"سبز" تیرے قدم دسمبر میں
مونگ پھلیاں نہیں تو کیا غم ہے
کھا فقط چوئنگ گم دسمبر میں
بے تُکے گیت گا کے سمجھا ہے
خود کو "سونو نگم" دسمبر میں
ڈائیٹنگ سال بھر "سمال" نے کی
تب ہوا "میڈیم" دسمبر میں
کہہ رہی ہے کہ لے چلو ناران
بن گئی ہَٹ دھرم دسمبر میں
چھت سے عاشق کہیں گرا ہو گا!
کچھ سُنا ہے دھڑم دسمبر میں
جوُن میں قیس تھا سوئزر لینڈ
اور پھر بیلجیئم دسمبر میں
ساتھ حُقہ رکھو شبِ ہجراں
کر کے تازہ چلم دسمبر میں
یار پینڈو ہے، اُس کے لہجے سے
ہو گیا "کنفرَم" دسمبر میں
ناک میں کر نہ دم دسمبر میں
یاد سُکڑی ہے اُس کی، سردی سے
تب ہی آتی ہے کم دسمبر میں
جن کو اہلِ قلم سمجھتا تھا
نکلے "اہلِ شکم" دسمبر میں
سال بھر کی کرپشنیں لیڈر
کر گئے سب ہضم دسمبر میں
شاعری چھوڑ، مشورہ یہ مان
بیچ انڈے گرم دسمبر میں
تازگی بخشتے ہیں آنکھوں کو
"سبز" تیرے قدم دسمبر میں
مونگ پھلیاں نہیں تو کیا غم ہے
کھا فقط چوئنگ گم دسمبر میں
بے تُکے گیت گا کے سمجھا ہے
خود کو "سونو نگم" دسمبر میں
ڈائیٹنگ سال بھر "سمال" نے کی
تب ہوا "میڈیم" دسمبر میں
کہہ رہی ہے کہ لے چلو ناران
بن گئی ہَٹ دھرم دسمبر میں
چھت سے عاشق کہیں گرا ہو گا!
کچھ سُنا ہے دھڑم دسمبر میں
جوُن میں قیس تھا سوئزر لینڈ
اور پھر بیلجیئم دسمبر میں
ساتھ حُقہ رکھو شبِ ہجراں
کر کے تازہ چلم دسمبر میں
یار پینڈو ہے، اُس کے لہجے سے
ہو گیا "کنفرَم" دسمبر میں
مدیر کی آخری تدوین: