اجی جانے دیجیے فاروق صاحب کیوں مجھ نا اہل کو شرمندہ کرتے ہیں۔ میں نے بس دوست داری کی چھوٹی سی سعی کی تھی۔میرے طویل مراسلے اسی بابت اشارہ رہا تھا مگر رہے نام بجلی کا کہ سب ملیا میٹ ہوگیا۔ پھر طبیعت پر بوجھ بن جائے تو میں لکھنے سے حذر کرتا ہوں۔تاکہ شکر رنجی کا ظہور نہ ہوجائے۔۔ میں آپ کی نشاندہی سے متفق ہوں۔۔ بہتری کی صورت تو یقیناً رہتی ہے، مگر ایک شعر پر میں نے راجہ امین کو داد دی تھی کہ ۔
جو بھی لوٹا ہے شہرِ جاناں سے
ساتھ اپنے سراب لایا ہے
بظاہر یہ التزامی حالت نہیں مگر ۔۔ میں شہرِ جاناں کی گرد خواری کو دشت نوردی ہی گردانتا ہوں ، یہ کم لوگوں کے نصیب میں آتاہے ، لاشعوری طور پر اپنی انجذابی کیفیت میں مختصر مکمل یعنی ابہام کی وجہ سے خوب ہے۔ سو میری اس فروگزاشت کو شخصی ٹیڑھ پر ہی لیا جائے وگرنہ آپ کی بات سے اختلاف مقصود نہیں ہے، ہاں سہوِ حافظہ سے جو جو لکھا تھا راجہ کے لیے یاد پڑتا ہے تو تحریر کیے دے رہا ہوں۔۔
--------------------------------------------------------------
ارے نہیں بھیّا، ایسا کچھ نہ کہا کیجے۔رہی بات لا علمی کی تو دوست علم اسی کا تو نام ہے کہ لاعلمی دور کی جائے ۔۔اسی لیے گزشتہ ادوار میں بھی عرض گزار ہوا تھا کہ کاتا اور لے دوڑی سے گریز بہتر ہے اور سیکھنے کے عمل میں معاون بھی۔۔لو میں صراحت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔
دل پہ کیا کیا عتاب لایا ہے
عشق گویا عذاب لایا ہے
عتاب بطور قافیہ تو ٹھیک ہے دوست مگر معنوی اعتبار سےیہاں اس کا محل نظر نہیں آتا یہ لفظ عتب سے ہے یعنی کسی بات کے اقرار سے پھر جانے پر تعزیر۔۔۔ مصرع آخر الذکر میں گویا نےلطف دیا خوش رہو۔۔۔
کرچیاں بکھری ہیں بدن کی ہر سو
یہ مصرع تو آپ نے درست کر دیا ہے اور اوزان خطا ہونے کا معاملہ دور کیا، مگر مصرع ثانی سے ’’تہذیب اور اقدار‘‘ کے منافی ہونے کی وجہ سے مطابقت نہیں رکھتا۔۔میں وضاحت کرتا ہوں۔۔
ہجر وہ انقلاب لایا ہے
پیارے ہجر ایک متعیّنہ کیفیت کا نام ہے اسے انقلاب سے جوڑ کرکوئی معانی پیدا کرنے کی کوشش ’’عجز بیانی ‘‘ کہلاتی ہے، ہمارے شعری ماحول میں سو میں اسّی ’’شعراء‘‘ انقلاب انقلاب کے نعرے کے پیچھے بھاگتے ہیں۔۔ دیکھو پیارے صاحب۔۔ ہر لفظ اپنا ایک خاندان رکھتا ہےا ورکیفیات وتجربات کا انبوہِ کثیر بھی۔۔ محض کے قوافی کی بنیاد پر غزل کا ڈھانچہ تو کھڑ ا ہوسکتا ہے مگر تغزّل کی چاشنی عنقا ہوجاتی ہے۔۔ انقلاب کا لفظ لکھنے سے پہلے میں دیکھنا ہوگا کہ انقلاب ہے کیا اور اس کے ثمرات کیا کیا ہیں اور نقصانات کیا کیا۔۔۔ اس طرح یہ اسالیبِ غزل میں مشق تو خیر احسن کام ہے مگر ادبی کام کا حصہ نہیں بنتا اور نہ نقّاد کومتوجہ کرسکتاہے۔
بیچ کر آدمی سکونِ دل
بدلے میں صرف خواب لایا ہے
مصرع کی روانی متاثر ہورہی ہے ’’ صرف بدلے میں خواب لایا ہے ‘‘ رواں شکل ہے مگر ’’تعقید‘‘ کا عیب پیدا ہوجائے گا۔۔ سو مصرع بدلنے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔
(یہ سطور فاروقی صاحب کے مراسلے سے قبل لکھی تھیں سو۔۔ میں فاروقی صاحب کی بات پر یہ بحث سمیٹتا ہوں)
جو بھی لوٹا ہے شہرِ جاناں سے
ساتھ اپنے سراب لایا ہے
(اس شعر پر بالا میں بات ہوچکی سو یہ سطور حذف ہونے کا شرف حاصل کر رہی ہیں۔۔)
کون دیتا ہے ساتھ صدیوں تک
آنکھ میں کیوں تو آب لایا ہے
قافیہ نویسی کے فن کے طور پر تو ٹھیک ہے مگر مصرع کی ساخت اسے ’’ زبان و محاورہ‘‘ سے دور کرنے پر مُصر ہے ۔۔۔ یعنی مصرع کا حسن جاتا رہا۔
بحرِ ظلمت میں روشنی کر دی
ہاتھ میں آفتاب لایا ہے
ہاں پیارے اس پر خاصی بات ہوئی تھی میرا نصیب یاوری پر نہیں سو مراسلہ روانہ نہ ہوسکا تھا۔ بحر یعنی سمندر، ظلمت یعنی تاریکی ۔۔ میں روشنی کردی ۔۔ صوتی اعتبار سے خوب محسوس ہورہا ہے مگردرج بالا مصرعوں میں دولخت ہونے کا احساس اجاگر ہورہا ہے۔۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تاریکی کے سمندر میں روشنی کرنے والا ہاتھ جو آفتاب لایاہے وہ کس کا ہے۔ یعنی ضمیر غائب ۔۔ ’’ کون یہ آفتاب لایا ہے‘‘ جیسی شکل کے مصرع سے لختِ جگر کو دو لخت ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ پیارے یاد ہوگا کہ میں نے آپ کی مرتب کردہ کتاب میں سوال نامے کی مد میں ’’ اصلاح لینے کی بجائے اصلاح ہونے پرزور دیا تھا‘‘ بہت سے لوگ صلاح کو ’’درستگیِ شعر‘‘ سے تعبیرکرتے ہیں یہ درست عمل ہو تو ہو کسی کے لیے میرے نزدیک یہ ’’ تہی دست پر مُصر‘‘ رہنے کی علامت ہے اور ایسی علامات بڑے مرض کی طرف بھی لے جاسکتی ہے۔۔ سو ایک بار پھر ایک مخلصانہ دوستانہ مشورہ کہ ’’کاتا اور لے دوڑی‘‘ پر ’’ الحذر ، الحذر‘‘ کی ایک تسبیح پڑھ کر پھونکنے سے ’’ تساہل ‘‘ کا بھوت رفع ہوجاتا ہے اور مہمیز ملنے سے شعری قامت میں اضافے کا موجب ٹھہرتا ہے سو ’’ بلند قامتی ‘‘ کے سفر میں تھوڑی سی ’’ خود تنقیدی‘‘ معاون ثابت ہوسکتی ہے مثال کے طور پر جیسے آپ نے آج خود ہی میرا دل رکھتے ہوتے نظرِ ثانی کیا تو ایک مصرع درست ہوگیا۔۔۔
کھول کر آنکھ دیکھ تو راجا
سبز موسم گلاب لایا ہے
غزل مجموعی طور پر ’’ غزل برائے غزل ‘‘ کے منصب پر فائز ہے اور ذہنی بالیدگی اور پراگندہ طبعی کے مابین ہچکولے کھا رہی ہے ۔۔ معانی آفرینی ، زبان و بیان، مصرع کی بُنت ،کیفیات کا بہاؤ، اور غنائیت کسی بھی غزل کے بنیادی جواہر ہیں اس غزل میں ’’ کسبِ کیف‘‘ کی صورت اُ س طرح میسر نہیں جیسی کے ہونی چاہیے ۔ امید ہے آپ مطالعے کی عادت پر زور دیں گے اور دیگر ’’ ادبی سماجیاتی‘‘ عوامل سے گریز کی حد تک جا کر خود تنقیدی کو معمول بنائیں گے انشا اللہ آپ کے ہاں ندرت اور کیف دونوں ہی کمال سطح پر پڑھنے اور سننے والے کو نصیب ہوں گے۔ مشق برائے مشق غزل کہنا اپنی جگہ مسلم مگر اس سے مجھے آپ کی سابقہ غزلیاتی مشق کا معیار ہی ملتا ہے اسے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔ امید ہے میری خامہ فرسائی سے آپ کو اگر کوئی بات ناگوار گزری تو معاف کیجے گا۔ دعا گوں ہوں کہ ربِّ ن و قلم آپ کے قلم کو معجز بیانیاں نصیب فرمائے آمین۔