سدا میرے دل سے یہ آواز آئی
سدا اور صدا کیونکہ اُردُو لب و لہجے میں ہم صوت شمار ہوتے ہیں اورلفظ آواز مصرعے میں موجود ہے تو سدا کو بدل دیں اور شعر یوں کردیں تو بہتر رہے گا:
میں کیسے سہوں گا تمہاری جدائی
ہمیشہ یہ دل سے ہے آواز آئی ۔۔۔۔۔سہوں گا میں کیسے تمھاری جدائی / یا جو آپ نے کہا وہ بھی شاندار ہے میں کیسے سہوں گا تمھاری جدائی
----------
دلوں میں محبّت خدا نے ہے ڈالی
سکھاتی ہے ہم کو خدا آشنائی
نکتہ خوب ہے کہ خدا ہی دلوں میں محبت ڈال کر اپنے تک رسائی دیتاہے(اپنےتک پہنچنے کا راستہ بناتا ہے)
محبت دلوں میں خدا ڈالتا ہے
کہ انساں کو ہو یوں خدا آشنائی
---------
کسی کو محبّت میں دھوکہ نہ دینا
نہ کرنا کسی سے کبھی بے وفائی
اچھی نصیحت ہے
محبت کا دھوکاکسی کو نہ دینا
نہ کرنا کبھی دوست سے بیوفائی
----------
سدا میرے دل میں وہ جلتی رہے گی
محبّت کی شمع جو تم نے جلائی ت
م کی بجائے تو کرلیں تو کچھ کچھ اثر تصوف اور معرفت کا بھی آجاتا ہے کیونکہ آپ کہہ آئے ہیں محبت دلوں میں خدا ڈالتا ہے
ہمیشہ مرے دل میں روشن رہیگی
محبت کی شمع جو تو نے جلائی
مگر:
اِس میں درکار ہوا کرتا ہے خود اپنا لہو، ایسا آساں نہیں یہ شمع جلائے رکھنا
---------
تمہارے بنا دل بہلتا نہیں ہے
طبیعت پہ ایسی اداسی ہے چھائی
عام سی بات ہے جسے خاص الخاص نہیں تو خاص بات کرنے کی ضرورت ہے غزل کا تسلسل خوب ہے ، واہ!
مثال:
بہادر شاہ ظفرمملکت پر گہرے انگریزی اثرات کے باوجود غدر کے واقعے سے پہلے محدود سہی شاہانہ زندگی گزار رہا تھا ، غدر کا جرم سرزد ہوجانے پر وہ محدود سے ٹھاٹ باٹ بھی اُس سے چھن گئے۔اب وہ کس دلدوز انداز میں گزرے ہوئے دن یاد کرکے کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔دل کی لگی نے اِسی آپ والے مضمون کو کہاں آسمانوں میں پہنچادیا ہے:
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے ۔عالمِ ناپائیدار۔ میں
یہ ’’اجڑا دیار‘‘ ظفؔر کا ہی نہیں ایک خلقت کا محبوب و معشوق تھا جس کا وہ حال ، جو انگریزوں نے کیاتھا، کسی عاشقِ صادق،شیدا و فریفتہ،مفتون و مجنون کو قبول و منظور نہ تھا مگر کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں ۔۔۔؟
ایک اور مثال خواجہ پرویز کی یہ فلمی غزل ہے:
دل ویراں ہے، تیری یاد ہے، تنہائی ہے
زندگی درد کی بانہوں میں سمٹ آئی ہے
مرے محبوب زمانے میں کوئی تجھ سا کہاں
تیرے جانے سے میری جان پہ بن آئی ہے
ایسا اجڑا ہے امیدوں کا چمن تیرے بعد
پھول مرجھائے، بہاروں پہ خزاں چھائی ہے
چھاگئے چاروں طرف غم کے اندھیرے سائے
میری تقدیر میرے حال پہ شرمائی ہے
اِسے یوں بھی پڑھ سکتے ہیں :
چھاگئے چاروں طرف غم کے اندھیرے سائے
تیرے جانے سے مری جان پہ بن آئی ہے
-----------
اسے اجر اس کا ملے گا جہاں میں
محبّت سے جس نے محبّت نبھائی
نکتہ یہاں بھی خوب ہے یعنی بھلائی کے بدلے بھلائی اور احسان کا صلہ احسان ہے،بیانیہ اور بہتر بنایا جاسکتا ہے
---------
محبّت کا چرچا کرے کیوں نہ ارشد
یہی عمر بھر کی ہے اس کی کمائی
واہ ، ماشاء اللہ ، احسنت
تعداد کے اعتبار سے سات اشعار کا تعین خوب ہے ۔ جو مضامین بیان ہوئے اُن میں تکرار کم کم ہے جیسے پہلے شعر میں محبت میں محبوب سے جدائی کے دھڑکے کا عندیہ دیا ہے جو محبت کرنیوالوں کے دلوں کو ہردم لگا رہتا ہےدوسرے شعر میں محبت کا جواز بتایا تیسرے میں نصیحت چوتھے میں محبت میں دوام اور استقرار قائم رکھنے کا عزمِ صمیم ، پانچویں میں فطرتِ انسانی ، چھٹے میں ایک بار پھر نصیحت اور آخر میں یہ حقیقت بیان کی ہے کہ آدمی اپنی کمائی ہوئی دولت سے ہی خرچ کرتا ہے۔۔۔۔