اس فانٹ کی لائسنسنگ کے حوالے سے کچھ کہنا پسند کریں گے؟
اس کا لائسنس تو غالباً بنیادی فونٹ کے لائسنس سے متاثر ہوگا۔ ہمارا خیال ہے کہ اس بارے میں سعادت بھائی کی رائے اہم ہوگی۔ بہر کیف پچھلے لائسنس اور دیگر اجزائے ترکیبی کے اجازت ناموں کی روشنی میں جس قدر ممکن ہو اس حد تک کھلی اجازت ہونی چاہیے تاکہ اس کے استعمال اور ترمیم میں کسی کا ہاتھ تنگ نہ ہو۔اس فانٹ کی لائسنسنگ کے حوالے سے کچھ کہنا پسند کریں گے؟
یہ لیں:پچھلے لائسنس
Nafees Nastaleeq License Agreement
Copyright (c) 2004 by Center for Research in Urdu Language Processing (CRULP), National University of Computer and Emerging Sciences, Lahore, Pakistan. All Rights Reserved.
Permission is hereby granted, free of charge, to any person obtaining a copy of the font accompanying this license (ÒFontÓ) and associated documentation files (the ÒFont SoftwareÓ), to reproduce and distribute the Font Software, including without limitation the rights to use, copy, merge, publish, distribute, and/or sell copies of the Font Software, and to permit persons to whom the Font Software is furnished to do so, subject to the following conditions:
1. The above copyright and trademark notices and this permission notice shall be included in all copies of one or more of the Font Software typefaces.
2. The Font Software may be modified, altered, or added to, and in particular the designs of glyphs or characters in the Fonts may be modified and additional glyphs or characters may be added to the Fonts, only if the font is renamed to names not containing either the words ÒNafeesÓ or the word ÒCRULPÓ.
3. This License becomes null and void to the extent applicable to Font or Font Software that has been modified and is distributed under the ÒNafees NastaleeqÓ names.
4. The Font Software may be sold as part of a larger software package but no copy of one or more of the Font Software typefaces may be sold by itself.
5. The font software is provided "as is", without warranty of any kind, express or implied, including but not limited to any warranties of merchantability, fitness for a particular purpose and noninfringement of copyright, patent, trademark, or other right. In no event shall CRULP or NUCES be liable for any claim, damages or other liability, including any general, special, indirect, incidental, or consequential damages, whether in an action of contract, or otherwise, arising from, out of the use or inability to use the font software or from other dealings in the font software.
6. Except as contained in this notice, the names of "CRULP" or "Nafees" shall not be used in advertising or otherwise to promote the sale, use or other dealings in this Font Software without prior written authorization from CRULP.
7. As a special exception, if you create a document which uses this font, and embed this font or unaltered portions of this font into the document, this font does not by itself cause the resulting document to be covered by the GNU General Public License. This exception does not however invalidate any other reasons why the document might be covered by the GNU General Public License. If you modify this font, you may extend this exception to your version of the font, but you are not obligated to do so. If you do not wish to do so, delete this exception statement from your version.
وہ اوپن سورس تو نہیں ہے نا۔ اسکا سورس کسی نے دیکھا ہے آج تک؟پہلا نہیں ہے یار، دوسرا ہے۔ پہلا تو القلم تاج نستعلیق تھا۔ کہ نہیں؟
اگر یہ نفیس نستعلیق ہے اور اس کے کیرکٹرز (حروف کی اشکال)میں کوئی تبدیلی کیے بغیر انہی اشکال سے ترسیمے جنریٹ کیے جاکر اس میں شامل کیے گئے ہیں تو اس یقینا اس کا لائسنس بنیادی فونٹ کے لائسنس سے متاثر ہوگا البتہ ترسیمے جنریت کرنے والی ٹیم اس لائسنس میں ترسیموں کے استعمال سے متعلق کچھ اضافی شقیں شامل کر لے تو بہتر ہوگااس کا لائسنس تو غالباً بنیادی فونٹ کے لائسنس سے متاثر ہوگا۔ ہمارا خیال ہے کہ اس بارے میں سعادت بھائی کی رائے اہم ہوگی۔ بہر کیف پچھلے لائسنس اور دیگر اجزائے ترکیبی کے اجازت ناموں کی روشنی میں جس قدر ممکن ہو اس حد تک کھلی اجازت ہونی چاہیے تاکہ اس کے استعمال اور ترمیم میں کسی کا ہاتھ تنگ نہ ہو۔
جی ہاں اس میں آپ کی رات دن کی محنت کا عکس نظر آنا چاہیئے تھا ۔۔۔۔ البتہ میری رائے میں چونکہ نفیس کے کیریکٹرز ہی سے ترسیمے جنریٹ ہوئے ہیں اس لیے ”سعد نفیس نستعلیق“ نام ہو تو زیادہ اچھا رہے گاسعد نستعلیق؟
میری نظر میں تو میرے تیار کردہ ترسیمے ہی سورس ہیں ۔۔۔ اس لیے کہ وہ میں نے ذاتی طور پر تیار کیے ہیںوہ اوپن سورس تو نہیں ہے نا۔ اسکا سورس کسی نے دیکھا ہے آج تک؟
اوپن سورس سے مراد مکمل فانٹ کی سورس ہے جس میں ترسیموں کے علاوہ اسکی پروگرامنگ بھی شامل ہوتی ہے۔میری نظر میں تو میرے تیار کردہ ترسیمے ہی سورس ہیں ۔۔۔ اس لیے کہ وہ میں نے ذاتی طور پر تیار کیے ہیں
ان کو کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے ، یا بہتر بنا سکتا ہے یا ترمیم کر سکتا ہے
خیر مجھے اس سے کوئی بحث نہیں اگر میں اسے اوپن کر بھی دیتا تو بھی پروگرامنگ کے حوالے سے نفیس نستعلیق ہی کو اولیت کا درجہ حاصل ہے۔ البتہ میں تو صرف اپنے ترسیموں کی حد تک اولت کا دعوی کرتا ہوکہ یہ اولین ترسیمے تھے جنہیں عوامی مفاد کے لیے مفت فراہم کیا گیا کسی سافٹ ویر میں قید نہیں کیا گیا بلکہ اوپن رکھے گئے ۔۔ نفیس والوں نے چونکہ اپنا سورس اوپن رکھا ہے اس لیے اسی کو اولیت ہے اس کی بنیاد پر تیار کیے گئے تمام فونٹس اس لحاظ سے اولین کہلا سکتے ہیں کہ نفیس اولین ہےاوپن سورس سے مراد مکمل فانٹ کی سورس ہے جس میں ترسیموں کے علاوہ اسکی پروگرامنگ بھی شامل ہوتی ہے۔
اوشو بھائی اسی بہانے مزید پراجیکٹس پر بھی تو کام ہور ہا ہے نا۔ جیسے او سی آر، کرننگ، لغات وغیرہ پر کام۔ یہ تمام پراجیکٹس ایک دوسرے کیساتھ باہم تعاون کرتے ہیں۔
آپکے خیال میں مثلاً اور کون سے شعبے ہیں جن پر کام ہونا چاہئے؟لیکن یہ سب زیادہ تر اردو لکھنے لکھانے کے متعلق ہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی تو کئی شعبے ہو سکتے ہیں یا ہیں جن میں اردو پر کام ہو سکتا ہے۔ لیکن زیادہ تر زور نستعلیق پر ہی ہے۔ میرا خیال ہے نستعلیق پر کافی کام ہو چکا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتا جائے گا۔ اب کچھ اور شعبوں کی طرف بھی دھیان ہونا چاہیے احباب کا۔
یہ شاید اسلئے کہ اردو زبان کیلئے پروگرامر حضرات کی توجہ کم ہے۔ البتہ ضرورت کے تحت تو بہت سے ٹولز لکھے گئے ہیں۔ جیسے ابرارحسین کا پاک ورڈ فائنڈر۔ اسکے علاوہ اور بھی بہت سے ویب بیسڈ ایپلیکیشنز ہیں جو محفل سے جڑے مختلف احباب نے تخلیق کیے ہیں۔میرا خیال ہے اردو اپلیکشنز پر بہت تھوڑا کام ہے۔ اس شعبہ میں مزید کام ہونا چاہیے۔