"یہ سب تم جانو باس۔۔۔!"
"جاؤ۔۔۔!" عمران ہاتھ ہلا کر بولا۔
"کیا سلیمان جا رہا ہے!" صفدر نے پوچھا۔۔۔ عمران نے مغموم انداز میں سر ہلایا تھا۔
"جا چکا۔۔۔!" صفدر مسکرا کر بولا۔
"کیوں نہیں جائے گا۔!"
"اس قابل کب چھوڑا ہے آپ نے کہ کسی اور کے کام آ سکے۔!"
"ڈپلومیسی!" عمران بائیں آنکھ دبا کر مسکرایا۔ پھر اٹھتا ہوا بولا۔! "چلو!"
"کہاں؟"
"کہیں بھی۔۔۔ خواہ مخواہ اتوار ضائع ہو رہا ہے۔۔۔!"
وہ دونوں نیچے سٹرک پر آئے تھے۔۔۔ اور عمران نے صفدر ہی کی گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔
"کدھر چلیں گے۔۔۔!"
"تفریح کا موڈ بھی ہے اور کام بھی کرنا ہے۔!
صفدر نے گاڑی اسٹارٹ کی اور عمران نے کہا۔ "ساحل کی طرف۔ تمہیں آج علامہ کے ایک پرانے شاگرد سے ملواؤں گا۔!"
"یہ علامہ آخر ہے کیا بلا۔۔۔ بیک گراؤنڈ مظلوموں کی سی رکھتا ہے۔ لیکن کرتوت۔!" صفدر نے کہا۔
"ذہین آدمی ہے! لیکن غلط راستے پر جا نکلا ہے۔۔۔ کبھی کبھی انتقام لے چکنے کے بعد بھی انتقام کی آگ نہیں بجھتی۔!"
"ان ساتوں کا کیا رویہ ہے۔!"
"پیٹر کے علاوہ اور سب نے وہی کہانی سنائی ہے جو شیلا سُنا چکی تھی۔ پیٹر اسی پر اڑا ہوا ہے کہ دھنی رام نے شیلا کو ذہنی طور پر مفلوج کرا دینے کے لئے اس کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اس کا اعتراف کرنا ہے کہ وہ علامہ کے حلقہ بگوشوں میں سے ہے۔ اور اسے دنیا کا عظیم ترین آدمی سمجھتا ہے۔ اپنے دوسرے ساتھیوں کے بیانات سے اس نے اتفاق نہیں کیا۔!"
"کنفیشن چیئر پر بٹھا دیجئے۔!"
"دیکھا جائے گا۔! فی الحال تو میاں توقیر محمد کا مسئلہ درپیش ہے۔!"
"اس سلسلے میں آپ کیا کریں گے۔!"
"نگرانی اور صرف نگرانی۔ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔۔۔!"
"کیوں نہ علامہ کو حراست میں لے لیا جائے۔!"
"اس اسٹیج پر بھی ہمارے پاس ناکافی مواد ہے۔ اس کے خلاف اور پھر وہ خاصی بڑی سوشل پوزیشن بھی رکھتا ہے۔!"
"کیا ان چھ افراد کے بیانات بھی ناکافی ہیں۔!"
"شاعری پر کون پہرے بٹھا سکا ہے صفدر صاحب! ان کے بیانات محض علامہ کی بکواس تک محدود ہیں۔ شیلا سے اس نے جو گفتگو کی تھی وہ بھی قہقہوں میں اڑا دی جائے گی۔ البتہ اگر پیٹر اعتراف کر لے کہ وہ زہر علامہ نے اسے شیلا پر استعمال کرنے کے لئے دیا تھا تب بات بنے گی۔!"
"میں نے کہا تھا کنفنشن چیئر۔۔۔!"
"وہ ناکارہ ہو گئی ہے۔ ابھی تک ٹھیک نہیں ہو سکی۔! اس کا ایک پرزہ باہر سے امپورٹ کرنا پڑے گا۔!"
"تھرڈ ڈگری۔!"
"پیٹر کا ٹائپ کمیاب ہے۔ تھرڈ ڈگری کا اس پر اس حد اثر نہیں ہو گا کہ وہ اعتراف کر لے۔ ویسے کبھی کبھی مجھ سے بھی بھول چوک ہو جاتی ہے۔ اگر میں اسی وقت اس کے ہاتھ پیر باندھ کر زبردستی وہ شراب اس کے حلق میں انڈیلنے کی کوشش کرتا تو شائد کامیابی ہو جاتی۔!"
"شراب تو اب بھی محفوظ ہو گی۔!"
"نہیں شیلا اتنی خائف اور نروس تھی کہ بعد میں اس نے ہاتھ مار کر گلاس کو میز سے گرا دیا تھا۔۔۔ اور ساری شراب قالین میں جذب ہو گئی تھی۔"
صفدر کچھ نہ بولا۔ گاڑی تیز رفتاری سے ساحلی علاقے کی طرف جا رہی تھی۔
"گرین بٹس کی طرف چلنا ہے۔!" عمران نے تھوڑی دیر بعد کہا۔
"کیا علامہ کا وہ پرانا شاگرد وہیں ملے گا۔!"
"گمنام آدمی نہیں ہے تم بھی اس سے واقف ہو گے۔!" عمران نے کہا اور کچھ دیر خاموش رہ