عادل ـ سہیل
محفلین
::::::: عیسی علیہ السلام کا نازل ہونا حق ہے :::::::
و الصلاۃ و السلام علی رسولہ مُحمد الصّادق المصدوق ، الذی شھد لہ ُ رب العالمین انہ ُ لا ینطق عن الھویٰ ، ان ھو الا وحی یوحی، فَلا یرفض قولہ الا مَن تبع الھویٰ ، و لا یرغب عن سُنتہ اِلّا قد یکون مِمَن خرج مَن الملۃ ، و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ، نَعوذ بہ مِن کل ضلالۃ و مِن کل مَن ضَلَّ و أضلَّ ،
اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو اس کے رسول محمد پر جو اللہ کی طرف سے تصدیق یافتہ سچے ہیں ، جن کے بارے میں رب العالمین نے گواہی دی ہے کہ (((( بے شک وہ اپنی مرضی کے مطابق بات نہیں کرتے ، بلکہ ان کی بات تو اللہ کی طرف سے وحی ہے ))))) پس اُن کا قول صرف وہی رد کرتا ہے جو نفسانی خواہشات کا پیروکار ہوتا ہے ، اور(عین ممکن ہے کہ ) ان کی سُنّت مبارکہ رُو گردانی کرنے والا ملت سے خارج ہونے والوں میں سے ہو جائے ، اور تمام تر قوت اور قدرت اللہ کے لیے ہی ہے ، ہم اللہ ہی کی پناہ طلب کرتے ہیں ہر ایک گمراہی سے اور ہر ایسے شخص سے جو خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
::::::: تعارف :::::::اللہ کے دین کو اپنے اپنے مزاج اور اپنی عقل کے مطابق سمجھنے والوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اسلامی عقیدے کے اس اہم درس کو بھی نہیں مانتے کہ عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور اللہ کے حکم سے دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے اور اللہ کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کا نفاذ فرمائیں گے ،
کچھ ایسی ہی بد عقیدگی کی بنا پر عیسی علیہ السلام کی زندگی اور زمین پر پھر سے آنے کے بنیادی اسلامی عقیدے پر اعتراضات کیے جاتے ہیں ، اس مضمون میں انہی اعتراضات کا علمی دلائل کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے ۔
ان شاء اللہ ، میں اپنے اس تھریڈ کے عنوان :::::: عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا حق ہے :::::: کے بارے میں کچھ ضروری باتیں پیش کرتا ہوں ، کہ ان کو جانے اور مانے بغیر کسی طور حق تک پہنچنا ممکن نہیں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کی ہدایت کے لیے اور اسے اللہ کی پہچان کروانے کے لیے اسی میں سے اپنے نبی اور رسول علیہم الصلاۃ و السلام چنے ، اور ان نبیوں اور رسولوں علیہم الصلاۃ و السلام کی طرف اپنے آسمانی رسول جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے اپنے پیغامات ، احکامات ، ماضی حال اور مستقبل کے غیب کی خبریں ارسال فرمائیں ، جنہیں وحی کہا جاتا ہے ، اور کبھی اللہ کی طرف سے جبرئیل علیہ السلام کو ذریعہ بنائےبغیر بھی وحی جاری رہی ،
پس صحیح عقیدے والے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں علیہم الصلاۃ و السلام نے اپنی اپنی طرف نازل ہونے والی شریعت میں جو بھی احکام بتائے ، خواہ عقائد سے متعلق ہوں یا عِبادات سے ، یا معاملات و عادات سے، سب اللہ کی طرف سے وحی ہیں ،
اور اسی طرح غیب کی خبروں میں سے جو کچھ بتایا وہ بھی بالیقین اللہ کی طرف سے وحی ہیں ،
اور اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قران کریم کو سابقہ تمام کتابوں کی کسوٹی بنایا ، اپنے آخری نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو سابقہ تمام نبیوں سے بڑھ کر افضل و اعلیٰ مُقام اور درجہ عطاء فرمایا اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو دی جانے والی شریعت کو سابقہ تمام شریعتوں کا ناسخ بنایا ،
اور اسی طرح اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے اپنی ذات و صفات ، اپنی مخلوق کی ابتداء تخلیق اور انتہاء ، قیامت تک اور قیامت میں اور قیامت کے بعد ہونے والے واقعات میں سے جتنا چاہا اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو بتایا اور اُس میں سے جتنا چاہا آگے بتانے کی اجازت عطاء فرمائی،
اوراللہ کے رسول صلی محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےاپنے رب کے احکام کے عین مطابق اپنی اُمت کو بتایا ،
اللہ تعالیٰ نے اپنی اختیار کردہ سنت کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اپنا آخری نبی اور رسول بنایا اور ان کو سابقہ تمام نبیوں اور رسولوں علیہم الصلاۃ و السلام سے ممتاز رکھا ، اس امتیاز میں سے ایک یہ بھی تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف اللہ کے احکامات اور پیغامات کو اللہ کی کتاب قران کریم میں سے ہی وحی نہیں کیا جاتا تھا ، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کی جاتی تھی ،
اور اس کی سب سے بڑی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ذمہ داریوں میں اللہ تعالی نے یہ بھی مقرر فرمایا تھا کہ (((((بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ::: اور (اے محمد)ہم نے آپ کی طرف ذکر (قران) نازل کیا تا کہ آپ لوگوں کے لیے واضح فرمائیں کہ اُن کی طرف کیا اتارا گیا ہے اور تا کہ وہ غور کریں ))))) سورت النحل / آیت44،
اور مزید تاکید فرمائی کہ (((((وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلاَّ لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُواْ فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ::: اور(اے محمد ) ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب صرف اس لیے اتاری ہے کہ یہ لوگ جِس(چیز ) میں (بھی) اِختلاف کرتے ہیں آپ اِن لوگوں پر(اِس کتاب کے مطابق)وہ (چیز)واضح فرما دیجیے ، اور (ہم نے یہ کتاب)ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت (بنا کر نازل کی ہے) ))))) سورت النحل/آیت64،
::::: اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان دو فرامین میں ہمیں بڑی وضاحت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب قران حکیم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام مبارک کی وضاحت اور بیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذمہ داری تھی ،
لہذا اللہ کی کتاب قران کریم میں سے ہر ایک بات کو سمجھنے کے لیے، اللہ کے اسی کلام کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ یعنی اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین اور عمل مبارک کو دیکھا ہی جائے گا ، اور جو کچھ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک کے قول اور فعل کے طور پر صحیح ثابت شدہ ہو اسے ماننا ہی پڑے گا،
کہ ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحی مبارک ہیں ، نہ کہ کسی کے نفس کی آواز (((((مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىOوَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىO إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ::: تُم لوگ کے ساتھی (محمد ) نہ تو بھٹکے ہیں اور نہ ہی بہکے ہیں O اور نہ ہی یہ اپنی خواہش سے بات کرتے ہیںO ان کی بات تو یقیناً (اللہ کی طرف سے) کی گئی وحی ہے )))))سُورت النجم /آیت 2تا4،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اگلے مراسلے میں ،،،،،،،،،،،،،،،،،
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو اس کے رسول محمد پر جو اللہ کی طرف سے تصدیق یافتہ سچے ہیں ، جن کے بارے میں رب العالمین نے گواہی دی ہے کہ (((( بے شک وہ اپنی مرضی کے مطابق بات نہیں کرتے ، بلکہ ان کی بات تو اللہ کی طرف سے وحی ہے ))))) پس اُن کا قول صرف وہی رد کرتا ہے جو نفسانی خواہشات کا پیروکار ہوتا ہے ، اور(عین ممکن ہے کہ ) ان کی سُنّت مبارکہ رُو گردانی کرنے والا ملت سے خارج ہونے والوں میں سے ہو جائے ، اور تمام تر قوت اور قدرت اللہ کے لیے ہی ہے ، ہم اللہ ہی کی پناہ طلب کرتے ہیں ہر ایک گمراہی سے اور ہر ایسے شخص سے جو خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے ۔
::::::: عیسی علیہ السلام کا نازل ہونا حق ہے :::::::
::::::: تعارف :::::::
کچھ ایسی ہی بد عقیدگی کی بنا پر عیسی علیہ السلام کی زندگی اور زمین پر پھر سے آنے کے بنیادی اسلامی عقیدے پر اعتراضات کیے جاتے ہیں ، اس مضمون میں انہی اعتراضات کا علمی دلائل کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے ۔
:::::: تمہید :::::::
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کی ہدایت کے لیے اور اسے اللہ کی پہچان کروانے کے لیے اسی میں سے اپنے نبی اور رسول علیہم الصلاۃ و السلام چنے ، اور ان نبیوں اور رسولوں علیہم الصلاۃ و السلام کی طرف اپنے آسمانی رسول جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے اپنے پیغامات ، احکامات ، ماضی حال اور مستقبل کے غیب کی خبریں ارسال فرمائیں ، جنہیں وحی کہا جاتا ہے ، اور کبھی اللہ کی طرف سے جبرئیل علیہ السلام کو ذریعہ بنائےبغیر بھی وحی جاری رہی ،
پس صحیح عقیدے والے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں علیہم الصلاۃ و السلام نے اپنی اپنی طرف نازل ہونے والی شریعت میں جو بھی احکام بتائے ، خواہ عقائد سے متعلق ہوں یا عِبادات سے ، یا معاملات و عادات سے، سب اللہ کی طرف سے وحی ہیں ،
اور اسی طرح غیب کی خبروں میں سے جو کچھ بتایا وہ بھی بالیقین اللہ کی طرف سے وحی ہیں ،
اور اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قران کریم کو سابقہ تمام کتابوں کی کسوٹی بنایا ، اپنے آخری نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو سابقہ تمام نبیوں سے بڑھ کر افضل و اعلیٰ مُقام اور درجہ عطاء فرمایا اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو دی جانے والی شریعت کو سابقہ تمام شریعتوں کا ناسخ بنایا ،
اور اسی طرح اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے اپنی ذات و صفات ، اپنی مخلوق کی ابتداء تخلیق اور انتہاء ، قیامت تک اور قیامت میں اور قیامت کے بعد ہونے والے واقعات میں سے جتنا چاہا اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو بتایا اور اُس میں سے جتنا چاہا آگے بتانے کی اجازت عطاء فرمائی،
اوراللہ کے رسول صلی محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےاپنے رب کے احکام کے عین مطابق اپنی اُمت کو بتایا ،
اللہ تعالیٰ نے اپنی اختیار کردہ سنت کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اپنا آخری نبی اور رسول بنایا اور ان کو سابقہ تمام نبیوں اور رسولوں علیہم الصلاۃ و السلام سے ممتاز رکھا ، اس امتیاز میں سے ایک یہ بھی تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف اللہ کے احکامات اور پیغامات کو اللہ کی کتاب قران کریم میں سے ہی وحی نہیں کیا جاتا تھا ، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کی جاتی تھی ،
اور اس کی سب سے بڑی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ذمہ داریوں میں اللہ تعالی نے یہ بھی مقرر فرمایا تھا کہ (((((بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ::: اور (اے محمد)ہم نے آپ کی طرف ذکر (قران) نازل کیا تا کہ آپ لوگوں کے لیے واضح فرمائیں کہ اُن کی طرف کیا اتارا گیا ہے اور تا کہ وہ غور کریں ))))) سورت النحل / آیت44،
اور مزید تاکید فرمائی کہ (((((وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلاَّ لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُواْ فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ::: اور(اے محمد ) ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب صرف اس لیے اتاری ہے کہ یہ لوگ جِس(چیز ) میں (بھی) اِختلاف کرتے ہیں آپ اِن لوگوں پر(اِس کتاب کے مطابق)وہ (چیز)واضح فرما دیجیے ، اور (ہم نے یہ کتاب)ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت (بنا کر نازل کی ہے) ))))) سورت النحل/آیت64،
::::: اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان دو فرامین میں ہمیں بڑی وضاحت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب قران حکیم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام مبارک کی وضاحت اور بیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذمہ داری تھی ،
لہذا اللہ کی کتاب قران کریم میں سے ہر ایک بات کو سمجھنے کے لیے، اللہ کے اسی کلام کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ یعنی اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین اور عمل مبارک کو دیکھا ہی جائے گا ، اور جو کچھ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک کے قول اور فعل کے طور پر صحیح ثابت شدہ ہو اسے ماننا ہی پڑے گا،
کہ ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحی مبارک ہیں ، نہ کہ کسی کے نفس کی آواز (((((مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىOوَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىO إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ::: تُم لوگ کے ساتھی (محمد ) نہ تو بھٹکے ہیں اور نہ ہی بہکے ہیں O اور نہ ہی یہ اپنی خواہش سے بات کرتے ہیںO ان کی بات تو یقیناً (اللہ کی طرف سے) کی گئی وحی ہے )))))سُورت النجم /آیت 2تا4،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اگلے مراسلے میں ،،،،،،،،،،،،،،،،،