غزل

پرائے شہر میں تو ہی ہے‌ آشنا اپنا
کوئی نہیں ہے سوا تیرے دوسرا اپنا

نکل کے گھر سے چراغ آ گئے ہیں سڑکوں پر
بدلنا ہوگا اندھیرے کو راستہ‌ اپنا

ازل سے عشق کا دستور ہے جہاں نافذ
اسی قبیلے سے ملتا ہے‌‌ سلسلہ اپنا

قلم ،رومال، گھڑی، عطر، سوئٹر، فوٹو
تمام لے جا تو سامان ‌ بے وفااپنا

ڈرا رہی تھی بہت سر پھری ہوا مجھکو
جلا کے رکھ دیا دہلیز ‌ پہ دیا اپنا

نہیں میں جاؤں گا اب شہر چھوڑ کر تیرا
سنا دیا ہے تجھے میں نے‌ ‌‌ فیصلہ اپنا
خورشید بھارتی
انڈیا
 

یاسر شاہ

محفلین
السلام علیکم خورشید صاحب آپ کی غزل دیکھ کر بے ساختہ کچھ باتیں دل میں آئیں جنھیں محض بطور مختلف نقطۂ نظر دیکھیے گا اصلاح سمجھنے کی ضرورت نہیں -

پرائے شہر میں تو ہی ہے‌ آشنا اپنا
کوئی نہیں ہے سوا تیرے دوسرا اپنا
اچھا ہے -
"پرائے شہر" کی بجائے "دیار غیر" نہ کہا ،شاید "کلیشے" ہونے کے سبب - بہر حال دیار غیر پائمال ترکیب سہی، دیار میں شہر کے مقابلے میں وسعت ہے -
"دوسرا اپنا " نے شعر میں ایک سوال پیدا کیا ہے کہ آخر پہلا اپنا کون ہے ؟ اور جواب بین السطور یہی سمجھ میں آتا ہے کہ پہلا اپنا شاعر کا اپنا وجود ہے کہ جس کے سوا کوئی بھی لاکھ اپنا ہو ایک غیریت اور دوسرے پن کا احساس رکھتا ہے -
------------
نکل کے گھر سے چراغ آ گئے ہیں سڑکوں پر
بدلنا ہوگا اندھیرے کو راستہ‌ اپنا

چراغ کا گھر سے نکل کے آنا کھٹک رہا ہے - یوں دیکھیں :

چراغ گھر سے نکالے گئے ہیں سڑکوں پر
بدل ہی دے گا اندھیرا بھی راستہ اپنا

ویسے گھر کے چراغ سڑکوں پر آ گئے تو سڑکوں کا اندھیرا راستہ بدل کر گھر آ جائے گا -
-----------

ازل سے عشق کا دستور ہے جہاں نافذ
اسی قبیلے سے ملتا ہے‌‌ سلسلہ اپنا

مصرع اولیٰ رواں تر کر دیں :
جہاں ازل سے ہی دستورِ عشق ہے نافذ
----------
قلم ،رومال، گھڑی، عطر، سوئٹر، فوٹو
تمام لے جا تو سامان ‌ بے وفااپنا

غالب نے کہا تھا :
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

آپ کا شعر اس کا نیا ورژن لگ رہا ہے
----------

ڈرا رہی تھی بہت سر پھری ہوا مجھکو
جلا کے رکھ دیا دہلیز ‌ پہ دیا اپنا

واہ -بہت خوب -"پہ"وزن خراب کر رہا ہے اسے "پر " کر دیں -

مختلف زاویۂ فکر، ان لوگوں کا جو اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بنانے کے قائل ہیں -یہ شعر نفسیاتی تنقید کا ایک اچھا موضوع بن سکتا ہے -
----------
نہیں میں جاؤں گا اب شہر چھوڑ کر تیرا
سنا دیا ہے تجھے میں نے‌ ‌‌ فیصلہ اپنا

یہ تو بس یوں ہی سی ایک بات ہے جسے موزوں کر دیا گیا -
 
السلام علیکم خورشید صاحب آپ کی غزل دیکھ کر بے ساختہ کچھ باتیں دل میں آئیں جنھیں محض بطور مختلف نقطۂ نظر دیکھیے گا اصلاح سمجھنے کی ضرورت نہیں -

پرائے شہر میں تو ہی ہے‌ آشنا اپنا
کوئی نہیں ہے سوا تیرے دوسرا اپنا
اچھا ہے -
"پرائے شہر" کی بجائے "دیار غیر" نہ کہا ،شاید "کلیشے" ہونے کے سبب - بہر حال دیار غیر پائمال ترکیب سہی، دیار میں شہر کے مقابلے میں وسعت ہے -
"دوسرا اپنا " نے شعر میں ایک سوال پیدا کیا ہے کہ آخر پہلا اپنا کون ہے ؟ اور جواب بین السطور یہی سمجھ میں آتا ہے کہ پہلا اپنا شاعر کا اپنا وجود ہے کہ جس کے سوا کوئی بھی لاکھ اپنا ہو ایک غیریت اور دوسرے پن کا احساس رکھتا ہے -
------------
نکل کے گھر سے چراغ آ گئے ہیں سڑکوں پر
بدلنا ہوگا اندھیرے کو راستہ‌ اپنا

چراغ کا گھر سے نکل کے آنا کھٹک رہا ہے - یوں دیکھیں :

چراغ گھر سے نکالے گئے ہیں سڑکوں پر
بدل ہی دے گا اندھیرا بھی راستہ اپنا

ویسے گھر کے چراغ سڑکوں پر آ گئے تو سڑکوں کا اندھیرا راستہ بدل کر گھر آ جائے گا -
-----------

ازل سے عشق کا دستور ہے جہاں نافذ
اسی قبیلے سے ملتا ہے‌‌ سلسلہ اپنا

مصرع اولیٰ رواں تر کر دیں :
جہاں ازل سے ہی دستورِ عشق ہے نافذ
----------
قلم ،رومال، گھڑی، عطر، سوئٹر، فوٹو
تمام لے جا تو سامان ‌ بے وفااپنا

غالب نے کہا تھا :
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

آپ کا شعر اس کا نیا ورژن لگ رہا ہے
----------

ڈرا رہی تھی بہت سر پھری ہوا مجھکو
جلا کے رکھ دیا دہلیز ‌ پہ دیا اپنا

واہ -بہت خوب -"پہ"وزن خراب کر رہا ہے اسے "پر " کر دیں -

مختلف زاویۂ فکر، ان لوگوں کا جو اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بنانے کے قائل ہیں -یہ شعر نفسیاتی تنقید کا ایک اچھا موضوع بن سکتا ہے -
----------
نہیں میں جاؤں گا اب شہر چھوڑ کر تیرا
سنا دیا ہے تجھے میں نے‌ ‌‌ فیصلہ اپنا

یہ تو بس یوں ہی سی ایک بات ہے جسے موزوں کر دیا گیا -
بہت شکریہ محترم آپ نے بڑی باریکی سے غزل کا خوبصورت تجزیہ کیا ہے۔میں بہت ممنون ہوں آپکے مشورے کا
 
Top