بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم
۱۶ شعبان المعظم ۱۴۲۷ھ مطابق ۱۰ ستمبر ۲۰۰۶ ء بروز اتوار ، بعد عصر
زبان ورنگ کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے
ارشاد فرمایا کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ (سورہٴحجرات )
مسلمان توآپس میں بھائی بھائی ہی ہیں
کوئی افریقہ سے آیا ہے کوئی لندن سے ، کوئی بلوچستان سے کوئی پنجاب سے ، کوئی سندھ سے، کوئی کہیں سے آیا ہے کوئی کہیں سے لیکن میں سب کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِکُمۡ وَاَلۡوَانِکُمۡ ؕ
ترجمہ: اور اسی کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کا بنانا ہے اور تمہارے لب ولہجہ اور رنگتوں کا الگ الگ ہونا ہے۔
زبان ورنگ کا اختلاف یہ میری نشانیاں ہیں، اگر کوئی اللہ کی نشانی کو حقیر سمجھے تو اس کی بہت بڑی نالائقی ہے، وہ بڑا بے ہودہ آدمی ہے، بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ زبان ورنگ کے اختلاف سے ایک دوسرے کو حقیر سمجھتے ہیں ۔ لوگ گناہ کی حقیقت کو سمجھتے نہیں، اگر کوئی اللہ کی نشانی کو نہیں مانتا، انکار کرتا ہے تو یہ کفر ہے۔ کوئی پنجابی بولتا ہے، کوئی سندھی زبان بولتا ہے تو اردو زبان والے ہنستے ہیں۔ اردو اچھی زبان تو ہے لیکن اس کو تمام زبانوں سے اچھا اور افضل سمجھنا جائز نہیں اور کسی زبان کو حقیرسمجھنا جائز نہیں۔ انگریزی زبان کو بھی حقیر نہ جاننا چاہیے ، اگر کوئی انگریز مسلمان ہوجائے تو کیا بولے گا؟ انگریزی ہی تو بولے گا، پس جتنی زبانیں ہیں سب کو اچھا سمجھو۔ اگر تم لندن میں پیدا ہوتے تو انگریزی بولتے، پنجاب میں پیدا ہوتے تو پنجابی بولتے ، سندھ میں پیدا ہوتے تو سندھی بولتے لہٰذا جو زبان تمہاری ہوتی کیا اس کو حقیر سمجھتے ؟ لہٰذا کسی زبان کو حقیر نہ سمجھو۔
جب ہم بنگلہ دیش گئے تو کبھی کسی بنگلہ دیشی کوحقیرنہیں سمجھا،اسی وجہ سے سب بنگلہ دیشی عاشق ہوگئے کیوں کہ مجھ میں عصبیت نہیں ہے، عصبیت کا نہ ہونا یہ بات بہت کم پاؤ گے ۔ میرے کتنے دوست پنجاب کے ہیں لیکن ان کی پنجابی سے مجھے مزہ آتا ہے۔
عصبیت.....سوء خاتمہ کا پیش خیمہ
اپنے قلب کا جائزہ لیتے رہو کہ عصبیت کا کوئی ذرّہ دل میں تو نہیں ہے۔ اگر عصبیت کا ایک ذرّہ بھی دل میں ہوا تو سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے۔ ایک غزوہ میں ایک شخص بہت بہادری سے لڑرہا تھا، ایک صحابی نے اس کی تعریف کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جہنمی ہے۔ وہ صحابی اس کے پیچھے لگ گئے ۔ آخر میں دیکھا کہ وہ زخمی ہوگیا اور زخموں کی تاب نہ لا کر اپنی تلوار سے اس نے خودکشی کرلی۔صحابی نے آکر یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سےعرض کیااورپوچھا کہ یا رسول اللہ !یہ کیا ماجرا ہے؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا کہ یہ شخص اسلام کے لیے نہیں عصبیت کے لیے لڑرہا تھا کہ میرے قبیلہ کا نام ہوگا۔ پس خوب سمجھ لو کہ عصبیت جہنم میں لے جانے والی ہے، زبان اور رنگ کو حقیر سمجھنا جہنم میں جانے کا سامان کرنا ہے۔
اس مضمون کو پھیلاؤ، اس کا بہت فائدہ ہوگا، آج کل اس کی ہر جگہ اشاعت کی ضرورت ہے ہر مسلمان اس مضمون کو آگے پھیلائے۔ کسی زبان کو حقیر نہ سمجھو، زبان اور رنگ کی وجہ سے کسی کوحقیرسمجھنا دلیل ہے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی نشانی کا انکار کررہا ہے۔
وَاخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِکُمۡ وَ اَلۡوَانِکُمۡ آدمی اپنے باپ کی نشانی کی عزت کرتا ہے، اس کو دیکھ کر باپ کو یاد کرکے روتا ہے کہ یہ میرے ابّا کی نشانی ہے۔ وہ بندہ کتنا نالائق ہے جو اللہ تعالیٰ کی نشانی کو جھگڑے کا ذریعہ بناتا ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں چاہے لندن کے ہوں، چاہے یوگنڈا کے ہوں۔ کالے گورے اللہ تعالیٰ بناتے ہیں ، خود نہیں بنتے ، اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والے ہیں، رنگ وزبان کا اختلاف الله تعالیٰ کی نشانی ہے ، جو قرآن پاک کی کسی آیت پر ایمان نہ لائے وہ قرآن پاک کا انکار کرنے والا ہے ۔
ماخوذ از : ماہنامہ الابرار ۲۰۰۶ء