جزوی متفق
اگر محبت ”روایتی اور مروجہ“ طور پر کی جائے تو یہ عمل بے ”وقوفی“ کے زمرے میں داخل ہوجاتی ہے
- اور جنگ کا تو مجھے پتا ہے کیا ہے ۔
(×) آپ نے کب اور کس جنگ عظیم میں حصہ لیا
- جائز نا جائز کچھ نہیں
(×) یہ تو آپ کا ”شعبہ“ ہی نہیں۔ آپ ”انجینئر “ ہوتے ہوئے ”ڈاکٹری“ میں ”دخل در غیر معقولات“ نہیں کرسکتے
- اور رہی بات اس کی تو یہ ٹیپو سلطان کے کسی مداح کا تازہ کارنامہ ہے
(×)متفق
مجھے بھی کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ اس قسم کے بہت سارے ”اقوال“ مختلف مداحوں کے ”کارنامے“ ہی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر بات ” مبنی بر دانش اور حقیقت“ جیسی ہو تو ان اقوال کی ”سند“ پھر ”ثانوی“ حیثیت اختیار کرجاتی ہے۔ آخر کو ہم دنیا بھر کے ”ادب“ میں ”جھوٹی سچی اور علامتی“ کہانیاں بھی تو پڑھتے اور اس سے ”سبق“ سیکھتے رہتے ہیں۔