محمد فہد
محفلین
آخری وقت
ہر آدمی کا آخری وقت مقرر ہے..کسی پر سوتے ہوئے وہ وقت آجاتا ہے کوئی راہ چلتے پکڑ لیا جاتا ہے..کوئی بستر پر بیمار ہو کے مرتا ہے..یہ وقت بہرحال ہر ایک پر آنا ہے..خواہ وہ ایک صورت میں آئے یا کسی دوسری صورت میں...
موت کا یہ واقعہ بھی کیسا عجیب ہے..ایک جیتی جاگتی زندگی اچانک بجھ جاتی ہے ایک ہنستا ہوا چہرہ لمحہ بھر میں اس طرح ختم ہوجاتا ہے..جیسے کہ وہ مٹی سے بھی زیادہ بےقیمت تھا... حوصلوں اور تمناؤں سے بھری ہوئی ایک روح اس طرح منظرِ عام سے ہٹا دی جاتی ہے جیسے اس کے حوصلوں اور تمناؤں کی کوئی قیمت ہی نہ تھی...
زندگی کس قدر بامعنی ہے..مگر اس کا انجام اس کو کس قدر بےمعنی بنادیتا ہے..آدمی بظاہر کتنا آزاد ہے مگر موت کے سامنے کس قدر مجبور ہے..آدمی اپنی خواہشوں اور تمناؤں کو کتنا زیادہ عزیز رکھتا ہے..مگر قدرت کا فیصلہ اس کی خواہشوں اور تمناؤں کو کس قدر بےرحمی سے کچل دیتا ہے...
آدمی اگر صرف اپنی موت کو یاد رکھے تو کبھی سرکشی نہ کرے..بہتر زندگی کا واحد راز یہ ہے..کہ ہر آدمی اپنی حد کے اندر رہنے پر راضی ہوجائے.. اور موت بلاشبہ اس حقیقت کی سب سے بڑی معلم ہے..
موت آدمی کو بتاتی ہے کہ وہ کسی کو حقیر نہ سمجھے..کیونکہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ وہ خود سب سے زیادہ حقیر ہوگا..موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ وہ کسی کو نہ دبائے.. کیونکہ بہت جلد وہ خود ہزاروں من مٹی کے نیچے دبا ہوا ہوگا...
مولانا وحیدالدین خان...
صراطِ مستقیم...
صفحہ 177...
ہر آدمی کا آخری وقت مقرر ہے..کسی پر سوتے ہوئے وہ وقت آجاتا ہے کوئی راہ چلتے پکڑ لیا جاتا ہے..کوئی بستر پر بیمار ہو کے مرتا ہے..یہ وقت بہرحال ہر ایک پر آنا ہے..خواہ وہ ایک صورت میں آئے یا کسی دوسری صورت میں...
موت کا یہ واقعہ بھی کیسا عجیب ہے..ایک جیتی جاگتی زندگی اچانک بجھ جاتی ہے ایک ہنستا ہوا چہرہ لمحہ بھر میں اس طرح ختم ہوجاتا ہے..جیسے کہ وہ مٹی سے بھی زیادہ بےقیمت تھا... حوصلوں اور تمناؤں سے بھری ہوئی ایک روح اس طرح منظرِ عام سے ہٹا دی جاتی ہے جیسے اس کے حوصلوں اور تمناؤں کی کوئی قیمت ہی نہ تھی...
زندگی کس قدر بامعنی ہے..مگر اس کا انجام اس کو کس قدر بےمعنی بنادیتا ہے..آدمی بظاہر کتنا آزاد ہے مگر موت کے سامنے کس قدر مجبور ہے..آدمی اپنی خواہشوں اور تمناؤں کو کتنا زیادہ عزیز رکھتا ہے..مگر قدرت کا فیصلہ اس کی خواہشوں اور تمناؤں کو کس قدر بےرحمی سے کچل دیتا ہے...
آدمی اگر صرف اپنی موت کو یاد رکھے تو کبھی سرکشی نہ کرے..بہتر زندگی کا واحد راز یہ ہے..کہ ہر آدمی اپنی حد کے اندر رہنے پر راضی ہوجائے.. اور موت بلاشبہ اس حقیقت کی سب سے بڑی معلم ہے..
موت آدمی کو بتاتی ہے کہ وہ کسی کو حقیر نہ سمجھے..کیونکہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ وہ خود سب سے زیادہ حقیر ہوگا..موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ وہ کسی کو نہ دبائے.. کیونکہ بہت جلد وہ خود ہزاروں من مٹی کے نیچے دبا ہوا ہوگا...
مولانا وحیدالدین خان...
صراطِ مستقیم...
صفحہ 177...