فلک شیر
محفلین
روایتی طور پر مارکسزم معاشی طبقات پر زور دیتا ہے، مگر پاکستان میں خالص طبقاتی تقسیم کبھی مکمل طور پر نہیں پنپ سکی۔ یہاں ہر نظریے کو مقامی ثقافتی و مذہبی رنگ میں ڈھالنا پڑا، جیسے کہ بھٹو کا "اسلامی سوشلزم"۔
بائیں بازو کے دانشور، قوم پرست طلبہ، اور جامعات میں سوشلسٹ نظریات کو تحفظ دینے والے پروفیسرز ریاستی بیانیے کے متبادل کے طور پر موجود رہے، مگر عوامی سطح پر ان کا اثر محدود رہا۔
نئی سیاسی حرکیات: نوجوانوں کی نظریاتی مزاحمت!!
گزشتہ چند سالوں میں نوجوانوں نے ریاستی جبر، بنیادی حقوق کی پامالی، اور سیاسی بندشوں کے باوجود نظریاتی مزاحمت کی ایک نئی مثال قائم کی۔ یہ مزاحمت نہ صرف سیاسی بلکہ فکری و سماجی سطح پر بھی نظر آتی ہے۔
یہ نوجوان سول سپرمیسی، قانون کی حکمرانی، عدل، مساوی معیشتی مواقع، اور اشرافیہ کے تسلط کے خاتمے کی امید کے ساتھ متحرک ہیں، جس نے پاکستانی سیاست میں ایک نئی جہت پیدا کی ہے۔
پاکستانی ریاست کے لیے ضائع شدہ موقع؟
موجودہ حالات میں یہ ایک شاندار موقع تھا کہ نوجوانوں کی عظیم عوامی حمایت سے فائدہ اٹھایا جاتا۔ یہ ایک ایسی نئی اور طاقتور "ہیومن ریسورس کلاس" تھی، جہاں مذہب اور نیشنلزم بیک وقت اپنی پوری قوت کے ساتھ نوجوانوں کی رگوں میں رواں دواں تھا۔ یہ طبقہ ریاستی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا، دہائیوں کا سفر چند سالوں میں طے ہو سکتا تھا، لیکن ریاستی پالیسی سازوں نے اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی اور غالباً تاحال اس نادر موقع کو دفن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں ایج برکٹس کی نئی طبقاتی تقسیم: شاید ایک نئی تھیوری!؟
15-35 سال: نظریاتی مزاحمت، سول سپرمیسی، عدل و مساوات، برابر معاشی مواقع اور برابری پہ مبنی بشری حقوق کے آئیڈیل پر مضبوطی سے قائم۔
40-50 سال: حالات کا مشاہدہ کرنے والے، سٹیٹس کو اور نظریاتی کی بجائے وقتی مفادات پہ مبنی سیاست کے متلاشی اور قانع ، اسی وجہ سے نوجوانوں سے نالاں۔
50-75 سال: روایتی سیاست اور ماضی کی پارٹی وابستگی کے حامل۔
یہ تقسیم ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستانی سیاست محض طبقاتی جدوجہد نہیں بلکہ عمر، شعور اور نظریے کی ایک پیچیدہ جنگ بھی بن چکی ہے۔
ریاستی پالیسی اور مستقبل کے امکانات:
موجودہ حکمتِ عملی ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ مزید بڑھا سکتی ہے۔ نوجوانوں کو اگر صحیح طریقے سے قومی ترقی میں شامل کیا جاتا، تو یہ پاکستان کے لیے ایک سٹریٹیجک اثاثہ بن سکتے تھے۔اصل سوال یہ ہے کیا پاکستانی سیاست میں نوجوانوں کی یہ تحریک ایک عارضی ابال ہے، یا یہ ایک نئی سیاسی و سماجی حقیقت بن چکی ہے!!
ضیغم احسان
بائیں بازو کے دانشور، قوم پرست طلبہ، اور جامعات میں سوشلسٹ نظریات کو تحفظ دینے والے پروفیسرز ریاستی بیانیے کے متبادل کے طور پر موجود رہے، مگر عوامی سطح پر ان کا اثر محدود رہا۔
نئی سیاسی حرکیات: نوجوانوں کی نظریاتی مزاحمت!!
گزشتہ چند سالوں میں نوجوانوں نے ریاستی جبر، بنیادی حقوق کی پامالی، اور سیاسی بندشوں کے باوجود نظریاتی مزاحمت کی ایک نئی مثال قائم کی۔ یہ مزاحمت نہ صرف سیاسی بلکہ فکری و سماجی سطح پر بھی نظر آتی ہے۔
یہ نوجوان سول سپرمیسی، قانون کی حکمرانی، عدل، مساوی معیشتی مواقع، اور اشرافیہ کے تسلط کے خاتمے کی امید کے ساتھ متحرک ہیں، جس نے پاکستانی سیاست میں ایک نئی جہت پیدا کی ہے۔
پاکستانی ریاست کے لیے ضائع شدہ موقع؟
موجودہ حالات میں یہ ایک شاندار موقع تھا کہ نوجوانوں کی عظیم عوامی حمایت سے فائدہ اٹھایا جاتا۔ یہ ایک ایسی نئی اور طاقتور "ہیومن ریسورس کلاس" تھی، جہاں مذہب اور نیشنلزم بیک وقت اپنی پوری قوت کے ساتھ نوجوانوں کی رگوں میں رواں دواں تھا۔ یہ طبقہ ریاستی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا، دہائیوں کا سفر چند سالوں میں طے ہو سکتا تھا، لیکن ریاستی پالیسی سازوں نے اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی اور غالباً تاحال اس نادر موقع کو دفن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں ایج برکٹس کی نئی طبقاتی تقسیم: شاید ایک نئی تھیوری!؟
15-35 سال: نظریاتی مزاحمت، سول سپرمیسی، عدل و مساوات، برابر معاشی مواقع اور برابری پہ مبنی بشری حقوق کے آئیڈیل پر مضبوطی سے قائم۔
40-50 سال: حالات کا مشاہدہ کرنے والے، سٹیٹس کو اور نظریاتی کی بجائے وقتی مفادات پہ مبنی سیاست کے متلاشی اور قانع ، اسی وجہ سے نوجوانوں سے نالاں۔
50-75 سال: روایتی سیاست اور ماضی کی پارٹی وابستگی کے حامل۔
یہ تقسیم ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستانی سیاست محض طبقاتی جدوجہد نہیں بلکہ عمر، شعور اور نظریے کی ایک پیچیدہ جنگ بھی بن چکی ہے۔
ریاستی پالیسی اور مستقبل کے امکانات:
موجودہ حکمتِ عملی ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ مزید بڑھا سکتی ہے۔ نوجوانوں کو اگر صحیح طریقے سے قومی ترقی میں شامل کیا جاتا، تو یہ پاکستان کے لیے ایک سٹریٹیجک اثاثہ بن سکتے تھے۔اصل سوال یہ ہے کیا پاکستانی سیاست میں نوجوانوں کی یہ تحریک ایک عارضی ابال ہے، یا یہ ایک نئی سیاسی و سماجی حقیقت بن چکی ہے!!
ضیغم احسان