محمد عدنان اکبری نقیبی
لائبریرین
’’ بس اب آئندہ گاؤں ہی سے آٹا منگوایا کریں گے‘‘، دفتر سے گھر پہنچا، تو بیگم نے فیصلہ سُنادیا۔ ہم نے اس حُکم نما فیصلے کی وجہ جاننا چاہی، تو محترمہ نے موبائل فون سامنے کردیا، جس میں ایک خاتون’’ آٹے کے کرتب‘‘ دِکھا رہی تھیں۔ وہ نامعلوم خاتون اس ویڈیو میں آٹے کے پیڑے کو بار بار پانی سے دھو کر یہ ثابت کرنا چاہ رہی تھیں کہ اس میں پلاسٹک شامل ہے۔ ذرا کھوج لگائی، تو پتا چلا کہ سوشل میڈیا پر تو ان دنوں یہ’’ ہاٹ ایشو‘‘ ہے اور ایک، دو نہیں، بلکہ بہت سی ایسی ویڈیوز گردش میں ہیں، جن میں خود کو’’ ماہرِ غذائیت‘‘ ظاہر کرنے والوں کے ساتھ، عام افراد بھی آٹے کی دُھلائی کے ساتھ، حُکم رانوں کو فوری کارروائی کی دہائیاں دے رہے ہیں۔ چوں کہ خواتین اپنے گھر والوں کی صحت کے حوالے سے زیادہ حسّاس ہوتی ہیں، اس لیے آٹے سے متعلق اس مہم کا زیادہ اثر بھی اُنہی پر ہوا۔ بعض گھرانوں میں تو اس پر باقاعدہ’’ مشاورتی اجلاس‘‘ ہوئے کہ آٹے کے متبادل کے طور پر کیا استعمال کیا جائے اور جہاں نوبت اجلاسوں تک نہیں پہنچی، اُن گھرانوں میں بھی تشویش کی لہریں بہ ہر حال دیکھی جا سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر’’ پلاسٹک آٹے‘‘ سے متعلق ویڈیوز رواں سال کے ابتدائی دنوں میں وائرل ہوئیں اور تین ماہ گزرنے کے باوجود، اب بھی اس نوعیت کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جارہی ہیں، جنھیں لاکھوں افراد نہ صرف یہ کہ دیکھ رہے ہیں، بلکہ اپنا’’ فرض‘‘ سمجھتے ہوئے پورے جوش و خروش سے آگے بھی بڑھا رہے ہیں۔ نیز، ان ویڈیوز پر دیے گئے کمنٹس پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد آٹے میں پلاسٹک کی ملاوٹ کے دعوؤں کو درست بھی سمجھتی ہے۔ پھر یہ بھی کہ ان ویڈیوز کو دیکھ کر لوگ خود بھی گھروں پر تجربے کر رہے ہیں، جس سے اُن کے خوف میں مزید اضافہ ہی ہو رہا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ پلاسٹک آٹے کی یہ مہم، باشعور شہریوں کی سرزمین سمجھے جانے والے فرانس سے شروع ہوئی اور پھر چند ہی دنوں میں کئی مُمالک تک پھیل گئی۔ اسپین کے میڈیا میں یہ ایشو زیرِ بحث رہا، تو برطانیہ میں بھی اس کا شور سُنا گیا۔ کینیڈا میں اس پر خُوب اودھم مچا، تو بھارت میں اس معاملے پر ایسی سنسنی پھیلی کہ پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور کئی گوداموں کو سیل کردیا گیا، جب کہ پاکستان کے گلی، محّلوں میں بھی کئی ماہ سے پلاسٹک آٹے کا چرچا ہے۔ سندھ اسمبلی کے ایک رُکن تو گندھا ہوا آٹا ایوان میں لے آئے اور ایک معروف فلورمل کا نام لے کر دعویٰ کیا کہ اُس کے آٹے سے ربر نکل رہا ہے۔ میرپور، آزاد کشمیر کے ڈپٹی کمشنر نے عوامی مطالبے پر دفعہ 144 نافذ کر کے ’’مشکوک آٹے‘‘ کو ضلع کی حدود میں لانے پر پابندی عاید کردی۔
اب سوال یہ ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر چلنے والی مہم اور اس کے عوام پر مرتّب ہونے والے سنگین اثرات کی بنیاد کیا ہے…اور پھر یہ بھی کہ اس حوالے سے عوام میں پائے جانے والے تحفّظات کی حقیقت کیا ہے…؟؟ کیا یہ محض افسانہ ہے یا اس میں کچھ سچائی بھی ہے…؟؟ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دِکھایا جا رہا ہے کہ اگر گُندھے ہوئے آٹے کے پیڑے کو پانی سے بار بار دھویا جائے، تو آخر میں جو گولا سا باقی رہ جاتا ہے، وہ ربر کی مانند ہوتا ہے۔ ان ویڈیوز سے ہٹ کر اگر ہم خود بھی تجربہ کریں، تو آخر میں نتیجہ ربر جیسے گولے ہی کی صُورت میں نکلتا ہے۔ لہٰذا، اس طرح کے تجربات سے آٹے میں پلاسٹک شامل کرنے سے متعلق شکوک کو تقویّت ملتی ہے اور انہی تجربات کی بنیاد پر یہ ساری مہم چلائی جا رہی ہے۔
دوسری بات یہ کہ گندھے ہوئے آٹے کے پیڑے کو دھونے کے بعد بچ جانے والا گولا، آگ پکڑ لیتا ہے اور اُس سے پلاسٹک کے جلنے جیسی بُو بھی آتی ہے۔ لوگ اسے بھی بہ طورِ ثبوت پیش کرتے ہیں۔ سو، ہم نے معاملے کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ سوالات اور عوامی تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج ماہرین کے سامنے رکھے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صائمہ رشید، کنسلٹنٹ نیوٹریشنیسٹ، نیشنل میڈیکل سینٹر، کراچی کا کہنا ہے کہ’’ گندم، جَو اور باجرے کے آٹے میں قدرتی طور پر گلوٹین موجود ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے روٹی میں لچک اور نرمی آتی ہے۔ چوں کہ گلوٹین کھنچتی ہے اور اسے کھینچ کر بڑا بھی کیا جا سکتا ہے، اس لیے لوگ اُسے ربر سمجھنے لگے ہیں۔ اگر آپ آٹے کا گولا بناکر پانی میں گھولیں، تو نشاستہ بہہ جائے گا اور پروٹین، گلوٹین کے گولے کی صُورت میں باقی رہ جائے گی۔ اس لچک دار گلوٹین سے آٹا گوندھنے، اس کا پیڑا بنانے اور پھر اُسے روٹی کی شکل دینے میں آسانی ہوتی ہے۔
اس بات کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمیں جب مکئی کی روٹی پکانی ہوتی ہے، تو اُس کے آٹے میں تھوڑا سا گندم کا آٹا بھی شامل کرتے ہیں، کیوں کہ مکئی میں گلوٹین کی کمی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے اُس کے آٹے میں لچک بھی نہیں ہوتی۔ نیز، بعض افراد گلوٹین استعمال نہیں کرتے، کیوں کہ اُنھیں اس سے الرجی ہوتی ہے، تو اس طرح کے افراد کے لیے مارکیٹ میں گلوٹین فِری آٹا بھی دست یاب ہے۔‘‘ آٹے کے جلنے سے پلاسٹک کے جلنے جیسی بُو کیوں آتی ہے…؟؟
اس سوال پر ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ’’ چوں کہ گلوٹین آگ پکڑنے والی چیز ہے اور اس کے جلنے سے پلاسٹک جیسی بُو پیدا ہوتی ہے، سو عوام نے اُسے پلاسٹک ہی کی بُو سمجھ لیا۔‘‘ عوامی سطح پر مشہور ہے کہ چکّی کا آٹا تو ٹھیک ہوتا ہے، لیکن بڑے فلور ملز کے آٹے میں پلاسٹک شامل ہے، اس لیے ہم نے پاکستان فلور ملز ایسویسی ایشن کے سربراہ، چوہدری انصر جاوید سے رابطہ کیا تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ وہ آٹے میں پلاسٹک کی ملاوٹ کو مکمل طور پر افواہ قرار دیتے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ’’ جب ہم نے آٹے میں پلاسٹک شامل کرنے کی باتیں سُنیں، تو فوری طور پر میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کردیا تھا کہ وہ اس طرح کی بے بنیاد اور مَن گھڑت باتوں پر کان نہ دھریں۔ گندم کے آٹے میں لچک کا ہونا کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی یہ کوئی ایسا راز ہے کہ جس سے اب پردہ اٹھا ہو۔ ہم لوگ اپنے بچپن میں کتابوں کی جِلد سازی میں بھی خُوب پکے ہوئے آٹے کی لئی کو استعمال کرتے رہے ہیں، جب کہ اس آٹے کی لئی سے دیواروں پر پوسٹرز وغیرہ بھی چپکانے کا کام لیا جاتا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ اب آٹے میں ملاوٹ ہوتی ہے، تو بھائی اُس دَور میں تو آٹا خالص ہی ہوتا ہوگا ناں، پھر اُس میں آج کے آٹے کی طرح لچک اور چِپک کیوں ہوتی تھی…؟؟
دراصل، یہ قدرت کا نظام ہے، جس سے ناواقف لوگ ہی ایسی اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں۔ یہ فارغ لوگوں کا کام ہے، جنھوں نے کچھ عرصہ قبل پلاسٹک کے چاولوں کا بھی شوشا چھوڑا تھا، جو اپنی موت آپ ہی مرگیا۔ ان دنوں پلاسٹک ڈیڑھ سو روپے کلو ہے اور آٹا 40 سے 50 روپے کلو کے درمیان فروخت ہو رہا ہے، اب آپ بتائیں، کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو آٹے میں پلاسٹک ملائے گا۔‘‘
ہمارے ہاں حکومتی ادارے عموماً اس طرح کے مواقع پر عوام کی کم ہی رہنمائی کرتے ہیں۔ اب اس آٹے ہی کے معاملے کو دیکھ لیجیے۔ عوام تین ماہ سے افواہوں کی زَد میں ہیں، مگر مجال ہے کہ حکومتی ادارے عوام کی رہنمائی کے لیے سامنے آئے ہوں، تاہم پنجاب فوڈ اتھارٹی کو اس ضمن میں استثنا حاصل ہے کہ اس نے بہ ہر حال کچھ نہ کچھ اقدامات تو کیے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل، پنجاب فوڈ اتھارٹی، نور الامین مینگل نے’’ جنگ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہم نے اطلاع ملنے پر فوری طور پر صوبے کے مختلف علاقوں سے آٹے کے نمونے حاصل کیے، جو مختلف برانڈز اور فلور ملز کے تھے، پھر اُن کا نہ صرف یہ کہ اپنی لیبارٹری، بلکہ دیگر مستند لیبارٹریز سے بھی معاینہ کروایا تاکہ کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے، مگر کسی بھی نمونے میں پلاسٹک نہیں پایا گیا۔‘‘
اس حوالے سے برطانیہ کی مثال دینا بھی ضروری ہے، جب پلاسٹک ملے آٹے کا معاملہ وہاں کے اخبارات کی زینت بنا، تو حکومتی ادارے فوری طور پر حرکت میں آگئے اور مارکیٹ سے آٹے کے نمونے لے کر اُن کا تجزیہ کیا گیا، جس میں اس طرح کی کوئی ملاوٹ نہیں پائی گئی۔ اس حوالے سے’’ فوڈ اسٹینڈرڈ ایجینسی، یوکے‘‘ نے ٹوئٹر پر بھی ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ’’ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس سے یہ ثابت ہوتا کہ برطانیہ میں پلاسٹک کا آٹا فروخت ہو رہا ہے۔‘‘ علاوہ ازیں، بعض افراد اس’’ آٹا مہم‘‘ کے پیچھے کاروباری رقابت کا شبہ بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اُن کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس پلاسٹک آٹا مہم کا گہرائی سے جائزہ لیں، تو معلوم ہوگا کہ ویڈیوز میں زیادہ تر مخصوص برانڈز ہی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
آٹے میں پلاسٹک کی ملاوٹ ہے یا نہیں…؟؟ اس بات کے فیصلے کے لیے کاشت کاروں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے، کیوں کہ وہ خود گندم کاشت کرتے ہیں۔ سو، ہم نے چند کاشت کاروں سے بھی بات کی، جن کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ وہ برسوں سے گندم کاشت کرتے آ رہے ہیں اور اپنے کھیت ہی کی گندم کو پِسواتے ہیں، جس میں کسی قسم کی کوئی ملاوٹ نہیں ہوتی، مگر اس آٹے کے پیڑے کو بھی دھوئیں، تو بھی ربر جیسی چیز ہی سامنے آتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ پلاسٹک یا کسی اور چیز کی ملاوٹ کا نہیں، بلکہ گندم کا آٹا قدرتی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا، غذائی ماہرین، کاشت کاروں، مقامی اور عالمی اداروں اور فلور ملز مالکان کی آرا کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آٹے میں پلاسٹک شامل کرنے کی باتیں محض افواہیں ہیں، جنھیں ہرگز سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں۔
منور راجپوت
سوشل میڈیا پر’’ پلاسٹک آٹے‘‘ سے متعلق ویڈیوز رواں سال کے ابتدائی دنوں میں وائرل ہوئیں اور تین ماہ گزرنے کے باوجود، اب بھی اس نوعیت کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جارہی ہیں، جنھیں لاکھوں افراد نہ صرف یہ کہ دیکھ رہے ہیں، بلکہ اپنا’’ فرض‘‘ سمجھتے ہوئے پورے جوش و خروش سے آگے بھی بڑھا رہے ہیں۔ نیز، ان ویڈیوز پر دیے گئے کمنٹس پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد آٹے میں پلاسٹک کی ملاوٹ کے دعوؤں کو درست بھی سمجھتی ہے۔ پھر یہ بھی کہ ان ویڈیوز کو دیکھ کر لوگ خود بھی گھروں پر تجربے کر رہے ہیں، جس سے اُن کے خوف میں مزید اضافہ ہی ہو رہا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ پلاسٹک آٹے کی یہ مہم، باشعور شہریوں کی سرزمین سمجھے جانے والے فرانس سے شروع ہوئی اور پھر چند ہی دنوں میں کئی مُمالک تک پھیل گئی۔ اسپین کے میڈیا میں یہ ایشو زیرِ بحث رہا، تو برطانیہ میں بھی اس کا شور سُنا گیا۔ کینیڈا میں اس پر خُوب اودھم مچا، تو بھارت میں اس معاملے پر ایسی سنسنی پھیلی کہ پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور کئی گوداموں کو سیل کردیا گیا، جب کہ پاکستان کے گلی، محّلوں میں بھی کئی ماہ سے پلاسٹک آٹے کا چرچا ہے۔ سندھ اسمبلی کے ایک رُکن تو گندھا ہوا آٹا ایوان میں لے آئے اور ایک معروف فلورمل کا نام لے کر دعویٰ کیا کہ اُس کے آٹے سے ربر نکل رہا ہے۔ میرپور، آزاد کشمیر کے ڈپٹی کمشنر نے عوامی مطالبے پر دفعہ 144 نافذ کر کے ’’مشکوک آٹے‘‘ کو ضلع کی حدود میں لانے پر پابندی عاید کردی۔
اب سوال یہ ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر چلنے والی مہم اور اس کے عوام پر مرتّب ہونے والے سنگین اثرات کی بنیاد کیا ہے…اور پھر یہ بھی کہ اس حوالے سے عوام میں پائے جانے والے تحفّظات کی حقیقت کیا ہے…؟؟ کیا یہ محض افسانہ ہے یا اس میں کچھ سچائی بھی ہے…؟؟ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دِکھایا جا رہا ہے کہ اگر گُندھے ہوئے آٹے کے پیڑے کو پانی سے بار بار دھویا جائے، تو آخر میں جو گولا سا باقی رہ جاتا ہے، وہ ربر کی مانند ہوتا ہے۔ ان ویڈیوز سے ہٹ کر اگر ہم خود بھی تجربہ کریں، تو آخر میں نتیجہ ربر جیسے گولے ہی کی صُورت میں نکلتا ہے۔ لہٰذا، اس طرح کے تجربات سے آٹے میں پلاسٹک شامل کرنے سے متعلق شکوک کو تقویّت ملتی ہے اور انہی تجربات کی بنیاد پر یہ ساری مہم چلائی جا رہی ہے۔
دوسری بات یہ کہ گندھے ہوئے آٹے کے پیڑے کو دھونے کے بعد بچ جانے والا گولا، آگ پکڑ لیتا ہے اور اُس سے پلاسٹک کے جلنے جیسی بُو بھی آتی ہے۔ لوگ اسے بھی بہ طورِ ثبوت پیش کرتے ہیں۔ سو، ہم نے معاملے کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ سوالات اور عوامی تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج ماہرین کے سامنے رکھے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صائمہ رشید، کنسلٹنٹ نیوٹریشنیسٹ، نیشنل میڈیکل سینٹر، کراچی کا کہنا ہے کہ’’ گندم، جَو اور باجرے کے آٹے میں قدرتی طور پر گلوٹین موجود ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے روٹی میں لچک اور نرمی آتی ہے۔ چوں کہ گلوٹین کھنچتی ہے اور اسے کھینچ کر بڑا بھی کیا جا سکتا ہے، اس لیے لوگ اُسے ربر سمجھنے لگے ہیں۔ اگر آپ آٹے کا گولا بناکر پانی میں گھولیں، تو نشاستہ بہہ جائے گا اور پروٹین، گلوٹین کے گولے کی صُورت میں باقی رہ جائے گی۔ اس لچک دار گلوٹین سے آٹا گوندھنے، اس کا پیڑا بنانے اور پھر اُسے روٹی کی شکل دینے میں آسانی ہوتی ہے۔
اس بات کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمیں جب مکئی کی روٹی پکانی ہوتی ہے، تو اُس کے آٹے میں تھوڑا سا گندم کا آٹا بھی شامل کرتے ہیں، کیوں کہ مکئی میں گلوٹین کی کمی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے اُس کے آٹے میں لچک بھی نہیں ہوتی۔ نیز، بعض افراد گلوٹین استعمال نہیں کرتے، کیوں کہ اُنھیں اس سے الرجی ہوتی ہے، تو اس طرح کے افراد کے لیے مارکیٹ میں گلوٹین فِری آٹا بھی دست یاب ہے۔‘‘ آٹے کے جلنے سے پلاسٹک کے جلنے جیسی بُو کیوں آتی ہے…؟؟
اس سوال پر ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ’’ چوں کہ گلوٹین آگ پکڑنے والی چیز ہے اور اس کے جلنے سے پلاسٹک جیسی بُو پیدا ہوتی ہے، سو عوام نے اُسے پلاسٹک ہی کی بُو سمجھ لیا۔‘‘ عوامی سطح پر مشہور ہے کہ چکّی کا آٹا تو ٹھیک ہوتا ہے، لیکن بڑے فلور ملز کے آٹے میں پلاسٹک شامل ہے، اس لیے ہم نے پاکستان فلور ملز ایسویسی ایشن کے سربراہ، چوہدری انصر جاوید سے رابطہ کیا تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ وہ آٹے میں پلاسٹک کی ملاوٹ کو مکمل طور پر افواہ قرار دیتے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ’’ جب ہم نے آٹے میں پلاسٹک شامل کرنے کی باتیں سُنیں، تو فوری طور پر میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کردیا تھا کہ وہ اس طرح کی بے بنیاد اور مَن گھڑت باتوں پر کان نہ دھریں۔ گندم کے آٹے میں لچک کا ہونا کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی یہ کوئی ایسا راز ہے کہ جس سے اب پردہ اٹھا ہو۔ ہم لوگ اپنے بچپن میں کتابوں کی جِلد سازی میں بھی خُوب پکے ہوئے آٹے کی لئی کو استعمال کرتے رہے ہیں، جب کہ اس آٹے کی لئی سے دیواروں پر پوسٹرز وغیرہ بھی چپکانے کا کام لیا جاتا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ اب آٹے میں ملاوٹ ہوتی ہے، تو بھائی اُس دَور میں تو آٹا خالص ہی ہوتا ہوگا ناں، پھر اُس میں آج کے آٹے کی طرح لچک اور چِپک کیوں ہوتی تھی…؟؟
دراصل، یہ قدرت کا نظام ہے، جس سے ناواقف لوگ ہی ایسی اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں۔ یہ فارغ لوگوں کا کام ہے، جنھوں نے کچھ عرصہ قبل پلاسٹک کے چاولوں کا بھی شوشا چھوڑا تھا، جو اپنی موت آپ ہی مرگیا۔ ان دنوں پلاسٹک ڈیڑھ سو روپے کلو ہے اور آٹا 40 سے 50 روپے کلو کے درمیان فروخت ہو رہا ہے، اب آپ بتائیں، کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو آٹے میں پلاسٹک ملائے گا۔‘‘
ہمارے ہاں حکومتی ادارے عموماً اس طرح کے مواقع پر عوام کی کم ہی رہنمائی کرتے ہیں۔ اب اس آٹے ہی کے معاملے کو دیکھ لیجیے۔ عوام تین ماہ سے افواہوں کی زَد میں ہیں، مگر مجال ہے کہ حکومتی ادارے عوام کی رہنمائی کے لیے سامنے آئے ہوں، تاہم پنجاب فوڈ اتھارٹی کو اس ضمن میں استثنا حاصل ہے کہ اس نے بہ ہر حال کچھ نہ کچھ اقدامات تو کیے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل، پنجاب فوڈ اتھارٹی، نور الامین مینگل نے’’ جنگ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہم نے اطلاع ملنے پر فوری طور پر صوبے کے مختلف علاقوں سے آٹے کے نمونے حاصل کیے، جو مختلف برانڈز اور فلور ملز کے تھے، پھر اُن کا نہ صرف یہ کہ اپنی لیبارٹری، بلکہ دیگر مستند لیبارٹریز سے بھی معاینہ کروایا تاکہ کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے، مگر کسی بھی نمونے میں پلاسٹک نہیں پایا گیا۔‘‘
اس حوالے سے برطانیہ کی مثال دینا بھی ضروری ہے، جب پلاسٹک ملے آٹے کا معاملہ وہاں کے اخبارات کی زینت بنا، تو حکومتی ادارے فوری طور پر حرکت میں آگئے اور مارکیٹ سے آٹے کے نمونے لے کر اُن کا تجزیہ کیا گیا، جس میں اس طرح کی کوئی ملاوٹ نہیں پائی گئی۔ اس حوالے سے’’ فوڈ اسٹینڈرڈ ایجینسی، یوکے‘‘ نے ٹوئٹر پر بھی ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ’’ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس سے یہ ثابت ہوتا کہ برطانیہ میں پلاسٹک کا آٹا فروخت ہو رہا ہے۔‘‘ علاوہ ازیں، بعض افراد اس’’ آٹا مہم‘‘ کے پیچھے کاروباری رقابت کا شبہ بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اُن کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس پلاسٹک آٹا مہم کا گہرائی سے جائزہ لیں، تو معلوم ہوگا کہ ویڈیوز میں زیادہ تر مخصوص برانڈز ہی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
آٹے میں پلاسٹک کی ملاوٹ ہے یا نہیں…؟؟ اس بات کے فیصلے کے لیے کاشت کاروں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے، کیوں کہ وہ خود گندم کاشت کرتے ہیں۔ سو، ہم نے چند کاشت کاروں سے بھی بات کی، جن کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ وہ برسوں سے گندم کاشت کرتے آ رہے ہیں اور اپنے کھیت ہی کی گندم کو پِسواتے ہیں، جس میں کسی قسم کی کوئی ملاوٹ نہیں ہوتی، مگر اس آٹے کے پیڑے کو بھی دھوئیں، تو بھی ربر جیسی چیز ہی سامنے آتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ پلاسٹک یا کسی اور چیز کی ملاوٹ کا نہیں، بلکہ گندم کا آٹا قدرتی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا، غذائی ماہرین، کاشت کاروں، مقامی اور عالمی اداروں اور فلور ملز مالکان کی آرا کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آٹے میں پلاسٹک شامل کرنے کی باتیں محض افواہیں ہیں، جنھیں ہرگز سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں۔
منور راجپوت