جاسم محمد
محفلین
کیونکہ ہم انصافی پٹواریوں کی رگ رگ سے واقف ہیںخُوب اِشتعال دلاتے ہو۔ ھاھاھا۔
کیونکہ ہم انصافی پٹواریوں کی رگ رگ سے واقف ہیںخُوب اِشتعال دلاتے ہو۔ ھاھاھا۔
مُجھے لگتا ہے کہ نُون لیگ والے پٹوار سسٹم سے جان چھڑانا چاہتے تھے اور آپ نے اُن کے لیے سہُولتیں پیدا کیں، مثال کے طور پر پنجاب لینڈ اتھارٹی کا حال دیکھ لیں۔ شہباز شریف نے اِسے بُلندیوں تک پُہنچایا اور پٹواریوں کا رول کم سے کم کِیا۔ آپ کی حکُومت نے پٹواریوں کو پھر سے سسٹم میں کافی حد تک اِن کر دیا ہے اور آن لائن نظام کے حوالے سے ترقی معکوس کی صُورت ہے۔ زوال ہی زوال، اب چاہے آپ اس زوال کا نام تبدیلی رکھ دِیں۔کیونکہ ہم انصافی پٹواریوں کی رگ رگ سے واقف ہیں
پی ٹی آئی نے امریکا میں اپنے ایجنٹس کو 'غیر قانونی فنڈنگ کا ذمہ دار ٹھہرادیا
افتخار اے خان 14 جنوری 2021
Facebook Count
Twitter Share
0
Translate
تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس اکبر ایس بابر نے نومبر 2014 میں دائر کیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
اسلام آباد: بظاہر امریکا سے غیر قانونی فنڈنگ سے انکار کے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف نہ اب یہ وضاحت پیش کی ہے کہ اگر عمران خان کی تحریری ہدایت کے بعد رجسٹرڈ ہونے والی دو امریکی کمپنیوں نے کوئی فنڈز غیر قانونی طور پر اکٹھے کیے ہیں تو اس کی ذمہ داری ان کمپنیوں کا انتظام سنبھالنے والے ایجنٹوں پر عائد ہوتی ہے۔
باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پارٹی نے یہ تازہ مؤقف الیکشن کمیشن پاکستان کی اسکروٹنی کمیٹی کی جانب سے دیے گئے سوال نامے کے تحریری جواب میں اپنایا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ای سی پی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی اسکروٹنی کا عمل تیز کرنے کی حالیہ ہدایات کے بعد ملاقات کی جو مارچ 2018 سےجاری ہے۔
تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس اس جماعت کے ایک بانی رکن اکبر ایس بابر نے نومبر 2014 میں دائر کیا تھا۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ بدھ کے اجلاس میں درخواست گزار کے وکیل سید احمد حسین شاہ نے کمیٹی کی جانب سے اپنے موکل کو پی ٹی آئی کی مالی دستاویز فراہم کرنے سے انکار پر احتجاج کیا۔
ان دستاویز میں پی ٹی آئی کی 23 بینک اسٹیٹمنٹس بھی شامل ہیں جو اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر موصول ہوئی تھیں اور الیکشن کمیشن کے پاس پوشیدہ ہیں۔
سید احمد حسین شاہ کی معاونت اقبال چودھری نے کی، احمد حسین شاہ کا کہنا تگھا کہ دستاویز دینے سے انکار کر کے کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے 30 مئی 2018 کے حکم کی خلاف ورزی ہے جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے دستاویزات اور اسکروٹنی کے عمل کو خفیہ رکھنے کی درخواست کو مسترد کردیا گیا تھا۔
کمیٹی کے چیئرمین نے آگاہ کیا کہ پی ٹی آئی کے بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر دستاویزات پی ٹی آئی کے تحفظات پر درخواست گزار کو نہیں فراہم کیے جارہے۔
جس پر درخواست گزار اکبر ایس بابر نے شکایت کی کہ اگر جن کے خلاف تفتیش کی جارہی ہو وہ ہی اس سارے عمل کا انتظام سنبھالیں تو اسکروٹنی اور تحقیقات کس طرح شفاف اور آزادانہ ہوسکتی ہے۔
اب دیکھنا جاسم بھائی کون کونسے اور کہاں کہاں سے جعلی ڈاکومنٹس نکال لاتے ہیں۔۔۔
ان کو کرپشن نظر نہیں آرہی۔۔۔ اس لیے تو کہتا ہوں۔ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خُوب اِشتعال دلاتے ہو۔ ھاھاھا۔
مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہر آنے والا قوم ہی سے قربانیاں کیوں مانگتا ہے؟ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگ قربانیاں کیوں نہیں دیتے؟کیونکہ ہم انصافی پٹواریوں کی رگ رگ سے واقف ہیں
قوم قربانی دینے والی ہوتی تو ہر پانچ سال بعد کوئی نئی سیاسی جماعت اپنے پر حکمرانی کیلئے منتخب نہ کرتی۔ حکمران طبقہ قوم کی اس بے صبری والی کمزوری کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اسلئے وہ بھی صحیح معنی میں ملک ٹھیک کرنے کی بجائے ۵ سالہ دہاڑی لگا کر رفو چکر ہو جاتا ہے۔ مشرف اور نواز شریف خاندان کا حال آپ کے سامنے ہے جو اپنی اپنی دہاڑیاں لگا کر ملک کی عدالتوں سے فرار ہو چکے ہیں۔مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہر آنے والا قوم ہی سے قربانیاں کیوں مانگتا ہے؟ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگ قربانیاں کیوں نہیں دیتے؟
قوم نے کب قربانیاں نہیں دیں؟
اپنی تنخواہیں خود بڑھا لیتے ہیں۔ ڈھیروں مراعات ہیں۔ علاج باہر۔ حج ہمارے پیسوں سے۔۔۔
اب بھی شکوہ ہے کہ وفادار نہیں
آپ اپنا جواب دیں۔ اِن کا کیس بعد کا ہے۔ یِہ بھی اپنے وقت پر جواب دیں گے، ھاھاھا۔
تحریک انصاف اپنا جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا چکی ہے۔ آج مورخہ ۱۸ جنوری ۲۰۲۱ سے ن لیگ اور پی پی کی فارن فنڈنگ پر جرح ہوگیآپ اپنا جواب دیں۔ اِن کا کیس بعد کا ہے۔ یِہ بھی اپنے وقت پر جواب دیں گے، ھاھاھا۔
اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو سب سے پہلے پاکستان کی طاقتور خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت والے تحریک انصاف کے لیڈران کا گریبان پکڑتے۔
آپ نے چھ سال لِیے، اُن کو بھی تین چار سال دے دیں، ھاھاھا۔تحریک انصاف اپنا جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا چکی ہے۔ آج مورخہ ۱۸ جنوری ۲۰۲۱ سے ن لیگ اور پی پی کی فارن فنڈنگ پر جرح ہوگی
نواز شریف پاکستان میں ہمارا آدمی ہے، سعودی شہزادہ ولید بن طلالہاہالہاہاہاہاہاہاہا
بہت مزاقیہ اوہ پاء جی۔۔۔
بیشک تین چار سال لے لیں لیکن جواب بہرحال دینا پڑے گا جیسے تحریک انصاف نے دیا ہے۔ نیز اگر آپ دیگر پٹواریوں کی طرح خوشی سے پھولے جا رہے ہیں کہ تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس میں نااہل ہونے والی ہے تو آپ کیلئے بہت بری خبر ہے:آپ نے چھ سال لِیے، اُن کو بھی تین چار سال دے دیں، ھاھاھا۔
ھاھاھا۔ لوڈ ہی نہیں ہُوئی ٹویٹ۔ نیٹ کا صابن سلو ہے۔بیشک تین چار سال لے لیں لیکن جواب بہرحال دینا پڑے گا جیسے تحریک انصاف نے دیا ہے۔ نیز اگر آپ دیگر پٹواریوں کی طرح خوشی سے پھولے جا رہے ہیں کہ تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس میں نااہل ہونے والی ہے تو آپ کیلئے بہت بری خبر ہے:
لیگیوں کیلئے اردو میں ترجمہ؛ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق یہ فارن فنڈنگ کا نہیں ممنوعہ فنڈنگ کا کیس ہے۔ اور اگر ثابت ہو جاتی ہے تو ممنوعہ فنڈز ضبط کر لئے جائیں گے۔ اس پر مزید اور کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی۔ھاھاھا۔ لوڈ ہی نہیں ہُوئی ٹویٹ۔ نیٹ کا صابن سلو ہے۔
بات ٹھپے کی ہے ورنہ یِہ مُعاملہ الیکشن کمیشن نپٹانے سے رہا، جو مُتاثرہ فریق ہے، وُہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے اور پھر نظرثانی اپیل کرتے کرتے ایک سال اور زائد کا وقت نکل سکتا ہے مگر اِس دوران جن ممنوعہ 'ذرائع' سے فنڈنگ لی گئی، اُن کے حوالے سے جواب دہی کرنا پڑے گی اور یہ سوالات بار بار اُٹھیں گے۔لیگیوں کیلئے اردو میں ترجمہ؛ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق یہ فارن فنڈنگ کا نہیں ممنوعہ فنڈنگ کا کیس ہے۔ اور اگر ثابت ہو جاتی ہے تو ممنوعہ فنڈز ضبط کر لئے جائیں گے۔ اس پر مزید اور کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی۔
اپیل کی کیا ضرورت ہے جب تحریک انصاف اپنے تحریری جواب میں اقرار جرم کر چکی ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی رو سے یہ ممنوعہ فنڈنگ ضبط کر لی جائے گی۔ کیس ختم شد۔بات ٹھپے کی ہے ورنہ یِہ مُعاملہ الیکشن کمیشن نپٹانے سے رہا، جو مُتاثرہ فریق ہے، وُہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے اور پھر نظرثانی اپیل کرتے کرتے ایک سال اور زائد کا وقت نکل سکتا ہے مگر اِس دوران جن ممنوعہ 'ذرائع' سے فنڈنگ لی گئی، اُن کے حوالے سے جواب دہی کرنا پڑے گی اور یہ سوالات بار بار اُٹھیں گے۔
عدالت میں یہ سیاپا ختم اور میدانِ سیاست میں پِٹ سیاپا پڑا رہے گا۔ جان چھڑانی مُشکل ہے کہ کم از کم ایک اپوزیشن کی جماعت تو اِسی کی بُنیاد پر سیاست کرے گی۔اپیل کی کیا ضرورت ہے جب تحریک انصاف اپنے تحریری جواب میں اقرار جرم کر چکی ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی رو سے یہ ممنوعہ فنڈنگ ضبط کر لی جائے گی۔ کیس ختم شد۔
سیاپا وہاں پڑتا ہے جہاں آپ مجرم ہوتے ہوئے بھی صحت جرم سے انکار کریں اور یوں ڈھٹائی کا مظاہرہ کریں۔ جیسے نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد بھی نہیں مان رہے کہ لندن فلیٹس ان کی ملکیت ہیں۔ الٹا جب سے جعلی بیماریوں کے نام پر ملک سے بھاگے ہیں انہی فلیٹس میں قیام پزیر ہیں۔عدالت میں یہ سیاپا ختم اور میدانِ سیاست میں پِٹ سیاپا پڑا رہے گا۔ جان چھڑانی مُشکل ہے کہ کم از کم ایک اپوزیشن کی جماعت تو اِسی کی بُنیاد پر سیاست کرے گی۔
یِہ سیاپا تو اب پڑ چُکا۔ جب بات مان لی جائے تو پھر مُعاملہ ختم نہیں، شروع ہوتا ہے۔سیاپا وہاں پڑتا ہے جہاں آپ مجرم ہوتے ہوئے بھی صحت جرم سے انکار کریں اور یوں ڈھٹائی کا مظاہرہ کریں۔ جیسے نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد بھی نہیں مان رہے کہ لندن فلیٹس ان کی ملکیت ہیں۔ الٹا جب سے جعلی بیماریوں کے نام پر ملک سے بھاگے ہیں انہی فلیٹس میں قیام پزیر ہیں۔
یا جس طرح عمران خان کیلی فورنیا کی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد بھی نہیں مان رہے ہیں کہ وہ ایک بیٹی کے والد ہیں۔
میرے خیال میں الٹا چکر ہے۔ جنرل عاصم باجوہ بھی اسی لئے پھنس گئے ہیں کہ وہ اپنے پیزا فرنچائس نہیں مان رہے۔ نواز شریف اپنے لندن فلیٹس نہیں مان رہے۔ زرداری اپنا سرے محل نہیں مانتے تھے۔ عمران خان اپنی بیٹی نہیں مان رہے۔ یہی حکمران عوام سے سچ بولنا شروع کر دیں تو معاملہ وہیں ختم ہو جائے۔یِہ سیاپا تو اب پڑ چُکا۔ جب بات مان لی جائے تو پھر مُعاملہ ختم نہیں، شروع ہوتا ہے۔