چھوٹاغالبؔ
لائبریرین
منظورہے گزارشِ احوالِ واقعی
اپنا بیان حسنِ طبیعت نہیں مجھے
سو پشت سے ہے طریقہ آبا پیری فقیری
کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے
آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
ہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
کیا کم ہے یہ کہ اردو ویب کا رکن ہوں
مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
اعجاز ، و شمشاد پہ استہزا کا ہو مجھے خیال
یہ تاب، یہ مجال، یہ طاقت نہیں مجھے
جامِ جہاں نما ہے کمپیوٹر آف ابنِ سعید
سو گند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
میں کہاں اور محمد وارث کہاں ، اس سے مدعا
جز انبساط ِ خاطرِحضرت نہیں مجھے
لطیفہ لکھا گیا ، ہنسنے ہنسانے کیلئے
خوامخواہ چولیں مارنے کی عادت نہیں مجھے
تبصرہ میں آ پڑی تھی سخن گسترانہ بات
مقصود اس سے قطعاً ، حجت نہیں مجھے
روئے سخن کسی کی طرف ہو تو اللہ کی پناہ
سودا نہیں ، جنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے
شکل بری سہی ، پہ طبیعت بری نہیں
قسم مرزا غالبؔ کی کہ شکایت نہیں مجھے
احمق ہے اپنی باتوں سے، مگر چھوٹے کا خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ خوشامد کی عادت نہیں مجھے
سجنو تے ساتھیو!!!
میں 3 دن سے گھبرایا ہوا سا ہوں ، اور ایک شعر کا ورد کرتے کرتے سر دھن رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ :۔ یا رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے٭٭ لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرر نہیں ہوں میں
میرے نام کی جگہ چھوٹا غالبؔ ایسے ہی نہیں لکھ دیا گیا، بلکہ اس نام کا حقدار قرار پائے جانے کیلئے میں نے ارتقا کا ایک لمبا سفر (مجھ جیسے آلسی کیلئے تو یہ بھی لمبا ہی ہے)طے کرنا پڑا، بہت کچھ ترک کرنا پڑا اور بہت کچھ اپنانا پڑا،بس یوں سمجھ لیں بہت کچھ گزرا ہے اس قطرے پہ گہر ہونے تک، کچھ تو قدرتی تھا، کچھ نقالی سے اور بہت کچھ مجھ پر نام کا اثر بھی ہوا۔ لیکن شکر کہ "میں کامیاب ہوگیا"(بقول امانت چن)
ویسے تو فولاد ہے مومن مگر ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم، ویسے تو میں ڈھٹائی میں کسی کو اپنا مدمقابل نہیں مانتا مگر میرے اردو ویب کے اعمال نامے میں نیگٹو ریٹنگ کے ضمن میں لکھا 4 کا ہندسہ مجھ پر گراں ہے
1:۔ مقدس :۔ پیاری سی ہی ہی ہی کرتی بہنا، جب میں نیا نیا اردو ویب پر آیا تھا تو مجھے ویلکم کرنے والوں میں یہ "حور بھی تھی" ویسے تو میں جگ بھائی اور جگ ماموں مشہور ہوں اس لیے میرے لیے بھائی کہلایا جانا کچھ نیا نہ تھا ، مگر مقدس نے جس طرح مجھے بھیا کہہ کر ویلکم کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا، اور کبھی بھولے گا بھی نہیں، لفظ بھائی سے ایک اوپری سی بیگانگی ٹپکتی ہے مگر بھیا میں چھپی اپنائیت ایک بھائی ہی محسوس کر سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ایک لطیفے کو میری اس گڑیا رانی(بہن المقدس ) نے غیر متفق ریٹ کردیا، میرا تو ہنس ہنس کہ حلیہ الٹا ہو گیا، کہ لطیفہ بھی کوئی غیر متفق ہونے کی چیز ہے، اور وہ لطیفہ بھی ادبی لطائف کے زمرے میں پیش ہوا تھا، تھا بھی جوشؔ صاحب کا
2:۔ محمود احمدغزنوی :۔ ایک بار میں نے 12 ربیع الاول کی نیاز کے طور پر غالبؔ کے کچھ اردو نعتیہ اشعار پیش کیے ، محمود بھائی نے ایک شعر سنایا اسی سلسلے میں ، جس کو پڑھ کے مزا تو جو آیا آیا، رشک ہوا کہ یہ شعر میری نظر میں آنے سے کیسے بچ گیا، میں دل ہی دل میں ان کا معتقد ہو گیا، پھر کافی عرصہ بعد نکاح المتعہ کی بحث میں محمود بھائی کے انتہائی زبردست تبصرے نے میری عقیدت کو مزید جلا بخشی کہ یہ بندہ بڑی سیدھی اور معیاری سوچ والا ہے، (شکر ہے میں اس عجیب سی بحث میں بولا نہیں، ورنہ 4 کی بجائے ریٹنگ شاید 25، 30 ہوتی)
پھر محمود غزنوی بھائی کے ایک تبصرے میں سیف الدین سیف کا ذکر آیا، میں مزید نہال ہو گیا، کہ یہ تو ہر لحاظ سے اپنی لائن کا بندہ ہےکیونکہ میرے پسندیدہ ترین شعرا میں استاد جی کے علاوہ، سیف الدین سیفؔ، جگرمرادآبادی، اسرار الحق مجازؔ، جون ایلیاؔ شامل ہیں، اور شاید پہلی بار کسی اور کے منہ سے سیفؔ صاحب کا نام سنا تھا، اس لیے میری اس کیفیت کو وہ پردیسی سمجھ سکتے ہیں، جنہیں دیارِ غیر میں کوئی پاکستانی مل جائے، میں مزید ان کا معتقد ہوتا گیا (معتقد کو کسی اور رنگ میں نہ لیا جائے، یہ کسی کے کمال کے اعتراف کا اظہار ہے) مگر ایک خالصتاً ادبی گفتگو میں میرے منہ سے شاہد آفریدی کیلئے کچھ الفاظ نکل گئے (وہ کچھ ایسے نا مناسب بھی نہیں تھے، بس میں نے اسے عظیم کھلاڑیوں کی فہرست میں ماننے سے انکار کیا تھا) جس کا خمیازہ مجھے دوسرے اور تیسرے غیر متفق ریٹ کی سورت میں بھگتنا پڑا
3:۔ وارث بھائی:۔ اردو ویب پر صرف میری ہی نہیں ہم 3 کزنز کی متفقہ پسندیدہ شخصیت، (ایک میں، دوسری کا وارث بھائی کو پتا ہے، اور تیسرا روزنامہ خبریں کا سب ایڈیٹر فرازبخاری) ان کی تصویر سے مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ یہ "بزرگی کی طرف گامزن" اور اس سے بڑھ کر شادی شدہ بھی ہو سکتے ہیں، وارث بھائی نے مجھے خوش آمدید کہا اور اس سے آگے ان سے جتنی بھی بات چیت ہوتی تو مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق میری ان سے محبت نما عقیدت بڑھتی گئی، اور میں "گرفتارِ وارث" ہوتا گیا،حتیٰ کہ میں نے اکثر خود کویہ سوچتے ہوئے بھی رنگے ہاتھوں پکڑا کہ "کیوں نہ چھوٹا غالبؔ والی آئی ڈی وارث بھائی کے حوالے کر دوں" میں حالانکہ ان کی عمر اور مقام کا لحاظ کرنا چاہتا ہوں مگر قسم ہے مرزا غالبؔ کی مجھے تکلیف ہوتی ہے، ایک دلخراش کاش ش ش ش ش ش ش ش ش ش ش سا نکلتا ہے کہ کاش میں ان کا کلاس فیلو، یا کم از کم ہم عمر ہی ہوتا، زیادہ نہیں تو ان کے دفتر کا چپڑاسی ہوتا، میں چاہ کر بھی خود کو ان سے بے تکلف ہونے سے نہیں روک پاتا، ایک بار میرے منہ سے فلم دبنگ کا سلمان خان والا تکیہ کلام "کمال کرتے ہو پانڈے جی" نکل گیا، اور بعد میں خجالت ہوئی اور وارث بھائی نے بھی شاید اس حد سے بڑھتی بے تکلفی کو محسوس کیا، میں نے ارادہ تو پکا کیا تھا کہ اب احتیاط کروں گا، مگر میں ایک اندر کا سچ بتا رہا ہوں کہ ان کی مسکراتی تصویر دیکھ کر وہی بے تکلفی امڈنے لگتی ہے جیسی اشفاق احمد صاحب قدرت اللہ شہاب سے برتا کرتے تھے(یہ قطعاً بناوٹی نہیں ہے)، اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ وارث بھائی نے ہنس بیتی میں میرے ایک سکول کے واقعے پر جب نا پسند کی مہر لگائی تو دو دن اردو ویب پر آنے کی ہمت نہیں ہوئی
4:۔ شمشاد ، میرا اردو ویب پر پہلا ٹاکرا انہی حضرت سے ہوا تھا، نام سے میں انہیں خاتون سمجھا، لیکن صد شکر کہ بعد میں معلوم ہو ہی گیا کہ بھی اپنے "پیٹی بھرا" ہیں ، یہ میرے غائبانہ ہواخواہ ہیں، اور میرے سب سے زیادہ تبصروں کو چپکے چپکے پسند کی ہر لگانے والے بھی یہی جناب ہیں، مگر نجانے اردو ویب پر کونسی ہوا چل رہی ہے کہ کل انہوں نے بھی ایک لطیفے پر نا پسند کی مہر لگا کر ریکارڈ تو توڑا ہی تھا میرا دل بھی توڑ ڈالا (میں نے تو سنبھال کے رکھا تھا کہ یہ فریضہ کوئی بی بی انجام دے گی، مگرہائے ری قسمت)
بھائیو، اب اس چھوٹے سے حقیر فقیر پر تقصیر ہیچمداں ، بندہ ناداں کی عرض یہ ہے کہ آپ کو جو جو بات پسند نہیں آئی میں بلاعذر اسے ڈیلیٹ کرنے یا اس میں تبدیلی کرنے کو تیار ہوں، لیکن کم از کم آپ بتاتے تو سہی کہ اس میں یہ نقص ہے ، حالانکہ میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرتا ہوں کہ میری کسی بات سے کسی کا دل نہ دکھے، اور آپ بھی میری کسی بات کا کوئی ذومعنی سا مطلب لینےسے پہلے یہ سوچ لیا کیجئے کہ یہ بڑا نہ سہی چھوٹا سہی ، ہے تو حیوانِ ظریف، میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ میں کسی پر طنز یا اس کی ہتک کے خیال سےکچھ نہیں لکھتا ، بات کا مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ کوئی اس کو پڑھ کے مسکرا دے، تاکہ میں قیامت کے دن قبلہ بڑے غالبؔ کو منہ دکھانے اور ان سے شاگردی کی سند لینے قابل ہو سکوں، میں جان بوجھ کر بے تکلف نہیں ہوتا ، یقین کیجئے یہ قدرتی اور نام کا اثر ہے
میں آپ سب سے معذرت کرتا ہوں ، اور معافی مانگتا ہوں دونوں کان پکڑ کر ، امید ہے میرے عذر کو قابل قبول سمجھ لیا جائے گا۔ اور جن لوگوں کا انجانے میں میری کسی بات سے دل دکھا تو میں ان سے بھی معذرت چاہتا ہوں
سب سے آخر میں مغزل بھائی کا شکریہ جنہوں نے مجھے اس بات کی طرف توجہ دلائی
(مغزل بھائی آپ تو میرے ہی پیٹے کے ہو، کم از کم آپ تو بے تکلفی کی اجازت دے دو، سچ تو یہ ہے آپ بھی ان میں سے ایک ہو جن سے بے تکلف ہوتے ہوئے خوف سا آتا ہے)
ایک عاجزانہ التجا، تمام اراکینِ اردو محفل سے:۔
ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن٭٭ ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کے عذرِ مستی ایک دن
حماقت ہائے چھوٹے کو بھی پیارو غنیمت جانئیے٭٭ بے صدا ہو جائے گا سازِ ہستی ایک دن
اپنا بیان حسنِ طبیعت نہیں مجھے
سو پشت سے ہے طریقہ آبا پیری فقیری
کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے
آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
ہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
کیا کم ہے یہ کہ اردو ویب کا رکن ہوں
مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
اعجاز ، و شمشاد پہ استہزا کا ہو مجھے خیال
یہ تاب، یہ مجال، یہ طاقت نہیں مجھے
جامِ جہاں نما ہے کمپیوٹر آف ابنِ سعید
سو گند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
میں کہاں اور محمد وارث کہاں ، اس سے مدعا
جز انبساط ِ خاطرِحضرت نہیں مجھے
لطیفہ لکھا گیا ، ہنسنے ہنسانے کیلئے
خوامخواہ چولیں مارنے کی عادت نہیں مجھے
تبصرہ میں آ پڑی تھی سخن گسترانہ بات
مقصود اس سے قطعاً ، حجت نہیں مجھے
روئے سخن کسی کی طرف ہو تو اللہ کی پناہ
سودا نہیں ، جنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے
شکل بری سہی ، پہ طبیعت بری نہیں
قسم مرزا غالبؔ کی کہ شکایت نہیں مجھے
احمق ہے اپنی باتوں سے، مگر چھوٹے کا خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ خوشامد کی عادت نہیں مجھے
سجنو تے ساتھیو!!!
میں 3 دن سے گھبرایا ہوا سا ہوں ، اور ایک شعر کا ورد کرتے کرتے سر دھن رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ :۔ یا رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے٭٭ لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرر نہیں ہوں میں
میرے نام کی جگہ چھوٹا غالبؔ ایسے ہی نہیں لکھ دیا گیا، بلکہ اس نام کا حقدار قرار پائے جانے کیلئے میں نے ارتقا کا ایک لمبا سفر (مجھ جیسے آلسی کیلئے تو یہ بھی لمبا ہی ہے)طے کرنا پڑا، بہت کچھ ترک کرنا پڑا اور بہت کچھ اپنانا پڑا،بس یوں سمجھ لیں بہت کچھ گزرا ہے اس قطرے پہ گہر ہونے تک، کچھ تو قدرتی تھا، کچھ نقالی سے اور بہت کچھ مجھ پر نام کا اثر بھی ہوا۔ لیکن شکر کہ "میں کامیاب ہوگیا"(بقول امانت چن)
ویسے تو فولاد ہے مومن مگر ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم، ویسے تو میں ڈھٹائی میں کسی کو اپنا مدمقابل نہیں مانتا مگر میرے اردو ویب کے اعمال نامے میں نیگٹو ریٹنگ کے ضمن میں لکھا 4 کا ہندسہ مجھ پر گراں ہے
1:۔ مقدس :۔ پیاری سی ہی ہی ہی کرتی بہنا، جب میں نیا نیا اردو ویب پر آیا تھا تو مجھے ویلکم کرنے والوں میں یہ "حور بھی تھی" ویسے تو میں جگ بھائی اور جگ ماموں مشہور ہوں اس لیے میرے لیے بھائی کہلایا جانا کچھ نیا نہ تھا ، مگر مقدس نے جس طرح مجھے بھیا کہہ کر ویلکم کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا، اور کبھی بھولے گا بھی نہیں، لفظ بھائی سے ایک اوپری سی بیگانگی ٹپکتی ہے مگر بھیا میں چھپی اپنائیت ایک بھائی ہی محسوس کر سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ایک لطیفے کو میری اس گڑیا رانی(بہن المقدس ) نے غیر متفق ریٹ کردیا، میرا تو ہنس ہنس کہ حلیہ الٹا ہو گیا، کہ لطیفہ بھی کوئی غیر متفق ہونے کی چیز ہے، اور وہ لطیفہ بھی ادبی لطائف کے زمرے میں پیش ہوا تھا، تھا بھی جوشؔ صاحب کا
2:۔ محمود احمدغزنوی :۔ ایک بار میں نے 12 ربیع الاول کی نیاز کے طور پر غالبؔ کے کچھ اردو نعتیہ اشعار پیش کیے ، محمود بھائی نے ایک شعر سنایا اسی سلسلے میں ، جس کو پڑھ کے مزا تو جو آیا آیا، رشک ہوا کہ یہ شعر میری نظر میں آنے سے کیسے بچ گیا، میں دل ہی دل میں ان کا معتقد ہو گیا، پھر کافی عرصہ بعد نکاح المتعہ کی بحث میں محمود بھائی کے انتہائی زبردست تبصرے نے میری عقیدت کو مزید جلا بخشی کہ یہ بندہ بڑی سیدھی اور معیاری سوچ والا ہے، (شکر ہے میں اس عجیب سی بحث میں بولا نہیں، ورنہ 4 کی بجائے ریٹنگ شاید 25، 30 ہوتی)
پھر محمود غزنوی بھائی کے ایک تبصرے میں سیف الدین سیف کا ذکر آیا، میں مزید نہال ہو گیا، کہ یہ تو ہر لحاظ سے اپنی لائن کا بندہ ہےکیونکہ میرے پسندیدہ ترین شعرا میں استاد جی کے علاوہ، سیف الدین سیفؔ، جگرمرادآبادی، اسرار الحق مجازؔ، جون ایلیاؔ شامل ہیں، اور شاید پہلی بار کسی اور کے منہ سے سیفؔ صاحب کا نام سنا تھا، اس لیے میری اس کیفیت کو وہ پردیسی سمجھ سکتے ہیں، جنہیں دیارِ غیر میں کوئی پاکستانی مل جائے، میں مزید ان کا معتقد ہوتا گیا (معتقد کو کسی اور رنگ میں نہ لیا جائے، یہ کسی کے کمال کے اعتراف کا اظہار ہے) مگر ایک خالصتاً ادبی گفتگو میں میرے منہ سے شاہد آفریدی کیلئے کچھ الفاظ نکل گئے (وہ کچھ ایسے نا مناسب بھی نہیں تھے، بس میں نے اسے عظیم کھلاڑیوں کی فہرست میں ماننے سے انکار کیا تھا) جس کا خمیازہ مجھے دوسرے اور تیسرے غیر متفق ریٹ کی سورت میں بھگتنا پڑا
3:۔ وارث بھائی:۔ اردو ویب پر صرف میری ہی نہیں ہم 3 کزنز کی متفقہ پسندیدہ شخصیت، (ایک میں، دوسری کا وارث بھائی کو پتا ہے، اور تیسرا روزنامہ خبریں کا سب ایڈیٹر فرازبخاری) ان کی تصویر سے مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ یہ "بزرگی کی طرف گامزن" اور اس سے بڑھ کر شادی شدہ بھی ہو سکتے ہیں، وارث بھائی نے مجھے خوش آمدید کہا اور اس سے آگے ان سے جتنی بھی بات چیت ہوتی تو مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق میری ان سے محبت نما عقیدت بڑھتی گئی، اور میں "گرفتارِ وارث" ہوتا گیا،حتیٰ کہ میں نے اکثر خود کویہ سوچتے ہوئے بھی رنگے ہاتھوں پکڑا کہ "کیوں نہ چھوٹا غالبؔ والی آئی ڈی وارث بھائی کے حوالے کر دوں" میں حالانکہ ان کی عمر اور مقام کا لحاظ کرنا چاہتا ہوں مگر قسم ہے مرزا غالبؔ کی مجھے تکلیف ہوتی ہے، ایک دلخراش کاش ش ش ش ش ش ش ش ش ش ش سا نکلتا ہے کہ کاش میں ان کا کلاس فیلو، یا کم از کم ہم عمر ہی ہوتا، زیادہ نہیں تو ان کے دفتر کا چپڑاسی ہوتا، میں چاہ کر بھی خود کو ان سے بے تکلف ہونے سے نہیں روک پاتا، ایک بار میرے منہ سے فلم دبنگ کا سلمان خان والا تکیہ کلام "کمال کرتے ہو پانڈے جی" نکل گیا، اور بعد میں خجالت ہوئی اور وارث بھائی نے بھی شاید اس حد سے بڑھتی بے تکلفی کو محسوس کیا، میں نے ارادہ تو پکا کیا تھا کہ اب احتیاط کروں گا، مگر میں ایک اندر کا سچ بتا رہا ہوں کہ ان کی مسکراتی تصویر دیکھ کر وہی بے تکلفی امڈنے لگتی ہے جیسی اشفاق احمد صاحب قدرت اللہ شہاب سے برتا کرتے تھے(یہ قطعاً بناوٹی نہیں ہے)، اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ وارث بھائی نے ہنس بیتی میں میرے ایک سکول کے واقعے پر جب نا پسند کی مہر لگائی تو دو دن اردو ویب پر آنے کی ہمت نہیں ہوئی
4:۔ شمشاد ، میرا اردو ویب پر پہلا ٹاکرا انہی حضرت سے ہوا تھا، نام سے میں انہیں خاتون سمجھا، لیکن صد شکر کہ بعد میں معلوم ہو ہی گیا کہ بھی اپنے "پیٹی بھرا" ہیں ، یہ میرے غائبانہ ہواخواہ ہیں، اور میرے سب سے زیادہ تبصروں کو چپکے چپکے پسند کی ہر لگانے والے بھی یہی جناب ہیں، مگر نجانے اردو ویب پر کونسی ہوا چل رہی ہے کہ کل انہوں نے بھی ایک لطیفے پر نا پسند کی مہر لگا کر ریکارڈ تو توڑا ہی تھا میرا دل بھی توڑ ڈالا (میں نے تو سنبھال کے رکھا تھا کہ یہ فریضہ کوئی بی بی انجام دے گی، مگرہائے ری قسمت)
بھائیو، اب اس چھوٹے سے حقیر فقیر پر تقصیر ہیچمداں ، بندہ ناداں کی عرض یہ ہے کہ آپ کو جو جو بات پسند نہیں آئی میں بلاعذر اسے ڈیلیٹ کرنے یا اس میں تبدیلی کرنے کو تیار ہوں، لیکن کم از کم آپ بتاتے تو سہی کہ اس میں یہ نقص ہے ، حالانکہ میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرتا ہوں کہ میری کسی بات سے کسی کا دل نہ دکھے، اور آپ بھی میری کسی بات کا کوئی ذومعنی سا مطلب لینےسے پہلے یہ سوچ لیا کیجئے کہ یہ بڑا نہ سہی چھوٹا سہی ، ہے تو حیوانِ ظریف، میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ میں کسی پر طنز یا اس کی ہتک کے خیال سےکچھ نہیں لکھتا ، بات کا مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ کوئی اس کو پڑھ کے مسکرا دے، تاکہ میں قیامت کے دن قبلہ بڑے غالبؔ کو منہ دکھانے اور ان سے شاگردی کی سند لینے قابل ہو سکوں، میں جان بوجھ کر بے تکلف نہیں ہوتا ، یقین کیجئے یہ قدرتی اور نام کا اثر ہے
میں آپ سب سے معذرت کرتا ہوں ، اور معافی مانگتا ہوں دونوں کان پکڑ کر ، امید ہے میرے عذر کو قابل قبول سمجھ لیا جائے گا۔ اور جن لوگوں کا انجانے میں میری کسی بات سے دل دکھا تو میں ان سے بھی معذرت چاہتا ہوں
سب سے آخر میں مغزل بھائی کا شکریہ جنہوں نے مجھے اس بات کی طرف توجہ دلائی
(مغزل بھائی آپ تو میرے ہی پیٹے کے ہو، کم از کم آپ تو بے تکلفی کی اجازت دے دو، سچ تو یہ ہے آپ بھی ان میں سے ایک ہو جن سے بے تکلف ہوتے ہوئے خوف سا آتا ہے)
ایک عاجزانہ التجا، تمام اراکینِ اردو محفل سے:۔
ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن٭٭ ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کے عذرِ مستی ایک دن
حماقت ہائے چھوٹے کو بھی پیارو غنیمت جانئیے٭٭ بے صدا ہو جائے گا سازِ ہستی ایک دن