استادِ محترم کی اصلاح اور مشوروں کے بعد یہ تک بندیاں اس قابل ہوئیں کہ احباب کی خدمت میں پیش کی جا سکیں۔امید ہے کہ پسند آئیں گی۔
صبح سے شام تلک شب سے سحر ہونے تک
سویا رہتا ہوں میں اب، دردِ کمر ہونے تک
شعر وہ پڑھتا نہیں، بات میں کر سکتا نہیں
"دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک"
"ہلکے پھلکے سے...