نتائج تلاش

  1. عاطف ملک

    پیروڈی: نہ قرطبہ میں نہ وہ کاشغر میں رہتا ہے

    نہ قرطبہ میں نہ وہ کاشغر میں رہتا ہے ہمارا سالا ہمارے ہی گھر میں رہتا ہے کچھ ایسا تاؤ ہمارے جگر میں رہتا ہے وہ سامنے ہو اگر، درد سر میں رہتا ہے زمانہ طنز سے کہتا ہے زن مرید جسے دعا میں ساس کی، قلبِ سسر میں رہتا ہے میں معترف ہوں تری اس دریدہ دہنی کا کہ جس کے زور پہ تُو ہر خبر میں رہتا ہے عجیب...
  2. عاطف ملک

    دن ہو چکا اگر تو کیا، بانگِ درا سنائے کیوں

    دن ہو چکا اگر تو کیا، بانگِ درا سنائے کیوں؟ لیٹے ہیں اپنے بیڈ پہ ہم کوئی ہمیں جگائے کیوں؟ گر تو نہیں ہے کاہلی، تو یہ بتا اے چلبلی سردی میں میرے ذہن پر چھاتے ہیں تیرے سائے کیوں سر پہ سوار ہو گئی اب تو سٹَپنِی بھی تری تُو نہ اگر ہو تو کوئی لِفْٹ اسے کرائے کیوں اک فیمنسٹ نے عجب ہم سے سوال کر لیا...
  3. عاطف ملک

    اخیرِ شب جو میں دستِ دعا اٹھاؤں گا

    اخیرِ شب جو میں دستِ دعا اٹھاؤں گا لبوں پہ صرف تری آرزو ہی لاؤں گا خدا کی وسعتِ رحمت سے لو لگاؤں گا میں پھر سے بابِ اجابت کو کھٹکھٹاؤں گا ہو جس میں میرے مقابل وہ دشمنِ ایماں میں جان بوجھ کے وہ جنگ ہار جاؤں گا بلاجواز وہ پھر ہو گیا خفا مجھ سے کہ جانتا ہے وہ، میں ہی اسے مناؤں گا اسی کے نام سے...
  4. عاطف ملک

    قیس و فرہاد سے، صحراؤں بیابانوں سے

    قیس و فرہاد سے، صحراؤں بیابانوں سے توڑ آیا ہوں سبھی رابطے دیوانوں سے ایسا آسودۂِ دل ہے ترے احسانوں سے تیرا سائل کبھی ملتا نہیں سلطانوں سے آگے بڑھ بڑھ کے لگاتا ہوں مصیبت کو گلے میں وہ ساحل ہوں کہ ٹکراتا ہوں طوفانوں سے ہر گھڑی جان ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں کس میں ہمت ہے کہ الجھے ترے پروانوں سے...
  5. عاطف ملک

    پیروڈی: "ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں"

    (علامہ اقبالؔ کی روح سے معذرت) ہمارا تذکرہ ہوتا ہی رہتا ہے حسینوں میں ہزاروں مہ جمالوں، سینکڑوں زہرہ جبینوں میں میں کیسے چھوڑ دوں افشاں کو، عظمیٰ کو، عنیزہ کو مجھے تو اپنی رخشندہ نظر آتی ہے تینوں میں اسی نیت سے کہہ دیتا ہوں اکثر آپ کو آنٹی "ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں" نہ جانے اس کو...
  6. عاطف ملک

    ملی ہے "ڈاؤری" میں جب سے مجھ کو کار می رقصم

    ملی ہے "ڈاؤری" میں جب سے مجھ کو کار می رقصم "بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم" کروں گا چھوڑ کر جاب اپنا کاروبار می رقصم ترے ڈیڈی کے احسانوں کے زیرِ بار می رقصم تمنا ایک کی تھی مل گئی ہیں چار می رقصم سبھی کہتی ہیں وہ ہیں عقد پر تیار می رقصم اگرچہ خودسری مشہور ہے میری جہاں بھر میں مگر بیگم...
  7. عاطف ملک

    جس پل سے ترا عشق ہمیں دان ہوا ہے

    چند تک بندیاں: جس پل سے ترا عشق ہمیں دان ہوا ہے پہلے جو کٹھن تھا وہی آسان ہوا ہے الفت کا بھی کیا خوب ہی احسان ہوا ہے اب نام تمہارا مری پہچان ہوا ہے یہ بھول گیا فرطِ مسرت میں دھڑکنا اس دل میں ترا درد جو مہمان ہوا ہے جاتی ہے تو جاں جائے، نہ جائے گا یہ دل سے یہ عشق ہمیں صورتِ ایمان ہوا ہے...
  8. عاطف ملک

    پیروڈی: "ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا"

    (غالبؔ کی روح سے معذرت) "ذکر اس پری وَش کا اور پھر بیاں اپنا" لے کے آ گیا رائفل ذوالجلال خاں اپنا لکھا تھا مقدر میں اور امتحاں اپنا نکلا اس کا منگیتر، تھا جو رازداں اپنا ہم کہیں کا دانہ ہوں، اور نہ کوئی بھُٹا ہوں ہم سے دور ہی رکھو مطلبی زباں اپنا منزل اک بلندی پر اور ہم بنا لیتے بیسمنٹ میں...
  9. عاطف ملک

    ایک کاوش: شیون و فغاں لکھا اہلیت کے خانے میں

    محترم عامر امیر کی مشہور زمین میں ایک کوشش قابلِ قدر اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔شاید کوئی شعر آپ کو پسند آ جائے۔رائے ضرور دیجیے گا۔ شیون و فغاں لکھا اہلیت کے خانے میں اور داد خواہی کا شوق، لَت کے خانے میں دل کا گوشوارہ جب ہم نے کھول کر دیکھا تیرا غم لکھا پایا منفعت کے خانے میں...
  10. عاطف ملک

    غزل: خوب سمجھا ہوں میں دنیا کی حقیقت لوگو

    ایک پرانی غزل محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔ خوب سمجھا ہوں میں دنیا کی حقیقت لوگو! تب تلک چاہ ہے، جب تک ہے ضرورت، لوگو! خود پرستی کے فسوں ساز سمندر میں کہیں مر گیا ڈوب کے احساسِ مروت لوگو! نہ رہا دور کہ انمول تھے اخلاص و وفا اب تو لگتی ہے ہر اک چیز کی قیمت، لوگو! "جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے...
  11. عاطف ملک

    مضطر و بے کس و لاچار رہا کرتے ہیں

    ایک اور کاوش محترم اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔ مضطر و بے کس و لاچار رہا کرتے ہیں تیری چوکھٹ سے جو بے زار رہا کرتے ہیں اک نظر لطف کی، اے میرے مسیحا اس سمت اس طرف آپ کے بیمار رہا کرتے ہیں وہ تو معصوم ہی رہتے ہیں ستم کر کے بھی ہم گلہ کر کے گنہ گار...
  12. عاطف ملک

    غزل: پلٹ کر کی خبر گیری، نہ رکھا رابطہ کوئی

    ایک اور کاوش محترم اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔ پلٹ کر کی خبر گیری، نہ رکھا رابطہ کوئی کبھی اپنوں کو بھی یوں چھوڑ کر جاتا ہے کیا کوئی خدا شاہد ہے، تھا، ہے، اور نہ ہو گا دوسرا کوئی مرے دل میں سمائے بھی تو کیوں تیرے سوا کوئی ہمارے واسطے تو بس وہی اک رہنما ٹھہرا دکھائے تجھ کو پانے...
  13. عاطف ملک

    غزل: ڈھونگ اور منافقت کی روایات پر ہنسوں

    ایک اور کاوش احباب کی خدمت میں پیش: ڈھونگ اور منافقت کی روایات پر ہنسوں عہدِ رواں کی جملہ خرافات پر ہنسوں مفلس پدر کے زیرک و پر عزم نور چشم تیرا مذاق اڑاؤں، تری ذات پر ہنسوں تُو سوچتا ہے سانچ کو آتی نہیں ہے آنچ میں سوچتا ہوں تیرے خیالات پر ہنسوں میں خوگرِ وفا ہوں تو وہ پیکرِ جفا الفت کی اس...
  14. عاطف ملک

    غزل: لاؤں میں ایسے لفظ کہاں سے ترے لیے

    چند اشعار معزز اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہیں۔شاید کوئی شعر آپ کو پسند آ جائے۔ نکلے نہ ہوں کسی بھی زباں سے ترے لیے لاؤں میں ایسے لفظ کہاں سے ترے لیے جذبات جن کو دل میں چھپائے ہوئے تھا میں نکھرے ہیں میرے حسنِ بیاں سے، ترے لیے اک بار میرے دل میں ذرا جھانک کر تو دیکھ چاہت ہے بڑھ کے...
  15. عاطف ملک

    پیروڈی: صبح سے شام تلک، شب سے سحر ہونے تک

    استادِ محترم کی اصلاح اور مشوروں کے بعد یہ تک بندیاں اس قابل ہوئیں کہ احباب کی خدمت میں پیش کی جا سکیں۔امید ہے کہ پسند آئیں گی۔ صبح سے شام تلک شب سے سحر ہونے تک سویا رہتا ہوں میں اب، دردِ کمر ہونے تک شعر وہ پڑھتا نہیں، بات میں کر سکتا نہیں "دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک" "ہلکے پھلکے سے...
  16. عاطف ملک

    غزل: تُو نے دیکھا ہی نہیں مڑ کر کبھی جانے کے بعد

    ایک اور کاوش محترم اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔ عشق کی حدت سے میرے دل کو گرمانے کے بعد تُو نے دیکھا ہی نہیں مڑ کر کبھی جانے کے بعد جو ہوا ہرگز نہیں اس میں کوئی میرا قصور وہ یہی کہتا ہے مجھ پر ہر ستم ڈھانے کے بعد تنگ آ کر توڑ ڈالا آج پھر اک آئنہ اپنے چہرے میں وہی صورت نظر آنے کے...
  17. عاطف ملک

    کسی نے آج یہ پوچھا ہے مجھ سے، میرا کیا ہے وہ

    چند تک بندیاں محفلین کی خدمت میں۔ بشر ہے یا مَلَک ہے، داس ہے یا دیوتا ہے وہ مجھے اس سے غرض کوئی نہیں ہے، گر مِرا ہے وہ حسیں، دلکش، پری وش، آئینہ رو، دل رُبا ہے وہ مری چاہت، تمنا، آرزو، الفت، رضا ہے وہ مِری سانسوں کی سرگم، دل کی دھڑکن کی صدا ہے وہ مری خاموشیوں میں گیت بن کر گونجتا ہے وہ مری...
  18. عاطف ملک

    غزل: میں چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی ٹھکانہ ملے

    چند تُک بندیاں اساتذہ اور محفلین کی خدمت میں پیش ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی ٹھکانہ ملے کسی کو ڈھونڈنے پر بھی مرا پتا نہ ملے تلاش اب کے ہے ایسے جہان کی کہ جہاں بس ایک تُو ہو، مجھے کوئی دوسرا نہ ملے خوشی تو خیر ہماری تجھی سے تھی منسوب ہمیں تو غم بھی ترے غم کے ماسوا نہ ملے تمہارے شہر میں...
  19. عاطف ملک

    اک حسن کی مورت کا اک دل ہے صنم خانہ

    محفل میں آنے جانے کے بہانے کے طور پر ایک کاوش محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔شاید ایک آدھ شعر کسی کو پسند آجائے۔بہتری کیلیے کوئی صلاح ہو تو ضرور دیجیے گا۔ اک حسن کی مورت کا اک دل ہے صنم خانہ اتنی سی کہانی ہے اتنا سا ہے افسانہ سب ہی سے تعلق ہے میرا تو رقیبانہ ہر ایک ترا عاشق ہر اک ترا دیوانہ ان مست...
  20. عاطف ملک

    ایک کاوش: دل مرا اس سے اٹھ گیا ہوتا

    ویسے تو آج کل مصروفیت کے باعث شعر کہنا کارِ دشوار ہے لیکن بقول مظفرؔ وارثی "کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن"،سو تقریباً زبردستی کی ایک کاوش پیش ہے۔احباب کی رائے کا منتظر۔ دل مرا اس سے اٹھ گیا ہوتا کاش وہ شخص بے وفا ہوتا لمحہ لمحہ خیال آتا ہے یوں نہ ہوتا اگر تو کیا ہوتا اس کے غم سے...
Top