نتائج تلاش

  1. عاطف ملک

    مرد کیوں نہیں روتا

    مرد کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز اس کی "انا" اور "خودداری" ہوتی ہے.وہ ہر بات پر سمجھوتا کر سکتا ہے لیکن اپنی "انا" پر سمجھوتا نہیں کرتا،حتیٰ کہ اس کی خاطر جان گنوانے سے بھی دریغ نہیں کرتا. اور پتا ہے یہ محبت کیا کرتی ہے؟ محبت سب سے پہلا وار ہی انسان کی انا پہ کرتی ہے. محبت کرنے والے اپنی ساری...
  2. عاطف ملک

    برائے اصلاح

    اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں یہ نمکین سی کوشش پیش کر رہا ہوں۔ اب کے اصلاح اور تنقید کے ساتھ سرزنش کی بھی گزارش ہے. آج تم کو بھی سناتا ہوں وہ پیارے، سارے اس نے مجھ کو جو دیے پیار کے لارے، سارے فرطِ جذبات میں کہہ بیٹھا اسے ماہ جبیں اس نے پھر دن میں دکھائے مجھے تارے سارے ہوئی تنہا تو مجھے گھر...
  3. عاطف ملک

    مزاحیہ غزل برائے اصلاح

    محترم کاشف اسرار احمد صاحب کے مشورے پر یہ مزاحیہ غزل "اصلاحِ سخن" کے سیکشن میں اساتذہ کرام اور محفلین کے پیشِ نظر ہے! تنقید و اصلاح کی درخواست ہے! حسنِ جاناں میں جو انجانا سحر لگتا ہے اس میں سب خوبیِ میک اپ کا اثر لگتا ہے اس کا چہرہ ہے ذرا گول "ڈبل روٹی" سا جانے کیوں پھر بھی مجھے "رشکِ قمر"...
  4. عاطف ملک

    ایک کوشش

    برائے تنقید و اصلاح پیشِ نظر ہے! حسنِ جاناں میں جو انجانا سحر لگتا ہے کچھ نہ کچھ خوبیِ میک اپ کا اثر لگتا ہے اس کا چہرہ ہے ذرا گول "ڈبل روٹی" سا جانے کیوں پھر بھی مجھے "رشکِ قمر" لگتا ہے سنگِ مرمر سا بدن، اس پہ سرو قد ایسا در سے داخل ہو تو دہلیز میں سر لگتا ہے یہ بھی حسرت ہے کہ سینے سے لگاؤں...
  5. عاطف ملک

    غزل برائے اصلاح: میرے گھر میں ہیں بہت آگ لگانے والے

    اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں تنقید اور اصلاح کی گزارش کے ساتھ پیشِ نظر ہے. مجھ کو لوٹا دو وہی دور پرانے والے کچی مٹی کے محلات بنانے والے میرا پتوں پہ خزاں کی وہ مثالیں دینا وہ تِرے وعدے کبھی دور نہ جانے والے روک رکھے ہیں کئی شعر اسی الجھن میں جان جائیں نہ تِرا نام زمانے والے مدتوں بعد...
  6. عاطف ملک

    برائے اصلاح

    جناب ادریس بابر کی زمین میں طبع آزمائی کی اپنی سی کوشش کی ہے اساتذہ کرام کی خدمت میں پوسٹ مارٹم کے لیے پیش ہے زیست اپنی کا ہے اتنا سا خلاصہ مِرے دوست چاہتیں بانٹ کے بھی چین نہ پایا مِرے دوست سوکھے تنکوں کی طرح دل کو جلا ڈالے جو کیا کبھی تم نے بھی وہ روگ ہے پالا مِرے دوست لُٹ گئی چشمِ زدن میں...
  7. عاطف ملک

    مزاحیہ غزل کی ایک کوشش پیشِ نظر ہے

    مزاحیہ غزل لکھنے کی اپنی سی کوشش کی ہے‫‫‫.... امید ہے سب اس کو پسندیدگی کی سند عطا کر کے خوش ذوق ہونے کا ثبوت دیں گے... :) دیکھیے جی عاشقوں کو ایسے تڑپاتے نہیں طالبِ دیدار کو کالوں پہ ٹرخاتے نہیں چار سالوں سے جہاں ہم آپ کو تاڑا کیے اب بھی ہم ہوتے ہیں واں پر آپ کو پاتے نہیں پہلے دل میں موجزن...
  8. عاطف ملک

    برائے اصلاح: ایک غزل

    اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست کے ساتھ پیشِ نظر ہے! فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن عمر بھر کے درد سے دوچار ہونے کے لیے اک نظر کافی ہے ان سے پیار ہونے کی لیے صحبتِ یاراں میں گزرا ایک پل درکار تھا میرے دل کو،مجھ سے ہی بیزار ہونے کے لیے تم کو کیا معلوم کیسی سختیاں سہتا رہا سوکھا سہما پیڑ، سایہ...
  9. عاطف ملک

    اشعار برائے اصلاح

    محترم الف عین محترم راحیل فاروق محترم کاشف اسرار احمد محترم محمد ریحان قریشی اور دیگر اساتذہ سے اصلاح کی درخواست کے ساتھ پیشِ نظر ہیں تنگ آ گیا ہوں روز کی اس بے کلی سے بھی سوچا ہے میں نے اب نہ ملوں گا کسی سے بھی وہ چاہتا ہے دشمنی بھی درمیاں نہ ہو بنتی نہیں ہے اس کی مری دوستی سے بھی ناراض؟ میں؟...
  10. عاطف ملک

    ان اشعار پر اساتذہ کی رائے درکار ہے

    بیٹھے بیٹھے چند اشعار لکھے ہیں.اساتذہ کرام کی خدمت میں پیش ہیں.اصلاح کی درخواست کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے رہنمائی درکار ہے کہ یہ اشعار کس صنف کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں؟ قبلہ الف عین سے ایک نظر کی special request کے ساتھ جب سے حصولِ زر ہے مِرا مقصدِ حیات اس دن سے میرے مال میں برکت نہیں رہی خود...
  11. عاطف ملک

    برائے اصلاح: ندی میں چاند اترتا ہے، تو میں مغموم ہوتا ہوں

    ایک غلطی سی سرزد ہوئی ہے! اساتذہ کرام کی خدمت میں پوسٹ مارٹم کے لیے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں‫‫‫‫‫‫‫‫‫‫‫ فلک پر راج کرتا ہے، تو میں مغموم ہوتا ہوں ندی میں چاند اترتا ہے، تو میں مغموم ہوتا ہوں کسی کو دیکھ کر، سن کر، کسی سے گفتگو کر کے کوئی چہرہ نکھرتا ہے، تو میں مغموم ہوتا ہوں کسی کے ساتھ...
  12. عاطف ملک

    برائےاصلاح

    عقیدت کا بیاں لکھی گئی ہے نگاہوں سے عیاں لکھی گئی ہے انا تیری بہا لے جائے پَل میں وہ بحرِ بے کراں لکھی گئی ہے مٹا پاؤ گے اِس کو کیسے دل سے محبت جاوِداں لکھی گئی ہے صحیفہ عشق کا وہ ہے کہ جِس میں ہماری داستاں لکھی گئی ہے مجھے سونپا گیا کارِ سماعت تِرے منہ میں زباں لکھی گئی ہے بہت دیکھی ہیں ہاتھوں...
  13. عاطف ملک

    برائے اصلاح: خمیرِ وفا سے اٹھایاگیا ہوں

    مری ابتدائی کاوشوں میں سے اک!چند تبدیلیوں کے ساتھ پیشِ نظر ہے.... زمانے کے ہاتھوں ستایا گیا ہوں تِرے در پہ پھر سے بلایا گیا ہوں مِری داستاں تو ازل سے ہے جاری ہر اک دور میں آزمایا گیا ہوں کسی کی خدائی کے بت توڑنے پر کبھی آگ میں پھینکوایا گیا ہوں ہوں بیچا گیا نیل کی وادیوں میں سرِ طور جلوہ دکھایا...
  14. عاطف ملک

    برائے اصلاح: وہ جفا پر پھر سے مائل ہو رہا ہے

    محترم اساتذہ کرام بالخصوص محترم الف عین اور راحیل فاروق بھائی سے اصلاح کی درخواست کے ساتھ پیشِ نظر ہے....:) شوق اب وحشت میں داخل ہو رہا ہے خستگی میں لطف حاصل ہو رہا ہے مسکرا کر اس نے مجھ سے بات کیا کی شہر سارا یوں ہی پاگل ہو رہا ہے اک قیامت ٹوٹنے والی ہے سر پر وہ جفا پر پھر سے مائل ہو رہا ہے...
  15. عاطف ملک

    برائے اصلاح: اب مجھے تم سے دور جانا ہے

    محترم استاد الف عین اور دیگر اساتذہ کے پیشِ نظر....... اب مجھے تم سے دور جانا ہے شاید اک عمر مل نہ پانا ہے وقتِ رخصت ہے میرے دل میں جنوں ایک اِک پل صدی بنانا ہے بیتے لمحوں نے , تیری یادوں نے جانے کب کب مجھے رُلانا ہے؟ تو مِری زندگی کا حاصل ہے تجھ کو اِک بار یہ بتانا ہے چومنا ہے تجھے نگاہوں سے...
  16. عاطف ملک

    برائے اصلاح

    خوشی کی آرزو میں زندگی بھر غم کمائے ہیں تِرا دل جیتنے نکلے تھے خود کو ہار آئے ہیں چرانا چاہتا تھا زندگی سے جس کی سارے غم اسی نے زندگی بھر خون کے آنسو رلائے ہیں میں شب گرداں ہوں اور پاتال سی تاریک یہ راہیں جہاں تم ہم سفر تھے راستے وہ یاد آئے ہیں ہر اک تحریر ہے میری ,فقط...
  17. عاطف ملک

    برائے اصلاح

    یونہی بیٹھے بیٹھے یہ سطور لکھ دیں. تمام اساتذہ کرام اور محفلین سے تنقید و اصلاح کی گزارش کے ساتھ پیشِ نظر ہے........ صرف اتنا سا تجھ سے ناتا ہے دل تِری ٹھوکروں پہ آتا ہے مانگتا ہوں دعا میں اس کی خوشی مجھ کو جو ہر گھڑی ستاتا ہے حالِ دل جب اسے سناتاہوں سن کے ظالم وہ مسکراتا ہے دل میں اس کےحوالے...
  18. عاطف ملک

    برائے اصلاح: تمہارے قرب کے لمحات اب اچھے نہیں لگتے

    استادِمحترم الف عین صاحب اور باقی اساتذہ سے اصلاح کی درخواست کے ساتھ....... تمہارے قرب کے لمحات اب اچھے نہیں لگتے رہی تم میں نہیں وہ بات اب اچھے نہیں لگتے چلوجو ساتھ تو باہم ذرا سا فاصلہ رکھنا کہ ہم ھاتھوں میں ڈالے ہاتھ اب اچھے نہیں لگتے وہ جن کی رَو میں بہہ کر تم کو سب کچھ سونپ بیٹھا تھا مجھے...
  19. عاطف ملک

    برائے اصلاح: زمانے سے کنارا کر لیا ہے

    زمانے سے کِنارا کر لیا ہے تِرا خودکو دوبارہ کرلیا ہے نہاں پردے میں تیرے راز تھا جو وہ خود پہ آشکارا کر لیا ہے ضیا تیری دِکھانا چاہتا تھا قمر کو استعارہ کر لیا ہے مصائب ہیں زمانے کے ہزاروں تجھے اپنا سہارا کر لیا ہے مِری قسمت کہ تو نے مجھ کو اپنا کہا جانا گوارا کر لیا ہے
  20. عاطف ملک

    غزل برائے اصلاح

    میری اولین کوشش پوسٹ مارٹم کے لیے پیش ہے۔ اِصلاح کی درخواست ہے۔ سربَسر آہُ فُغاں گِریہ و نالہ دِل کا اب کے جاتا ہی نہیں درد یہ پا لا دل کا آرزو ہائے صنم شِکوہِ صد رنج و الم دیکھ حیرا ن ہوں یہ طور نِرالا دِل کا دیکھ کر بزمِ رقیباں میں اُسے پھوٹ پڑا ایک مدت سے تھا جو زخم سنبھالا دل کا اُس کی ہر...
Top