نتائج تلاش

  1. زونی

    کبھی وہ آنکھ کبھی (کشور ناہید)

    کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے فقیہہِ شہر سفینہ بدست چلتا ھے وہ میری آنکھیں جنہیں تم نے طاق پر رکھا انہی میں منزلِ جاں کا سراغ ملتا ھے اب اگلے موڑ کی وحشت سے دل نہیں ہارو زوالِ شام سے منظر نیا نکلتا ھے مجھے سوال کی دہلیز پار کرنی ھے یہ دیکھنے کہ ارادہ کہاں بدلتا ھے شکستِ ساعتِ...
  2. زونی

    محسن نقوی ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی

    ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی اس رات دیر تک وہ رہا محوِ گفتگو مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی سنتا تھا میں بھی سب سے پرانی کہانیاں تازہ رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی...
  3. زونی

    داغ عذر آنے میں بھی ھے اور بلاتے بھی نہیں (داغ دہلوی)

    عُذر آنے میں بھی ھے اور بلاتے بھی نہیں باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں خوب پردہ ھے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں کیا کہا، پھر تو کہو، ہم نہیں سنتے تیری نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو...
  4. زونی

    امجد اسلام امجد مشورہ (امجد اسلام امجد)

    مشورہ لذیذ ہو تو حکایت دراز تر بھی کروں زوال کی ھے شکایت سو اس زمان میں ھے کون جو اس نعمت سے بہرہ مند نہیں دہانِ خشک سے تلخی ملے گی ، قند نہیں تو آؤ آج سے یہ رسمِ گفتگو چھوڑیں عنانِ وقت کو تھامیں خود اپنے ہاتھوں میں بہت نہیں تو ذرا سا ہی اس کا رخ موڑیں!
  5. زونی

    امجد اسلام امجد وہ ملال تو کوئی اور تھا

    وہ ملال تو کوئی اور تھا مرے چار سو جو کھلا رہا ،وہ جمال تو کوئی اور تھا مرے خواب جس میں الجھ گئے، وہ خیال تو کوئی اور تھا یہاں کس حساب کو جوڑتے مرے صبح و شام بکھر گئے! جو ازل کی صبح کیا گیا، وہ سوال تو کوئی اور تھا جسے تیرا جان کے رکھ لیا، وہ ملال تو کوئی اور تھا...
  6. زونی

    امجد اسلام امجد ناممکن (امجد اسلام امجد)

    ناممکن آنکھوں کو کیسے مل سکے خوابوں پہ اختیار قوسِ قزح کے رنگ کہیں ٹھہرتے نہیں منظر بدلتے جاتے ہیں نظروں کے ساتھ ساتھ جیسے کہ ایک دشت میں لاکھوں سراب ہوں جیسے کہ اک خیال کی شکلیں ہوں بے شمار! (امجد اسلام امجد)
  7. زونی

    نصرت فتح علی مائیں نی مائیں

    نصرت فتح علی کا ایک مشہور گانا ھے پنجابی " مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ برہا دی رڑک پوے" اگر کسی کو اس بارے میں علم ہو تو یہاں پوسٹ کر دیجئے ، شکریہ۔:)
  8. زونی

    امجد اسلام امجد یہ بستی (امجد اسلام امجد)

    زندگی بھی مہنگی ھے، موت بھی نہیں سستی یہ زمین بے سایہ گھر گئی خدا جانے کن عجب عذابوں میں بے وجود سایوں کا یہ جو کارخانہ ھے کن عجب سرابوں میں کس طرف روانہ ھے؟ نیستی ھے یا ہستی! زندگی بھی مہنگی ھے موت بھی نہیں سستی (امجد اسلام امجد)
  9. زونی

    امجد اسلام امجد یہ جو اب موڑ آیا ھے (امجد اسلام امجد)

    یہ جو اب موڑ آیا ھے یہاں رک کر کئی باتیں سمجھنے کی ضرورت ھے کہ یہ اس راستے کا ایک حصہ ہی نہیں، سارے سفر کا جانچنے کا ، دیکھنے کا ، بولنے کا ایک پیمانہ بھی ھے، یعنی یہ ایسا آئینہ ھے جس میں عکسِ حال و ماضی اور مستقبل بہ یک لمحہ نمایاں ہے یہ اس کا استعارہ ھے سنا ھے ریگِ صحرا کے سفر میں...
  10. زونی

    کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

    قاسمی صاحب کی بہت خوبصورت نعت ھے جو میں آپ لوگوں سے بھی شئیر کر رہی ہوں۔:) کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا اس کی دولت ھے فقط نقشِ کفِ پا تیرا تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب لوٹتی ہیں نور ہو جاتا ھے کچھ اور ہویدا تیرا کچھ نہیں سوجھتا جب پیاس کی شدت سے مجھے چھلک اٹھتا ھے...
  11. زونی

    احمد ندیم قاسمی انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا - احمد ندیم قاسمی

    انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا تو پجاری بقاء کا تھا اس رشتہء لطیف کے اسرار کیا کھلیں تو سامنے تھا اور تصور خدا کا تھا ٹوٹا تو کتنے آئینہ خانوں پہ زد پڑی اٹکا ہوا گلے میں جو پتھر صدا کا تھا چھپ چھپ...
  12. زونی

    یوسفی چارپائی اور کلچر

    ایک فرانسیسی مفکر کہتا ھے کہ " موسیقی میں مجھے جو بات پسند ھے وہ دراصل وہ حسین خواتین ہیں جو اپنی ننھی ننھی ہتھیلیوں پر ٹھوڑیاں رکھ کر اسے سنتی ہیں"۔ یہ قول میں نے اپنی بریت میں اسلئے نقل نہیں کیا کہ میں جو قوالی سے بیزار ہوں تو اسکی اصل وجہ وہ بزرگ ہیں جو محفل سماع کو رونق بخشتے ہیں اور نہ میرا...
  13. زونی

    بشیر بدر اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو (بشیر بدر)

    اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو ہم لوگ جب ملیں تو کوئی دوسرا بھی ہو تو جانتا نہیں مری چاہت عجیب ہے مجھ کو منا رہا ہے، کبھی خود خفا بھی ہو تو بے وفا نہیں ہے مگر بے وفائی کر اُس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو پت جھڑ کے ٹوٹتے ہوئے پتوں کے ساتھ ساتھ موسم کبھی تو بدلے گا ، یہ آسرا...
  14. زونی

    نوشی گیلانی خواب کے قیدی رہے تو (نوشی گیلانی)

    خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا جب چلے تو جنگلوں میں راستہ بنتا گیا تہمتیں تو خیر قسمت تھیں مگر اس ہجر میں پہلے آنکھیں بجھ گیئں اور اب چہرہ گیا ہم وہ محرومِ سفر ہیں دشتِ خواہش میں جنہیں اک حصارِ درو دیوار میں رکھا گیا بر ملا سچ کی جہاں تلقین کی جاتی رہی پھر وہاں جو لوگ...
  15. زونی

    فیض نوحہ (فیض احمد فیض)

    مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جانے ہوئے لے گئے ساتھ مری عمرِ گزشتہ کی کتاب اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں اس میں بچپن تھا مرا، اور مرا عہدِ شباب اس کے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے جاتے اپنے غم کا یہ دمکتا ہوا خوں رنگ گلاب کیا کروں بھائی ، یہ اعزاز میں کیونکر پہنوں مجھ سے لے...
  16. زونی

    فیض چند روز اور میری جان (فیض احمد فیض)

    چند روز اور میری جان چند روز اور مری جان، فقط چند ہی روز ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم اک ذرا اور ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رولیں اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے...
  17. زونی

    ناصر کاظمی سفرِ منزلِ شب یاد نہیں (ناصر کاظمی)

    سفرِ منزلِ شب یاد نہیں لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں وہ ستارہ تھی کہ شبنم تھی کہ پھول اک صورت تھی عجب یاد نہیں ایسا الجھا ہوں غمِ دنیا میں ایک بھی خوابِ طرب یاد نہیں بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار...
  18. زونی

    احمد ندیم قاسمی کس کو قاتل میں کہوں (احمد ندیم قاسمی)

    کس کو قاتل میں کہوں کس کو مسیحا سمجھوں سب یہاں دوست ہی بیٹھے ہیں کسے کیا سمجھوں وہ بھی کیا دن تھے کہ ہر وہم یقیں ہوتا تھا اب حقیقت نظر آئے تو اسے کیا سمجھوں دل جو ٹوٹا تو کئی ہاتھ دعا کو اٹّھے ایسے ماحول میں اب کس کو پرایا سمجھوں ظلم یہ ھے کہ ھے یکتا تیری بیگانہ روی...
  19. زونی

    فیض نثار میں تری گلیوں کے (فیض احمد فیض)

    نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جو کے لیے جو چند اہل جنوں تیرے نام...
  20. زونی

    سلیم کوثر محبت ڈائری ہرگز نہیں ھے - سلیم کوثر

    محبت ڈائری ہرگز نہیں ھے آبِ جو ھے جو دلوں کے درمیاں بہتی ھے خوشبو ھے کبھی پلکوں پہ لہرائے تو آنکھیں ہنسنے لگتی ہیں جو آنکھوں میں اتر جائے تو منظر اور پس منطر میں شمعیں جلتی ہیں کسی بھی رنگ کو چھو لے وہی دل کو گوارا ھے کسی مٹی میں گھل جائے وہی مٹی ستارہ ھے...
Top