نتائج تلاش

  1. م

    ناہر سنکھ کے خالق ۔ عبیداللہ بیگ۔ از : محمد حفیظ الرحمٰن

    ناہر سنگھ کے خالق ۔ عبیداللہ بیگ از : محمد حفیظ الرحمٰن عبیداللہ بیگ صاحب کو کون نہیں جانتا۔ وہ ٹی وی پر اپنے پروگرام کسوٹی کے لئے بے حد مشہور تھے۔ یہ پروگرام بہت مقبول ہوا تھا۔ افتخار عارف صاحب ان کے ساتھی ہوتے تھے اور قریش پور صاحب میزبان ہوا کرتے...
  2. م

    غزل : پانی ہمیشہ بہتا ہے ڈھلوان کی طرف : از : محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن پانی ہمیشہ بہتا ہے ڈھلوان کی طرف کوہِ بلند و بالا سے میدان کی طرف اِک موڑ پر کھڑا ہوں مگر مخمصے میں ہوں جاؤں میں شہر کو ، کہ بیابان کی طرف رکھیے ذرا تو مجلسی آداب کا خیال یوں ٹکٹکی نہ باندھیےمہمان کی طرف ممکن ہے لوٹ آئے گیا وقت ایک دن دیتا ہے دھیان کون اِس...
  3. م

    غزل : ملے سفر میں ہمیں لوگ جا بجا تنہا از: محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن ملے سفر میں ہمیں لوگ جا بجا تنہا رہِ حیات مقدر ہے کاٹنا تنہا کسی کی تنہا روی کا مذاق اڑاؤں کیوں کہ کاٹنا ہے مجھے بھی یہ راستا تنہا...
  4. م

    غزل : چاہت میں کیا دنیاداری، عشق میں کیسی مجبوری از: محسن بھوپالی

    غزل محسن بھوپالی چاہت میں کیا دنیاداری، عشق میں کیسی مجبوری لوگوں کا کیا سمجھانے دو اُن کی اپنی مجبوری میں نے دِل کی بات رکھی اور توُ نے دنیا والوں کی میری عرض بھی مجبوری تھی اُن کا حُکم بھی مجبوری روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو کچی مٹی تو مہکے...
  5. م

    غزل نما : صورتِ حالات گر یوں ہو تو کیا مالی کریں : از : محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل نما از: محمد حفیظ الرحمٰن صورتِ حالات گر یوں ہوتو کیا مالی کریں جب وہ خود معزول ہوں اور چور رکھوالی کریں دل پہ کیا گزرے گی جب مہماں مرا بن کر کوئی حکم فرمانے لگے کہ آپ گھر خالی کریں ہیں عوام الناس ہی والی اصل اس دیس کے ہم کو ہے منظور جو اس دیس کے والی کریں کس طرح خوش حال...
  6. م

    غزل: رہا یوں ہی نامکمل، غمِ عشق کا فسانا از: اقبال صفی پوری

    غزل اقبال صفی پوری رہا یوں ہی نامکمل، غمِ عشق کا فسانا کبھی مجھ کو نیند آئی، کبھی سو گیا زمانا یہ ادائیں بہکی بہکی، یہ نگاہ ساحرانا کہ جہاں بھی تو نے...
  7. م

    غزل : جب وفا کی راہ میں سینہ سپر ایسے بھی ہیں از: سرور بارہ بنکوی

    غزل سرور بارہ بنکوی جب وفا کی راہ میں سینہ سپر ایسے بھی ہیں سر سے در گزریں گےہم، شوریدہ سر ایسے ہیں زندگی سے بھاگ کر، چھُپ کر حصارِ ذات میں خود سے بھی سہمے ہوئے ہیں، خود نِگر ایسے بھی ہیں جِس طرح بے فیض ہی رہتے ہیں اکثر خود پسند پھولتے پھلتے نہیں ہیں کچھ شجر ایسے بھی ہیں تُو کبھی دیکھے تو...
  8. م

    غزل : اُن تک میری آہوں کا اثر کیوں نہیں جاتا از: محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از: محمد حفیظ الرحمٰن اُن تک مری آہوں کا اثر کیوں نہیں جاتا تلخابہء دل بن کے شرر کیوں نہیں جاتا جاتا ہوں جو اُس بزم میں دُکھ اپنا سُنانے ہمراہ مرے، دیدہء تر کیوں نہیں جاتا رکھتا ہے ترے عشق کے دھوکے میں جو مجھ کو یہ پردہ بھی...
  9. م

    غزل : دل وہ بِگڑا ہوا بچہ ہے کہ جو مانگے گا از: ظفر اقبال

    غزل از: ظفر اقبال دِل وہ بگڑاہوا بچہ ہے کہ جو مانگے گا گر اُسی وقت نہ دیں گے تو مچل جائے گا رات پھرآئے گی، پھر ذہن کے دروازے پر کوئی مہندی میں رنگے ہاتھ سے دستک دے گا دھوپ ہے ، سایہ نہیں آنکھ کے صحرا میں کہیں دید کا قافلہ آیا تو کہاں ٹھہرے گا وہ تو خوشبو ہے ، اُسے چوم سکو گے کیسے مر...
  10. م

    غزل : فلک پر چاندنی ہے اور ستارے رقص کرتے ہیں

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن فلک پر چاندنی ہے اور ستارے رقص کرتے ہیں کسی کے حکم پر سارے کے سارے رقص کرتے ہیں یہ کل شب بر سر پیکار تھے طوفاں کی موجوں سے وہی جو آج دریا کے کنارے رقص کرتے ہیں بہت عرصہ ہوا دیکھی تھی میں نے اک حسیں وادی مری آنکھوں میں اب تک وہ نظارے رقص کرتے ہیں نہ جانے آج کیسی...
  11. م

    ہمارا پیارا سا اسکول (نظم) از :: محمد حفیظ الرحمٰن

    ہمارا پیارا سا اسکول محمد حفیظ الرحمٰن جس میں مہکیں علم کی کلیاں، مہکیں علم کے پھول ایسا ہے اِک باغ ہمارا پیارا سا اسکول اس کی عمارت ہے تعمیر کا اِک عمدہ شہکار اپنی آپ مثال ہے یہ اور خود اپنا معیار یہاں اُگے ہیں علم کے پیپل، برگد اور دیودار علم کے سائے پھیلانے میں ہوگی نہ کوئی بھول جس میں...
  12. م

    غزل : ہے کون دھنک کے رنگوں میں لپٹا ہوا محوِ خرام میاں

    غز ل از : محمد حفیظ الرحمٰن ہے کون دھنک کے رنگوں میں لپٹا ہوا محوِ خرام میاں گر دیکھ لے ہم کو ایک نظر بِک جایئں گےبے دام میاں وہ وعدہ کر کے بھول گیا تم کب تک رستہ دیکھو گے اب دِن تو سارا بِیت چکا اور ہونے آئی شام میاں اب جاہ و حشم کی حسرت کیا اب نام و نمود کی خواہش کیا جب ساری عمر گزاری...
  13. م

    غزل : لے آئی ہم کو گردشِ دوراں کباڑ میں : از محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن لے آئی ہم کو گردشِ دوراں کباڑ میں اب ڈھونڈیئے حیات کے ساماں کباڑ میں گدڑی کا لعل گر نہ کہیں ، ان کو کیا کہیں دیکھے ہیں ہم نے لعلِ بدخشاں کباڑ میں ڈھونڈا عبث علاجِ غمِ دل جگہ جگہ رکھا تھا جبکہ درد کا درماں کباڑ میں چاہِ ذقن و چاہِ زنخداں کی کیا کہیں جب رُل رہے...
  14. م

    ایک قطعہ از : محمد حفیظ الرحمٰن

    ایک قطعہ محمد حفیظ الرحمٰن رو رو کے جو بہہ گئی ہیں آنکھیں سنتے تو کہ کیا کہہ گئی ہیں آنکھیں دیکھا تھا جو اک اداس منظر اپنی تو وہیں رہ گئی ہیں آنکھیں
  15. م

    غزل صبح کے دھوکے میں پھر شام اٹھا کر لے آئے از ۔ محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل محمد حفیظ الرحمٰن صبح کے دھوکے میں پھر شام اٹھا کر لے آئے چاہا آغاز تھا ، انجام اٹھا کر لے آئے جب پڑا وقت تو سب چھوڑ دیا مال و منال نقدِ دل اور کچھ الزام اٹھا کر لے آئے تیرگی جب بھی کبھی مدِ مقابل آئی اک دیا ہم بھی سرِ شام اٹھا کر لے آئے جام تک اپنی رسائی جو کبھی ہو نہ سکی...
  16. م

    غزل : جوشِ طوافِ کوچہء جاناں کو دیکھ کر : برائے اصلاح از: محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن جوشِ طوافِ کوچہء جاناں کو دیکھ کر ہر جنبشِ زمیں پہ ہیں قرباں کئی فلک جھپٹے ہیں مرغِ قبلہ نما پر کئی عقاب دیکھی تھی اس کی دور سے بس ایک ہی جھلک سطحِ قمر پہ دیکھ کے انساں کے نقشِ پا حیراں ہے حور خلد میں تو عرش پر ملک یومِ الست بھولی ہوئی بات ہی سہی آتی...
  17. م

    غزل برائے اصلاح: وقت جو بیت گیا اس کو صداکیا دینا: محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از: محمد حفیظ الرحمٰن وقت جو بیت گیا اس کو صدا کیا دینا بجھ چکی آگ تو پھر اس کو ہوا کیا دینا جس کا بالکل بھی نہ ہو لوٹ کے آنے کا خیال پھر اسے لوٹ کے آنے کی دعا کیا دینا فاصلے لاکھ سہی، دل میں تو بستا ہے وہی اتنے نزدیک سے آواز بھلا کیا دینا جرم ثابت ہو، گواہی بھی ہو، لیکن پھر بھی سر...
  18. م

    حمد: ہوتا ہے ترے نام سے آٍغاز مرا دن : محمد حفیظ الرحمٰن

    حمد از: محمد حفیظ الرحمٰن ہوتا ہے ترے نام سے آغاز مرا دن ہوتی ہے ترے نام سے انجام مری شام اے اول و آخر ترا ہر نام ہے پیارا مومن کے لئے وجہِ سکوں ہے ترا ہر نام قائم ہے ترا تخت سرِ عرشِ بریں پر ہے بات یہ لاریب نہیں اس میں کچھ ابہام ہے کون و مکاں کیا؟ تری قدرت کا کرشمہ اک "کن" کے...
  19. م

    غزل: ہم شکوہءدامان وگریباں نہ کریں گے : از: محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن ہم شکوہء دامان و گریباں نہ کریں گے دعواےء محبت بھی مری جاں نہ کریں گے ویرانیء دل راس نہ آئے تو ہمیں کیا اس دل کو مگر سروِ چراغاں نہ کریں گے خم خانہء...
  20. م

    غزل: دو قدم ساتھ چل کے لوٹ گئے : از : محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن دو قدم ساتھ چل کے لوٹ گئے لوگ رستہ بدل کے لوٹ گئے ہم سمجھتے تھے ساتھ ساتھ ہیں وہ پھر سنا یہ کہ کل کے لوٹ گئے وہ جو خوگر تھے گرم موسم کے ٹھنڈی چھاؤں میں جل کے لوٹ گئے آپ مشکل میں میرے پاس آئے چار دن میں سنبھل کے لوٹ گئے جانے کیوں اتنے پیش و پس میں تھے آپ گھر...
Top